قومی اسمبلی کا آخری اجلاس طلب

آخری وقت اشاعت:  پير 18 فروری 2013 ,‭ 22:10 GMT 03:10 PST

قومی اسمبلی سولہ مارچ کو اپنی مدت مکمل کرے گی

پاکستان کے صدر آصف علی زرداری نے پارلیمان کے دونوں ایوانوں کے اجلاس پیر کی شام کو طلب کرلیے ہیں۔

حکام کے مطابق قومی اسمبلی کا یہ آخری اجلاس ہے جو اٹھائیس فروری تک جاری رہنے کا امکان ہے۔

قومی اسمبلی مارچ کے وسط میں اپنی مدت مکمل کر رہی ہے اور صدرِ پاکستان اسمبلی توڑ کر آئندہ عام انتخابات کا اعلان کریں گے۔

توقع کی جا رہی ہے کہ دونوں ایوانوں کے اجلاس ہنگامہ خیز ہوں گے۔ حکومت جنوبی پنجاب کو صوبہ بنانے اور اراکین پارلیمان کو دوہری شہریت کی اجازت دینے سمیت اہم قانون سازی کے لیے بل پیش کرنا چاہتی ہے۔

اپوزیشن پہلے ہی چیلینج کرچکی ہے کہ وہ جنوبی پنجاب کے صوبے کا بل منظور نہیں ہونے دے گی۔ لیکن حکومت کو اپوزیشن کے ساتھ ساتھ اس چیلینج کا بھی سامنا ہے کہ ان کی ایک اہم اتحادی جماعت متحدہ قومی موومنٹ ان سے علیحدہ ہوچکی ہے۔

پاکستان کی موجودہ قومی اسمبلی اب تک اسی سے زائد قوانین منظور کرچکی ہے جس میں تاریخی آئینی ترامیم بھی شامل ہیں۔ آئینی ترامیم کے تحت جہاں صدر پاکستان کے اختیارات کم کیےگئے وہاں پارلیمان اور وزیراعظم کو مضبوط کیا گیا۔

اٹھارویں آئینی ترمیم کے تحت ڈیڑھ درجن سے زائد وزارتیں وفاق سے صوبوں کو منتقل کی گئیں اور برسوں بعد صوبوں کو خودمختاری دینے کا مسئلہ حل ہوا۔ بیسویں آئینی ترمیم کے ذریعے پاکستان کی تاریخ میں پہلی بار الیکشن کمیشن اپوزیشن کے اتفاق رائے سے بنانے کا فیصلہ ہوا۔

ایسا دنیا میں کم ہی ہوتا ہے کہ نگران حکومت کے قیام پر حکومت اور حزب مخالف کے اختلاف رائے کی صورت میں فیصلے کا اختیار الیکشن کمیشن کو دیا جائے۔ لیکن بیسویں آئینی ترمیم کے ذریعے پاکستان میں یہ اختیار پہلی بار الیکشن کمیشن کو سونپا گیا۔

موجودہ پارلیمان گزشتہ پانچ برسوں میں احتساب کا قانون منظور نہیں کرسکی جبکہ انسداد دہشت گردی کے قانون میں وسیع پیمانے پر ترامیم کا بل بھی تاحال منظور نہیں ہوسکا۔

ماضی میں اکثر طور پر اسمبلیاں وقت سے پہلی توڑی جاتی رہی ہیں اور یہ پہلا موقع ہے کہ عوام کی منتخب کردہ قومی اسمبلی اپنی مدت پوری کر رہی ہے۔ ویسے تو فوجی صدر پرویز مشرف کے دور میں بھی قومی اسمبلی نے مدت مکمل کی تھی لیکن کئی سیاسی جماعتیں کہتی ہیں کہ وہ ’جرنیلی جمہوریت‘ تھی۔

موجودہ قومی اسمبلی کو یہ اعزاز بھی حاصل رہا کہ پہلی بار قائد حزب اختلاف کو حکومتی احتساب کے لیے پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کا سربراہ بنایا گیا۔ لیکن یہ اور بات ہے کہ گزشتہ برس وہ اختلافات کی وجہ سے مستعفی ہوگئے۔

حکومت اور حزب مخالف نے مل کر فوجی قیادت کو پہلی بار پارلیمان کو جوابدہ بنایا۔

پروگرام کے مطابق قومی اسمبلی کا پیر کی شام سے شروع ہونے والا سیشن اٹھائیس فروری تک جاری رہے گا اور یہ اسمبلی سولہ مارچ کو اپنی مدت مکمل کرے گی۔ رواں سیشن کے دوران امکان ہے کہ نگران حکومت کے قیام اور آئندہ انتخابات کے بارے میں معاملات طے پاجائیں گے۔

اسی بارے میں

متعلقہ عنوانات

BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔