’شاہ زیب کیس کا فیصلہ 7 روز میں کریں‘

آخری وقت اشاعت:  جمعـء 22 فروری 2013 ,‭ 09:12 GMT 14:12 PST

پاکستان میں سپریم کورٹ نے کراچی میں ہلاک کیے جانے والے ایک نوجوان شاہ زیب کے قتل کے مقدمے کے بارے میں از خود نوٹس میں انسداد دہشت گردی کی عدالت کو روزانہ کی بنیاد پر اس مقدمے کی سماعت کرتے ہوئے سات روز میں فیصلہ سُنانے کا حکم دیا ہے۔

عدالت کا کہنا تھا کہ قتل کی حد تک تو اس معاملے کو از خود نوٹس کے کیس میں نمٹا دیا گیا ہے جبکہ اس مقدمے کے مرکزی ملزم شاہ رخ جتوئی کو بیرون ملک فرار کروانے کے ذمہ داروں کے خلاف کارروائی ابھی ہونا باقی ہے۔

چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری کی سربراہی میں سپریم کورٹ کے تین رکنی بینچ نے جمعے کو شاہ زیب قتل سے متعلق از خود نوٹس کی سماعت کی۔

وفاقی تحقیقاتی ادارے یعنی ایف آئی اے کے ڈائریکٹر عبدالمالک نے عدالت کو بتایا کہ شاہ رخ جتوئی کے دوبئی فرار ہونے سے متعلق کراچی ائیرپورٹ کی سی سی ٹی وی فوٹیج نہیں مل سکی جس میں ملزم فرار ہوتے ہوئے نظر آرہا ہو۔

بینچ میں موجود جسٹس شیخ عظمت سعید نے ریمارکس دیے کہ شاہ رخ جتوئی ایف آئی اے کے ایمگریشن کاونٹر سے گُزر کر ہی دوبئی جانے کے لیے جہاز میں سوار ہوئے ہوں گے یہ تو نہیں ہوسکتا کہ ملزم کو ہیلی کاپٹر کے ذریعے جہاز تک لے جایا گیاہوگا۔

ایف آئی اے کے ڈائریکٹر نے الزام عائد کیا کہ ملزم کو بیرون ملک فرار کروانے میں پی آئی اے کے پروٹوکول کا عملہ ملوث ہے۔ اُنہوں نے عدالت سے استدعا کی کہ وہ پی آئی اے کے عملے کو وہ فوٹیج فراہم کرنے کے بارے میں احکامات جاری کریں جس پر چیف جسٹس کا کہنا تھا کہ کیا اب عدالت ایف آئی اے کے کام بھی کرے گی۔

چیف جسٹس نے کہا کہ ایف آئی اے ملک میں جرائم کو فروغ دے رہی ہے۔ چیف جسٹس کا کہنا تھا کہ ملزم شاہ رخ جتوئی کو بیرون ملک فرار کروانے کے ذمہ داروں کے خلاف کوئی کارروائی نہیں ہو رہی۔ اُنہوں نے کہا کہ ابھی تک صرف دو افراد کو حراست میں لیا گیا ہے جن میں ٹریول ایجنٹ اور بورڈنگ کارڈ جاری کرنے والا اہلکار شامل ہے۔

اُنہوں نے کہا کہ اگر کسی عام شخص سے ایسا جُرم سرزد ہوتا تو اُسے فوری طور پر گرفتار کیا جاتا جبکہ یہ جُرم ایک بااثر شخصیت نے کیا ہے اس لیے متعلقہ حکام لیت ولعل سے کام لے رہے ہیں۔ ایف آئی اے کے ڈائریکٹر کا کہنا ہے کہ شاہ رخ جتوئی کے پاسپورٹ پر ایگزٹ کی مہر نہیں لگی ہوئی۔ عدالت نے ایف آئی اے کی جانب سے پیش کردہ رپورٹ پر عدم اعتماد کا اظہار کرتے ہوئے ڈائریکٹر جنرل ایف آئی اے سے تین روز میں جواب جمع کروانے کا حکم دیا ہے۔

یاد رہے کہ شاہ زیب قتل کے مقدمے میں چار افراد کو گرفتار کیا گیا ہے اس میں شاہ رخ جتوئی کے علاوہ سراج تالپور، سجاد تالپور اور غلام مصطفی لاشاری شامل ہیں۔ سپریم کورٹ نے یکم جنوری کو طالب علم شاہ زیب قتل کے واقعہ پر ازخود نوٹس لیا تھا۔

متعلقہ عنوانات

BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔