کراچی میں بدامنی کی روک تھام کی تفصیلات

آخری وقت اشاعت:  جمعرات 21 فروری 2013 ,‭ 07:56 GMT 12:56 PST

سندھ ہائی کورٹ کے چیف جسٹس نے ڈی جی رینجرز، آئی جی سندھ پولیس کو ایک پروفارما بھیجا ہے جس میں ان سے مختلف نوعیت کے واقعات کی تفصیلات طلب کی ہیں

سندھ ہائی کورٹ کے چیف جسٹس مشیر عالم نے پولیس اور رینجرز سے کراچی میں بدامنی کی روک تھام کے لیے اٹھائے گئے اقدامات کی تفصیلات طلب کرلی ہیں۔

چیف جسٹس نے ڈی جی رینجرز، آئی جی سندھ پولیس کو ایک پروفارما بھیجا ہے، جس میں شہر میں ٹارگٹ کلنگ، بھتہ خوری، اغوا برائے تاوان کے واقعات، ان میں ہونے والی ہلاکتوں، گرفتاریوں اور عدم گرفتاریوں کی تفصیلات تین روز کے اندر پیش کی جائیں۔

عدالت نے پولیس اور رینجرز کے ایسے اہلکاروں جو اپنے فرائض کی انجام دہی میں ناکام رہے ان کی اور ان پر عائد کیے گئے جرمانوں کی تفصیلات بھی طلب کی ہیں۔

یاد رہے کہ کراچی بدامنی کیس کے فیصلے کے تحت سپریم کورٹ نے سندھ ہائی کورٹ کے چیف جسٹس کو اس بات کا پابند بنایا تھا کہ وہ تمام متعلقہ محکموں سے پیش رفت معلوم کرکے ہر ماہ رپورٹ تیار کریں گے۔

کراچی بدامنی کیس کے فیصلوں پر عملدرآمد کی سماعت 25 فروری کو ہونی ہے جس سے قبل یہ سب تفصیلات طلب کی گئی ہیں۔

یاد رہے کہ کراچی سے گزشتہ ڈیڑھ ماہ کے دوران پانچ بلوچ نوجوانوں کی لاشیں ملی ہیں، جو بلوچستان کے مختلف علاقوں سے لاپتہ قرار دیے گئے تھے۔ اس سے پہلے ملک کے سب سے بڑے شہر سے بلوچ نوجوانوں کی گمشدگی کے تو کئی واقعات نظر آئے ہیں مگر لاشیں ملنے کا نیا رجحان سامنے آ رہا ہے۔

سرجانی کے علاقے سے پیر کو دو نوجوانوں کی لاشیں ملیں۔ پولیس کے مطابق یہ لاشیں ناردرن بائی پاس کے سامنے پڑی ہوئی تھیں۔ ایس ایچ او سرجانی اعجاز راجپر نے بی بی سی کو بتایا کہ مقتولین کی جیبوں میں پرچیاں موجود تھیں جن پر ان کے نام نعمت اللہ اور اختر رند تحریر تھے۔

اسی بارے میں

متعلقہ عنوانات

BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔