خاموش ہجرت

آخری وقت اشاعت:  جمعـء 22 فروری 2013 ,‭ 18:48 GMT 23:48 PST

شیعہ ہزارہ افراد کے خلاف تشدد کی حالیہ لہر جولائی دو ہزار گیارہ میں شروع ہوئی تھی

ایڈووکیٹ جلیلہ حیدر نے کوئٹہ میں جوڈیشل مجسٹریٹ کی آسامی کے لیے درخواست دے رکھی تھی کہ امتحان سے پہلے انھیں فون پر ٹیکسٹ میسج موصول ہوا کہ اگر وہ اس امتحان میں شریک ہوئیں تو ان کی زندگی کی ضمانت نہیں۔

جلیلہ کا تعلق صوبہ بلوچستان کے شہر کوئٹہ کی ہزارہ برادری سے ہے۔ یہ گروہ مسلک میں شیعہ، نسل سے ترک اور منگول اور زبان سے دری بولنے والا ہے اور شاید یہی ان کی خطا ہے کہ آج ان کے لیے کوئٹہ کی زمین تنگ ہو چکی ہے۔

جلیلہ بھی گذشتہ گیارہ ماہ سےاپنا گھر بار چھوڑ کر لاہور میں پناہ لیے ہوئے ہیں۔

شیعہ ہزارہ افراد کے خلاف تشدد کی حالیہ لہر جولائی دو ہزار گیارہ میں شروع ہوئی جب چند نامعلوم حملہ آوروں نے کوئٹہ میں گیارہ ہزارہ افراد کو قتل کردیا۔ تھوڑے عرصے بعد مستونگ میں ایران جانے والی زائرین کی بس سے چھبیس ہزارہ افراد کو ’کافر‘ قرار دے کر اتارا گیا اور قتل کر دیا گیا جس کے بعد یہ سلسلہ ایسا چلا کہ ابھی تک تھم نہیں پایاـ

اسلام آباد میں ٹیلی کام کے شعبے سے وابستہ اور ہزارہ برادری سے تعلق رکھنے والے سجاد چنگیزی کہتے ہیں کہ کوئٹہ ان کا آبائی شہر ہے لیکن آج ان کا کوئی بہن بھائی وہاں موجود نہیں اور ان کے والدین اپنا بڑھاپا تنہائی میں گزارنے پر مجبور ہیں۔

سجاد کہتے ہیں کہ ’دو ہزار دس میں کوئٹہ کی ہزارہ برادری کے گھروں میں ایک کالعدم شدت پسند تنظیم کی جانب سے یہ پمفلٹ پھینکے گئے کہ ہزارہ شیعہ ناپاک ہیں اور وہ پاک لوگوں کی اس سرزمین پر رہنے کے قابل نہیں اس لیے انھیں تنبیہ کی جاتی ہے کہ وہ دو ہزار بارہ تک پاکستان چھوڑ دیں۔‘

"کوئٹہ میں ہونے والے واقعات گلگت، بلتستان، پارہ چنار اور کراچی کے واقعات سے مختلف ہیں۔ کوئٹہ میں فرقہ واریت موجود نہیں۔ ایک خاص تنظیم کے لوگ ہزارہ افراد کو مار کر چلے جاتے ہیں لیکن آج تک ہزارہ قوم کی جانب سے تشدد کا جواب تشدد سے نہیں دیا گیا کیونکہ ہم تعلیم یافتہ اور ترقی پسند لوگ ہیں خود کو آگ اور خون کے راستے پر آگے نہیں بڑھانا چاہتے۔ لیکن یہ کیسی جگہ ہے جہاں انسان اس بے دردی سے قتل ہوتے ہیں کہ انھیں نسل اور عقیدے کی بنیاد پر شناخت کرکے ان کے گلے کاٹ دیے جاتے ہیں۔"

روح اللہ، ہزارہ طالبعلم

یہ دھمکی کچھ حد تک کارگر بھی ثابت ہوئی۔ گذشتہ برس دسمبر میں انڈونیشیا کے جزیرے جاوا کے ساحلوں سے نوے کلومیٹر کے فاصلے پر ڈوبنے والی کشتی میں ایسے پچپن ہزارہ نوجوان بھی اپنی زندگی کی بازی ہار گئے جو پاکستان میں قتل کر دیے جانے کے خوف سے غیرقانونی طور پر آسٹریلیا جانے کے خواہشمند تھے۔

جلیلہ کہتی ہیں گذشتہ ’پانچ برس کے دوران نوے ہزار ہزارہ دوسرے ملکوں میں پناہ لینے پر مجبور ہوئے اور پاکستان کے دوسرے شہروں میں پناہ لینے والوں کی تعداد اس سے کہیں زیادہ ہے‘۔

لیکن سب کے لیے ملک چھوڑنا تو ممکن نہیں اس لیے جو کہیں پناہ نہیں لے سکتے وہ آئے دن کبھی تعلیمی اداروں کبھی بازاروں اور کبھی دفتروں کے باہر نامعلوم سمت کی جانب سے آنے والی گولی کا نشانہ بنتے رہتے ہیں ـ

انجینیئرنگ کے طالب علم روح اللہ بھی کوئٹہ کے پرتشدد واقعات سے پریشان ہو کر لاہور کا رخ کر چکے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ ’کوئٹہ میں ہونے والے واقعات گلگت، بلتستان، پارہ چنار اور کراچی کے واقعات سے مختلف ہیں۔ کوئٹہ میں فرقہ واریت موجود نہیں۔ ایک خاص تنظیم کے لوگ ہزارہ افراد کو مار کر چلے جاتے ہیں لیکن آج تک ہزارہ قوم کی جانب سے تشدد کا جواب تشدد سے نہیں دیا گیا کیونکہ ہم تعلیم یافتہ اور ترقی پسند لوگ ہیں خود کو آگ اور خون کے راستے پر آگے نہیں بڑھانا چاہتے۔ لیکن یہ کیسی جگہ ہے جہاں انسان اس بے دردی سے قتل ہوتے ہیں کہ انھیں نسل اور عقیدے کی بنیاد پر شناخت کرکے ان کے گلے کاٹ دیے جاتے ہیں‘۔

سجاد چنگیزی کہتے ہیں ’ہمیں بلوچستان کی نااہل حکومت سے کسی مدد کی توقع نہیں اور نہ ہی ہم ملٹری اسٹیبلشمنٹ سے کوئی توقع رکھتے ہیں کیونکہ ملٹری اسٹیبلشمنٹ عقیدے کی بنیاد پر ہزارہ افراد کی وفاداریوں کو شک کی نگاہ سے دیکھتی ہے اور کوئٹہ میں طالبان کو اپنا سٹرٹیجک اثاثہ سمجھتی ہے۔ اگر ہمیں ہمدردی کی امید ہے تو پاکستان کے اس پڑھے لکھے طبقے سے جو کبھی کبھی ہمارے لیے آواز اٹھاتا رہیتا ہے۔‘

پاکستان میں فرقہ وارانہ شدت پسندی پر بی بی سی اردو کی خصوصی پیشکش کی اگلی کڑی ’کافر کون‘ پڑھنے کے لیے کچھ دیر بعد ویب سائٹ پر آئیں۔

اسی بارے میں

متعلقہ عنوانات

BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔