سانحہ کوئٹہ: مذاکرات کے بعد دھرنے ختم کرنے کا اعلان

آخری وقت اشاعت:  منگل 19 فروری 2013 ,‭ 16:12 GMT 21:12 PST

حکومتی یقین دہانی کے بعد میتوں کی تدفین کا اعلان کر دیا گیا

سانحہ ہزارہ ٹاؤن میں جاں بحق ہونے والوں کے لواحقین اور مجلس وحدت المسلمین نے ملک بھر میں جاری دھرنے ختم کرنے کا اعلان کیا ہے۔

کوئٹہ میں مجلسِ وحدت المسلمین کے نائب صدر علامہ امین شہیدی نے میڈیا سے بات کرتے ہوئے کہا کہ حکومت کی جانب سے یقین دہانی کے بعد دھرنا ختم کر دیا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ حکومتی اعلان کے بعد بعض نوجوانوں نے اعتراض کیا تھا لیکن یہ تاثر غلط تھا کہ شہدا کےاہلخانہ نےدھرنا ختم کرنے کا فیصلہ قبول نہیں کیا۔

علامہ امین شہیدی کا کہنا تھا کہ شہدا کے لوحقین کو اعتماد میں لے کر تمام فیصلے کیے گئے اور وہاں موجود 113 شہدا کے ورثا نے تدفین پر رضا مندی ظاہر کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ بدھ کی صبح 9 بجے میتوں کی تدفین کی جائے گی۔

واضح رہے کہ سینیچر کو کوئٹہ میں ہونے والے حملے کے بعد ملک بھر میں ہونے والے دھرنے حکومت سے مذاکرات کے بعد بھی جاری رہے تھے۔

امین شہیدی نے میڈیا سے بات کرتے ہوئے یہ بھی کہا تھا کہ اگرچہ مجلس کی طرف سے تین رکنی کمیٹی نے، جس کے وہ خود بھی رکن تھے، حکومتی یقین دہانی کے بعد دھرنے ختم کرنے اور بدھ کے روز لاشوں کی تدفین کروانے کا اعلان کر دیا تھا، تاہم ہلاک ہونے والوں کے لواحقین نہیں مانے۔

انھوں نے تفصیل بتاتے ہوئے کہا، ’ہماری بات سے شہدا کے لواحقین زیادہ اہمیت رکھتے ہیں، انھیں مطمئن کرنا ضروری ہے۔‘

ہمارے نمائندے کے مطابق کوئٹہ میں مجلس کے اراکین نے دھرنے کے مقام پر آ کر مظاہرین سے دھرنا ختم کرنے کے لیے کہا لیکن انھوں نے انکار کر دیا اور کہا کہ جب تک ہمارے مطالبے نہیں مانے جاتے، دھرنے جاری رہیں گے۔

مجلسِ وحدت المسلمین نے دھرنے ختم کرنے کا اعلان کیا لیکن مظاہرین نے ان کی بات ماننے سے انکار کر دیا

علامہ امین شہیدی نے پی ٹی وی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ لواحقین کے دو مطالبات ہیں: کوئٹہ شہر کو فوج کے حوالے کیا جائے اور جیلوں میں بند وہ مجرم جن کی پھانسی کے حکم نامے آ چکے ہیں، ان پر عمل درآمد کیا جائے۔ علامہ نے کہا کہ ان مطالبات کو منوانے کے لیے حکومت سے دوبارہ بات کی جائے گی۔

اس سے قبل پاکستان کے وزیرِاطلاعات قمر زمان کائرہ نے کہا تھا کہ کوئٹہ میں کل رات سے عسکریت پسندوں کے خلاف آپریشن جاری ہے جس میں اب تک 170 افراد گرفتار کیے جا چکے ہیں۔

انھوں نے کوئٹہ میں ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ جب تک تمام مجرموں کا صفایا نہیں ہو جاتا، آپریشن جاری رہے گا۔

انھوں نے کہا کہ شيعہ ہزارہ برادري کے تمام جائز مطالبات مان لیے گئے ہیں اور ان سے گزارش کی ہے کہ وہ تدفین کا عمل شروع کر دیں۔

منگل کے شام کو ملی یکجہتی کونسل نے حکومتی وفد سے مذاکرات کے بعد ملک بھر میں احتجاجی دھرنے ختم کرنے کا اعلان کر دیا تھا۔ کونسل نے ملک بھر میں دھرنے کے شرکا سے اپیل کی تھی کہ وہ اپنے اپنے گھروں کو واپس چلے جائیں۔

ٹارگٹڈ آپریشن

اس سے قبل سنیچر کو ہونے والے حملے کے بعد وزیرِاعظم راجہ پرویز اشرف نے بلوچستان میں ٹارگٹڈ آپریشن کا حکم دیا تھا۔

وزیر اعظم نے بلوچستان میں اعلیٰ عہدوں پر فائز کئی پولیس افسران کو بھی تبدیل کر دیا تھا۔

سرکاری ٹی وی پی ٹی وی کے مطابق وزیر اعظم پاکستان راجہ پرویز اشرف نے بلوچستان کے آئی جی طارق عمر خطاب کو تبدیل کر کے مشتاق سکھیرا کو بلوچستان کا نیا آئی جی مقرر کر دیا۔

خیال رہے کہ اس سے پہلے مجلس وحدت المسلمین پاکستان نے حکومت سے مطالبہ کیا تھا کہ کوئٹہ کو سویلین کنٹرول سے نکال کر فوج کے حوالے کر دیا جائے اور عسکریت پسندوں کے خلاف ٹارگٹڈ آپریشن کیا جائے۔

ادھر فرنٹیر کانسٹیبلری کے ایک اہلکار کے مطابق کوئٹہ کے علاقے سریاب میں کلے قمبرانی کے کلے بادیزئی میں منگل کو آپریشن کے نتیجے میں چار مشتبہ افراد ہلاک کر دیے جبکہ سات دیگر کو گرفتار کیا گیا جن کا تعلق لشکر جھنگوی سے ہے۔

انھوں نے کہا کہ ہلاک ہونے والوں کا تعلق کوئٹہ، رحیم یار خان، کوہلو اور کراچی سے ہے۔

ایف سی اہلکار نے بتایا کہ آپریشن میں دھماکا خیز مواد اور اسلحہ بھی برآمد کیا گیا۔

کالعدم سنی تنظیم لشکرِ جھنگوی نے ہفتے کو ہونے والے حملے کی ذمے داری قبول کر لی تھی جس میں 89 افراد مارے گئے تھے۔ ہلاک ہونے والوں کی اکثریت کا تعلق ہزارہ شیعہ برادری سے تھا۔

اسی بارے میں

متعلقہ عنوانات

BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔