لکھنے والا پڑھتا کیوں نہیں؟

آخری وقت اشاعت:  اتوار 17 فروری 2013 ,‭ 12:21 GMT 17:21 PST

کراچی کا بین الاقوامی ادبی میلہ برے حالات کے بھنور میں ایک ایسا جزیرہ بن گیا ہے جہاں سال میں تین دن ہی سہی مگر فکری آکیسجن کی وافر مقدار میسر آجاتی ہے۔ ویسے بھی پاکستان میں ایسی کتنی جگہیں باقی ہیں جہاں بات کرنے سے پہلے آپ کو ادھر ادھر نہ دیکھنا پڑے۔

اپنی کہنے سے پہلے مخاطب کا علاقائی اور ذہنی پس منظر ملحوظ نہ رکھنا پڑے اور مشرق و مغرب سے جمع ہونے والی شخصیات و شرکاء کو بلاتعصب سننے کا موقع مل سکے۔ آپ جو چاہیں سوال کرسکیں اور وہ جو چاہیں جواب دے سکیں۔

اگر اس ادبی میلے میں کوئی انتظامی قباحت ہے تو یہ کہ روزانہ تین سیشنز میں آٹھ مختلف ہالز یا لانز پر بیک وقت کچھ نہ کچھ ایسا ہوتا رہا کہ اکثر جی چاہتا تھا کہ ان آٹھ میں سے کم ازکم تین مقامات پر موجود رہا جائے۔ مگر یہ ممکن نہیں چنانچہ دن بھر میں ہونے والی چوبیس تقریبات میں سے مجھ سمیت ہر شریک کے حصے میں اوسطاً تین تقریبات ہی آسکیں۔

یہ قباحت کیسے دور ہو؟ شاید ایک طریقہ ہے کہ میلے کے منتظمین تمام تقریبات کی ایک اجتماعی ویڈیو بنا کر فروخت کریں تاکہ جنہیں نہیں سنا اور دیکھا جاسکا انہیں دیکھا اور سنا جاسکے۔

ان تین دنوں میں مجھے پہلی مرتبہ یہ مشاہدہ بھی نصیب ہوا کہ لکھاری اور مبصرین ایک قبیلہ ہیں اور سننے اور پڑھنے والے دوسرا قبیلہ۔ میں نے اکثر مصنفین کو اپنی کتابوں پر تو دستخط کرتے دیکھا لیکن کسی اور مصنف کی کتاب خریدتے بہت کم دیکھا۔ اور یہ رونا روتے ہوئے بھی سب سے زیادہ لکھاری دکھائی دیے کہ صاحب کیا زمانہ آگیا ہے کہ کتابیں خریدنے اور پڑھنے کا ذوق و شوق نایاب ہوتا جارہا ہے۔ پہلے جو کتاب ہزار چھپ جاتی تھی اب پانچ سو چھپ رہی ہے اور ان میں سے بھی آدھی سے زیادہ کتابیں بطور وزیٹنگ کارڈ بانٹنا پڑتی ہیں۔

کتاب خریدتے بہت کم دیکھا

ان تین دنوں میں مجھے پہلی مرتبہ یہ مشاہدہ بھی نصیب ہوا کہ لکھاری اور مبصرین ایک قبیلہ ہیں اور سننے اور پڑھنے والے دوسرا قبیلہ۔ میں نے اکثر مصنفین کو اپنی کتابوں پر تو دستخط کرتے دیکھا لیکن کسی اور مصنف کی کتاب خریدتے بہت کم دیکھا۔

میں ان شکوہ کناں مصنفین سے گفتگو کے دوران مسلسل یہ آنکڑے لگاتا رہا کہ پاکستان کی اٹھارہ کروڑ آبادی میں کم ازکم پانچ ہزار تو ایسے ہوں گے جن کی کوئی نثری یا شعری کتاب شائع ہوئی ہو۔ اگر یہ پانچ ہزار ہی اپنی یا کسی اور کی کتاب خریدنے کی علت میں مبتلا ہوجائیں تو ہر ایک کی کم ازکم پانچ ہزار کتابیں تو ضرور فروخت ہو جائیں گی۔

مگر میلے میں شریک ایک شاعر نے کہا کہ میاں تم تخلیق کاروں کے ہاں قلتِ مطالعہ کو رو رہے ہو یہاں تو اکثر شاعر اور نثر نگار اپنی کتاب بھی خرید کر نہیں پڑھتے ۔ اور جہاں تک دیگر مصنفین کو پڑھنے کا معاملہ ہے تو اس میں سب سے بڑی نفسیاتی رکاوٹ یہ ہے کہ اگر میں نے کسی اور کو پڑھ لیا تو پھر میرا اوریجنل تھاٹ پروسس متاثر ہوسکتا ہے۔

چنانچہ خالص تخلیقی عمل کے لیے ازبس ضروری ہے کہ ادیب اسے کسی اور کی کتاب یا گفتگو یا سوچ کے تازہ زاویے سے آلودہ نہ ہونے دے۔ اگر لکھنے والے بھی پڑھنے لگ جائیں تو پھر لکھیں گے کب اور لکھیں گے کیا؟ لہٰذا لکھنے اور پڑھنے والوں کو علیحدہ علیحدہ قبیلوں میں ہی رہنے دو اور اب تم سامنے کے سٹال سے میری کتاب خرید لاؤ تاکہ میں اس پر دستخط کرکے تمہیں پیش کرسکوں۔

اس میلے کو میڈیا نے بھی با احسن کور کیا۔ جوشیلے نیوز اینکر جگہ جگہ پیس ٹو کیمرہ کرتے دکھائی دیے۔ مگر کیا انہوں نے کوئی تیاری بھی کررکھی تھی یا صرف چینل کا حکم بجا لارہے تھے؟

میں نے ایک اینکر کو دیکھا جو بھارت سے آئے ہوئے سرکردہ اردو نقاد شمیم حنفی کے آس پاس منڈلا رہا تھا۔ بالآخر شمیم صاحب راضی ہوگئے۔

(اینکر) بہت شکریہ جناب اپنی گوناگوں مصروفیت سے وقت نکلنے کا۔ اچھا یہ فرمایے انتظار حسین صاحب کے آج کی نسل کا ادب سے رشتہ کمزور کیوں پڑتا جارہا ہے۔

اسی بارے میں

متعلقہ عنوانات

BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔