’عدالت بل کے معاملے میں مداخلت نہیں کرسکتی‘

آخری وقت اشاعت:  جمعـء 15 فروری 2013 ,‭ 20:33 GMT 01:33 PST

اظہر صدیق ایڈووکیٹ کے بقول کہ نئے صوبوں کی تشکیل یا ان کی حدود میں تبدیلی صرف نئی آئین ساز اسمبلی ہی کرسکتی ہے

پاکستان کے لاہور ہائی کورٹ میں نئے صوبوں کی تشکیل کے خلاف دائر ایک طرح کی مختلف درخواستوں کی سماعت کے دوران وفاقی حکومت کے وکیل نے کہا کہ عدالت اسمبلی میں پیش کیے جانے والے بل کے معاملے میں مداخلت نہیں کرسکتی۔

جعمرات کو لاہور ہائی کورٹ کے جسٹس خالد محمود خان نے جب درخواستوں پر سماعت شروع کی تو درخواست گزار وکیل اظہر صدیق نے یہ نکتہ اٹھایا کہ آئین کے آرٹیکل ایک میں نئے صوبوں کی حدود اور ان کی تعداد کا تعین کردیا گیا ہے جن کو تبدیل نہیں کیا جاسکتا۔

درخواست گزار وکیل نے موقف اختیار کیا کہ آئین میں صوبوں کی حددو میں تبدیلی کا جواختیار دیا گیا ہے اس کا مطلب نیا صوبہ بنانا نہیں ہے۔

اظہر صدیق ایڈووکیٹ کے بقول کہ نئے صوبوں کی تشکیل یا ان کی حدود میں تبدیلی صرف نئی آئین ساز اسمبلی ہی کرسکتی ہے۔

اس کے جواب میں وفاقی حکومت کے وکیل نے درخواستوں پر اعتراض کرتے ہوئے کہا کہ عدالت اسمبلی میں پیش کیے جانے والے بل کے معاملے میں مداخلت نہیں کرسکتی۔

درخواست گزار وکیل اظہر صدیق نے صوبوں کی تشکیل کے لیے کمیشن قائم کرنے پر اعتراض بھی کیا اور کہا کہ نئے صوبے کی تشکیل یا صوبے کی حدود میں رد بدل کے لیے کمشین کی تشکیل غیر آئینی ہے۔

جسٹس خالد محمود خان نے درخواست گزار وکیل سے استفسار کیا کہ کیا نئے صوبوں کے قیام کے لیے ریفرنڈم نہیں کرایا جاسکتا۔

نئے صوبوں کی تشکیل کے خلاف درخوستوں پر اب کارروائی اٹھارہ فروری کو ہوگی۔

اسی بارے میں

متعلقہ عنوانات

BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔