اہلیت کی جانچ پڑتال کے لیے کمیٹی قائم

آخری وقت اشاعت:  بدھ 20 فروری 2013 ,‭ 15:33 GMT 20:33 PST

امیدواروں کی اہلیت کی جانچ پڑتال کے لیے مقررہ مدت بڑھانے کے لیے آئین میں تبدیلی کرنا ہو گی: الیکشن کمیشن

پاکستان میں آئندہ انتخابات کے لیے ماضی میں بنکوں کے نادہندہ یا احتساب کی زد میں رہنے والے امیدواروں کی اہلیت کی بروقت جانچ پڑتال کا طریقۂ کار طے کرنے کے لیے پانچ قومی اداروں پر مشتمل کمیٹی قائم کر دی گئی ہے۔

سیکرٹری الیکشن کمیشن اشتیاق احمد خان کا کہنا ہے کہ انتخابات کے لیے تجویز کردہ تمام قواعد پراس وقت تک عمل ممکن نہیں جب تک صدر پاکستان ان کی منظوری نہ دے دیں۔

سیکرٹری الیکشن کمیشن کا کہنا ہے کہ امیدواروں کی اہلیت کی جانچ پڑتال کی مدت بڑھانے کے لیے آئین میں تبدیلی کرنا ہوگی۔

اسلام آباد میں الیکشن کمیشن کی عمارت میں چیف الیکشن کمشنر جسٹس ریٹائرڈ فخرالدین جی ابراہیم کی زیرصدارت اعلیٰ سطحی اجلاس منعقد ہوا جس میں گورنرسٹیٹ بنک، چیئرمین ایف بی آر، نیب اورنادرا حکام نے شرکت کی۔

اجلاس میں اس بات کا تفصیلی جائزہ لیا گیا کہ الیکشن کمیشن آف پاکستان کو کیسے اس قابل بنایا جائے کہ وہ ان امیدواروں کا راستہ روک سکے جو ماضی میں کسی بھی مالی یا اخلاقی جرم میں ملوث رہے ہوں۔

اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ نیب الیکشن کمیشن کو ہر صوبے میں نیب سے سزا یافتہ لوگوں کا ریکارڈ فراہم کرے گا جبکہ نادرا دہری شہریت کے حامل لوگوں کا ریکارڈ بھی الیکشن کمیشن کو دے گا اسی طرح امیدوارکے اہل خانہ کے بنک ڈیفالٹر یا قرض نادہندہ ہونے کے معاملے پر بھی نادرا الیکشن کمیشن سے تعاون کرے گا۔

اس کے علاوہ نادرا کے فیملی ٹری کے ذریعے اہل خانہ کا ریکارڈ بھی دیکھا جائےگا پانچوں اداروں کے نمائندوں پر مشتمل کمیٹی کے اراکین کے ناموں کا اعلان جلد کیا جائے گا۔

اجلاس کے اختتام پرمیڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے سیکرٹری الیکشن کمیشن اشتیاق احمد خان کا کہنا تھا کہ امیدواروں کی اہلیت کی جانچ پڑتال کے لیے مقررہ مدت بڑھانے کے لیے آئین میں تبدیلی کرنا ہوگی اور اس حوالے سے الیکشن کمیشن صرف تجویز دے سکتا ہے جس پرعمل کرنا یا نا کرنا پارلیمان کی ذمہ داری اوراختیار ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ پارلیمان کی مدت ختم ہونے کے ساٹھ دن کے بعد انتخابات ہونگے اور الیکشن کمیشن انتخابات کروانے کے لیے تیار ہے تاہم انہوں نے شفاف انتخابات کے لیے جو قواعد بنائے ہیں ان کی منظوری صدر پاکستان نے دینی ہوتی ہے اور جب تک وہاں سے اس کی منظوری نہیں آتی تب تک الیکشن کمیشن خود سے کچھ نہیں کر سکتا۔

ان کا کہنا تھا کہ گورنر سٹیٹ بنک یاسین انور اورایف بی آر بھی ان سے تعاون کے لیے تیار ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ وہ آئین کے آرٹیکل تریسٹھ کے تقاضے پورے کریں گے۔

اسی بارے میں

متعلقہ عنوانات

BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔