پشاور: شدت پسندی کے واقعات میں اضافہ

آخری وقت اشاعت:  منگل 19 فروری 2013 ,‭ 15:30 GMT 20:30 PST

خیبر پختون خوا میں اس سال دہشت گردی کے 50 واقعات ہو چکے ہیں

پاکستان کے صوبے خیبر پختونخوا کے دارالحکومت پشاور میں گذشتہ روز پولیٹیکل ایجنٹ کے دفتر پر شدت پسندوں کا حملہ صوبے میں اس سال کے ڈیڑھ ماہ میں دہشت گردی اور شدت پسندی کا پچاسواں واقعہ ہے۔

ان پچاس واقعات میں 28 شدت پسندوں سمیت کوئی ڈیڑھ سو افراد ہلاک اور 160 افراد زخمی ہوئے ہیں۔

خیبر ایجنسی کے پولیٹیکل ایجنٹ کا دفتر خیبر ہاؤس چھاونی کے علاقے میں واقع ہے۔

خیبر ہاؤس پر گذشتہ روز کیے گئے حملے میں زخمی ہونے والے اسسٹنٹ پولیٹیکل ایجنٹ خالد ممتاز کنڈی منگل کوزخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے ہلاک ہو گئے۔ اس واقعے میں پانچ اہلکاروں سمیت آٹھ افراد ہلاک ہوئے تھے۔

خیبرپختونخوا میں شدت پسندی کے واقعات میں ایک مرتبہ پھر اضافہ دیکھا جا رہا ہے۔ ان واقعات میں سرکاری عہدیداروں، سکیورٹی اہلکاروں، پشاور میں شیعہ افراد کی ٹارگٹ کلنگ، سوات میں تبلیغی مرکز پر حملہ، این جی اوز اور انسدادِ پولیو کے قطرے پلانے والی ٹیموں پر حملے نمایاں رہے ہیں۔

اس سال کے 48 دنوں میں 50 واقعات پیش آئے ہیں جن میں کچھ حملوں میں کوئی جانی نقصان بھی نہیں ہوا ہے جیسے سکولوں اور سی ڈیز کی دکانوں پر حملووں میں کسی جانی نقصان کی اطلاع نہیں ہے۔ جن حملوں میں نقصان ہوا ان میں 122 عام شہری اور سکیورٹی اہلکار ہلاک ہوئے جبکہ مختلف واقعات میں 28 شدت پسند مارے گئے۔

اس سال کے پہلے روز صوابی میں ایک غیر سرکاری تنظیم سے وابستہ خواتین کو اس وقت فائرنگ کر کے ہلاک کر دیا گیا جب وہ ایک سکول میں بچوں کو پڑھانے جا رہی تھیں۔ صرف یہی نہیں ڈیڑھ ماہ میں پشاور، چارسدہ اور نوشہرہ میں انسدادِ پولیو کے قطرے پلانے والی ٹیموں پر حملے کیے گئے جن میں خواتین کو بھی نشانہ بنایا گیا۔

پشاور میں شیعہ افراد کی ٹارگٹ کلنگ سے علاقے میں تشویش پائی جاتی ہے۔ رواں سال کے گذشتہ ماہ میں معروف ڈاکٹر ریاض حسین کو ڈبگری جیسے مصروف علاقے میں قتل کر دیا گیا تھا۔ اس کے بعد ایک ایڈیشنل سیشن جج پر حملہ کیا گیا جس میں وہ شدید زخمی ہوئے تھے اور اس کے بعد 22 جنوری کو پشاور میں ماہر امراض چشم ڈاکٹر شاہ نواز کو ان کے کلینک میں قتل کر دیا گیا تھا۔

فروری میں معروف کیل ملک جرار حسین کے قتل سے علاقے میں تشویش مزید بڑھ گئی۔

شیعہ مسلک سے وابستہ افراد پر ہنگو اور دیگر علاقوں میں بھی حملے ہوئے ہیں جس میں بڑے پیمانے پر ہلاکتیں ہوئی ہیں۔ ان میں یکم فروری کو ہنگو کی ایک مسجد میں نماز کے وقت دھماکے سے 28 افراد ہلاک اور 46 زخمی ہو گئے تھے۔

اس سال صرف شیعہ مسلک کے افراد پر ہی حملے نہیں کیے گئے بلکہ پہلی مرتبہ ایک تبلیغی مرکز پر حملے میں 30 افراد ہلاک اور 70 زخمی ہو گئے تھے۔ یہ واقعہ دس جنوری کو سوات میں تختہ بند روڈ پر واقع تبلیغی مرکز میں پیش آیا تھا۔

ایسا نہیں ہے کہ یہ واقعات اچانک اسی سال شروع ہوئے ہیں بلکہ ان کی جڑیں گذشتہ سال کے آخر میں پیش آنے والے واقعات سے ملتی ہیں۔

وزارت داخلہ نے دسمبر میں ایک خط میں تمام اداروں کو تنبیہ کی تھی کہ پشاور کے مضافات میں بڈھ بیر، متنی اور ایف آر پشاور کے علاقوں میں شدت پسندوں کی بڑھتی ہوئی کارروائیوں کی وجہ سے پشاور میں حملے ہو سکتے ہیں۔ اس خط کے جاری ہونے کے چند روز بعد ہی شدت پسندں نے پشاور ایئر پورٹ پر حملہ کر دیا تھا۔

اسی بارے میں

متعلقہ عنوانات

BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔