’صدر سے پوچھیں سیاسی سرگرمیاں روکیں گےیا نہیں‘

آخری وقت اشاعت:  جمعـء 15 فروری 2013 ,‭ 13:45 GMT 18:45 PST
لاہور ہائی کورٹ

وفاقی حکومت کے وکیل نے کہا ہےکہ ایوان صدر میں کوئی سیاسی سرگرمیاں نہیں ہورہی ہیں

پاکستانی صدر آصف علی زرداری کے ایک وقت میں دوعہدے رکھنے کےخلاف توہین عدالت کی درخواست کی سماعت کرتے ہوئے لاہور ہائی کورٹ نے صدر کے وکیل کو ہدایت دی ہے کہ وہ صدر سے پوچھ کر بتائیں کہ وہ خود کو سیاسی سرگرمیوں دور رکھیں گےیا نہیں۔

لاہور ہائی کورٹ کےچیف جسٹس مسٹر جسٹس عمر عطاء بندیال کی سربراہی میں قائم فل بنچ نے اُس متفرق درخواست پر بھی وفاقی حکومت کو نوٹس جاری کر دیئے ہیں جس میں موقف اختیار کیا گیا ہے کہ عدالتی احکامات کے باوجود صدر زرداری نے لاہور میں سیاسی گرمیاں جاری رکھیں جو توہین عدالت کے مترادف ہیں۔

جمعہ کو سماعت شروع ہوئی تو وفاقی حکومت کے وکیل وسیم سجاد نے یہ اعتراض اٹھایا کہ درخواست گزار متاثرہ فریق نہیں ہیں۔

انہوں نے نشاندہی کی کہ سیاسی مخالفت کے باوجود کسی سیاسی جماعت کی طرف سے یہ درخواست دائر نہیں کی گئی اور نہ ہی کسی سیاسی جماعت نے اس بارے میں کوئی شکایت کی ہے۔

وفاقی حکومت کے وکیل نے کہا کہ ایوان صدر میں کوئی سیاسی سرگرمیاں نہیں ہو رہی ہیں اور جہاں تک صدر پاکستان کی نجی زندگی کے معاملات ہیں اس میں عدالت کو مداخلت کا اختیار نہیں۔

وسیم سجاد کے مطابق ہائی کورٹ کے فل بنچ نے صدر کے دو عہدوں کے بارے میں جو فیصلہ دیا تھا اس کا اطلاق صدر پاکستان کی نجی زندگی پر نہیں ہوتا۔

وفاقی حکومت کے وکیل نے کہا کہ صدر پاکستان کی ایک ذاتی حیثیت ہے ان میں ان کے دوست احباب شامل ہیں اور وہ نجی طور پر سیاسی شخصیات سے ملاقات اور سیاسی معاملات پر بات کرسکتے ہیں۔

یہ درخواستیں وکیل اے کے ڈوگر اور اظہر صدیق کی طرف سے دائر کی گئی تھیں جس میں استدعا کی گئی کہ عدالت نے صدر آصف علی زرداری کو سیاسی جماعت کا عہدہ چھوڑنے کا حکم دیا تھا لیکن عدالتی احکامات پر عمل درآمد نہیں ہو رہا ہے اس لیے صدر آصف علی زرداری کے خلاف توہین عدالت کی کارروائی کی جائے۔

لاہور ہائی کورٹ کے فل بنچ کے دیگر ارکان میں جسٹس ناصر سعید شیخ ، جسٹس نجم الحسن شیخ ، جسٹس اعجاز الحسن اور جسٹس منصور علی شاہ شامل ہیں۔

فل بنچ کے رکن جسٹس منصور علی شاہ نے استفسار کیا کہ کیا غیر رجسٹرڈ پیپلز پارٹی کے شریک چیئرمین کے طور پر صدر کا عوامی جلسوں میں جانا عدالتی فیصلے کے منافی نہیں ہے۔

وسیم سجاد کے مطابق صدر پاکستان پارلیمان کا حصہ ہیں۔ ان کا منصب ملکہ کی طرح غیرسیاسی نہیں ہے اور انہوں نے دوبارہ انتخاب میں جانا ہے۔

وفاقی حکومت کے وکیل نے کہا کہ پاکستان میں کوئی ایسے صدر نہیں آئے جو متنازعہ نہ رہے ہوں۔ اب انتخابات کاوقت قریب ہے اور سیاسی جماعتیں ایک دوسرے کے خلاف الزام تراشی اور بیانات دیں گی اس موقع پر عدالت خود کو اس سے دور رکھے۔

ہائی کورٹ کے فل بنچ کے فیصلے کے خلاف اپیل دائر نہ کرنے کی وجہ بیان کرتے ہوئے وسیم سجاد نے کہا کہ عدالت نے صدر آصف علی زرداری کی سیاسی سرگرمیوں کے بارے میں کوئی براہ راست حکم نہیں دیا بلکہ توقع کا اظہار کیا گیا ہے اور اس وجہ سے اُس فیصلے کے خلاف اپیل دائر نہیں کی گئی۔

وسیم سجاد نے کہا کہ جہاں تک عدالتی احکامات کا تعلق ہے تو ان کی کوئی خلاف ورزی نہیں کی گئی۔

کارروائی کے دوران اٹارنی جنرل پاکستان عرفان قادر نے بتایا کہ وہ درخواست کے قابل سماعت ہونے اور دیگر نکات پر عدالت کی معاونت کریں گے۔

درخواستوں پر اب مزید کارروائی آٹھ مارچ کو ہوگی۔

اسی بارے میں

متعلقہ عنوانات

BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔