ٹارگٹ کلنگ کی تحقیقات کی جائیں: پشاور ہائی کورٹ

آخری وقت اشاعت:  جمعـء 15 فروری 2013 ,‭ 19:19 GMT 00:19 PST
پیشاور ہائی کورٹ

پیشاور میں ان دنوں ٹارگٹ کلنگ کے واقعات پیش آ رہے ہیں

پشاور ہائی کورٹ نے شہر میں جاری ٹارگٹ کلنگ کے واقعات کا نوٹس لیتے ہوئے اس کی اعلیٰ سطح پر تحقیقات کرانے اور پولیس اہلکاروں کی جانب سے ایک مقامی وکیل پر وحشیانہ تشدد کرنے کے الزام میں ان کے خلاف مقدمہ درج کرنے کا حکم دیا ہے۔

یہ احکامات پشاور ہائی کورٹ کے چیف جسٹس دوست محمد خان اور جسٹس وقار احمد سیٹھ پر مشتمل دو رکنی بینچ نے جمعرات کو جاری کیے۔

اس موقع پر عدالت میں خیبر پختون خوا پولیس کے سربراہ اکبر خان ہوتی اور پشاور پولیس کے چیف امتیاز الطاف بھی موجود تھے۔

چیف جسٹس دوست محمد خان نے از خود نوٹس کیس کی سماعت کرتے ہوئے پشاور میں چند دن پہلے مارے جانے والے سینیئر وکیل ملک جرار حسین کو ہدف بناکر ہلاک کرنے کا نوٹس لیا۔

انہوں نے کہا کہ پشاور میں ٹارگٹ کلنگ کے واقعات میں اضافہ ہو رہا ہے لیکن پولیس اور سکیورٹی ادارے قاتلوں کی نشاندہی کرنے میں ناکام رہے ہیں۔

انہوں نے حکم جاری کیا کہ ملک جرار حسین کی ہلاکت سمیت ہدف بناکر قتل کے تمام واقعات کی اعلیٰ سطح پر تحقیقات کی جائے تاکہ قاتلوں کو فوری طورپرگرفتار کیا جا سکے۔

پیشاور

پیشاور میں تشدد کے واقعات پر ہائی کورٹ کا نوٹس جاری

عدالت نے پولیس اہلکاروں کی طرف سے پشاور کے ایک وکیل فرقان ایڈوکیٹ کو پولیس تھانہ میں بند کرکے انہیں شدید تشدد کا نشانہ بنانے پر سخت برہمی کا اظہار کیا اور حکم دیا کہ اے ایس پی علی اکبر سمیت تمام ملوث پولیس اہلکاروں کے خلاف فوری طورپر مقدمہ درج کرکے ان کے خلاف انکوائری کی کاروائی کی جائے۔

یاد رہے کہ چند دن قبل پشاور کے ایک نوجوان وکیل فرقان ایڈوکیٹ کو اے ایس پی کینٹ علی اکبر نے دیگر اہلکاروں کی مدد سے گلبرگ تھانہ پشاور کے اندر بند کرکے انھیں وحشیانہ تشدد کانشانہ بنایا تھا جس سے ان کی ناک کی ہڈی ٹوٹ گی تھی۔ بعد میں انہیں زخمی حالت میں ہسپتال میں داخل کردیا گیا تھا۔

اس واقعہ کے دو دن بعد پشاور کے ایک سینیئر وکیل ملک جرار حسین کو دن دہاڑے شہر میں ٹارگٹ کلنگ کے ایک واقعہ میں ہلاک کیا گیا تھا۔

ان دونوں واقعات کے خلاف وکلاء تنظیموں نے احتجاج کرتے ہوئے عدالتوں کا بائیکاٹ کیا اور چیف جسٹس سے ان واقعات کا نوٹس لینے کےلیے ایک درخواست بھی دائر کی تھی۔ یہ بات بھی قابل ذکر ہے کہ زخمی وکیل نیب کے ایک ایس پی عنایت خان کا بیٹا بتایا جاتا ہے۔

اسی بارے میں

BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔