فرقہ وارانہ مواد کی اشاعت پر قابو پانے میں ناکامی

آخری وقت اشاعت:  ہفتہ 23 فروری 2013 ,‭ 12:18 GMT 17:18 PST

اسّی کی دہائی میں پہلی بار اشتعال انگیز فرقہ وارانہ مواد کی باقاعدہ اشاعت شروع ہوئی

اسلامی جمہوریہ پاکستان میں مسلمانوں کے دو فرقوں اہلِ سنت اور اہلِ تشیع میں اختلافات کو ابھارنے اور ان دونوں فرقوں میں صدیوں سے موجود اختلاف رائے کو پرتشدد کارروائیوں کی شکل دینے میں فرقہ وارانہ تحریری مواد نے اہم کردار ادا کیا ہے۔

پاکستان کے وجود میں آنے سے پہلے برصغیر میں شیعہ سنی اختلافات پر فسادات کے واقعات پیش آتے تھے لیکن ان کی شدت یا شکل ایسی نہیں تھی جیسی کہ آج کے پاکستان میں نظر آتی ہے۔

جہاں ریاست، مذہب اور سیاست کو یکجا کر دے اور جہاں شدت پسندانہ نظریات کی حامل مذہبی جماعتوں کو ایک عرصے تک حکومتی سرپرستی میں ایک زرخیز میدان میسر ہو تو وہاں اس قسم کے حالات ہونا کوئی اچھنبے کی بات نہیں۔

گورنمنٹ کالج یونیورسٹی لاہور میں شعبہ تاریخ کے سابق سربراہ اور کیمبرج یونیورسٹی میں جنوبی ایشیا مرکز میں پروفیسر ڈاکٹر طاہر کامران کے مطابق ’پاکستان میں سنہ انیس سو انچاس میں قراردادِ مقاصد کے ذریعے اس کی بنیاد رکھتے ہوئے مذہب کو سیاست میں جگہ دی گئی اور خود فرقہ پرستی کی بنیاد پر تعریف نو کی گئی، جس کے نتیجے میں آنے والے برسوں میں احمدیوں کے خلاف تحریک چلی اور شیعہ سنی اختلافات ابھر کر سامنے آئے۔‘

پاکستان کے قیام کے کچھ عرصے کے بعد یہاں فرقہ وارانہ مواد کی اشاعت محدود پیمانے پر شروع ہو گئی تھی اور اس کے ساتھ ہسمایہ ملک ہندوستان کے مسلمان علما کی جانب سے ایک دوسرے کے عقائد کے خلاف لکھے گئے مواد کو پاکستان کی شکل میں ایک بڑی مارکیٹ مل گئی۔

ڈاکٹر طاہر کامران کے مطابق سنہ انیس سو ستاون میں چشتی سلسلے کے صوفی قمر الدین سیالوی کا شیعہ مسلمانوں کی مذمت سے متعلق ایک پمفلٹ شائع کیا گیا لیکن اس دور میں شیعہ فرقے کے خلاف زیادہ تر مواد ہندوستانی علماء کی جانب لکھا گیا اور پاکستان میں فرقہ واریت بڑھانے میں نمایاں کردار ادا کیا۔

’ان میں سے دو نام بہت مشہور ہیں، ان میں سے ایک عبدالشکور لکھنوی ہیں، جن کی کتابوں اور اقوال کا حوالہ کالعدم تنظیم سپاہ صحابہ کے بانی حق نواز جھنگوی اکثر اوقات اپنی تقاریر میں دیا کرتے تھے۔ اسی طرح سے ایرانی انقلاب کے بارے میں امام خمینی کی کتاب کے جواب میں مولانا منظور نعمانی کی کتاب بے حد مقبول ہوئی اور متعدد زبانوں میں شائع کی گئی اور کتاب کا دیباچہ ابولحسن ندوی نے لکھا تھا جو کہ برصغیر کے ایک بڑے عالم تھے۔‘

"سنہ انیس سو ستاون میں چشتی سلسلے کے صوفی قمر الدین سیالوی کا شیعہ مسلمانوں کی مذمت سے متعلق ایک پمفلٹ شائع کیا گیا لیکن اس دور میں شیعہ فرقے کے خلاف زیادہ تر مواد ہندستانی علماء کی جانب لکھا گیا اور پاکستان میں فرقہ واریت بڑھانے میں نمایاں کردار ادا کیا۔"

ڈاکٹر طاہر کامران

برصغیر میں شیعہ سنی اختلاف کی ایک تاریخ ہے لیکن پاکستان میں نظریات پر اختلاف رائے نفرت انگیز رویے اور پھر بعد میں پرتشدد کارروائیوں میں کس طرح تبدیل ہو گئی؟

ڈاکٹر طاہر کامران کہتے ہیں کہ ’1979 کا سال پاکستان میں بہت اہم اہمیت کا حامل ہے کیونکہ اسی سال ایران میں انقلاب آیا اور ایران نے پاکستان میں اپنے اثر ورسوخ میں اضافہ کرنا شروع کیا اور شیعہ فرقے کو متحرک کیا اور اس کے ساتھ سعودی عرب نے بھی اس اثر و رسوخ کے لیے پاکستان میں مداخلت شروع کر دی۔ اس کے ساتھ افغانستان میں روس کے خلاف جہاد کی وجہ سے پاکستان میں عسکریت پسندی کے کلچر کو فروغ دینا شروع کیا گیا۔

اگر ملکی سطح پر دیکھا جائے تو جنرل ضیا کی جانب ملک میں اسلامالائزیشن کے تناظر میں زکوۃ و عشر کا آرڈیننس آیا تو اس پر شیعہ فرقے نے بہت زیادہ احتجاج کیا اور اسلام آباد میں پارلیمان کے سامنے احتجاج کے بعد اس سے استثنیٰ حاصل کیا۔

یہ ہی حالات تھے جنہوں نے شیعہ سنی فرقوں کو ایک دوسرے کے سامنے لا کھڑا کیا۔

’ اسی دور میں پنجاب کے شہر بھکر میں تحریک نفاذ فقہ جعفریہ سامنے آئی کیونکہ شیعوں کو لگا کہ سیاسی طور پر متحرک ہو کر ہی وہ اپنے مطالبات منوا سکتے ہیں اور ساتھ ہی 1985 میں سنی تنظیم سپاہ صحابہ کا وجود عمل میں آتا ہے۔ یہی وہ دور تھا جب پاکستان ایک جامع مسلمان نے فرقہ وارانہ پہلو کے طور پر خود کو ڈھال لیا۔‘

اسّی کی دہائی میں پہلی بار اشتعال انگیز فرقہ وارانہ مواد کی باقاعدہ اشاعت شروع ہوئی اور جو پہلے چوری چھپے چھپا اور تقسیم ہوا کرتا تھا وہ کھلے عام بک سٹالز پر فروخت ہونا شروع ہوا۔

پاکستان میں شدت پسندی کے حوالے سے کام کرنے والے ایک ادارے پیپس یا پاکستان انسٹی ٹیوٹ فار پیس سڈیز کے ڈائریکٹر محمد عامر رانا کے مطابق ’اسی اور نوے کی دہائی میں اس قسم کے مواد کی بڑی تعداد میں اشاعت ہوتی تھی جو فرقہ وارانہ پرتشدد واقعات کی بنیادی وجہ تھے۔ ان میں سے بعض پر حکومت کی جانب سے پابندی بھی عائد کی گئی لیکن یہ مختلف ناموں سے شائع ہونا شروع ہو گئیں۔ جیسا کہ خلافت راشدہ جو کالعدم سپاہ صحابہ کا ترجمان ہے اور پابندی کے باوجود مختلف ناموں سے اب تک دستیاب ہے، اس کے علاوہ مختلف جہادی تنظیموں کی اشاعت میں فرقہ وارانہ مواد ملتا ہے جس میں پندرہ روزہ جیش محمد ہے، الفرقان ہے اور یہ اب بھی مختلف ناموں سے دستیاب ہیں، تحریک خادم اہل سنت کا حق چار یار، لاہور سے شائع ہونے والا ماہنامہ آب حیات وغیرہ شامل ہیں، دوسری جانب شیعہ فرقے کی جانب سے امامیہ سٹوڈنٹ آرگنائزیشن کے شمارے العارف میں بھی اس قسم کا مواد موجود ہے۔‘

"اب بھی بڑی تعداد میں فرقہ وارانہ مواد شائع ہو رہا ہے، فرق صرف اتنا پڑا کہ پہلے یہ مواد بک سٹالز پر نظر آ جایا کرتا تھا لیکن اب ایسا نہیں ہے۔ حکومت معروف پبلیکشنز پر پابندی لگاتی ہے تو وہ دوسری نام سے دوبارہ شائع ہونے شروع ہو جاتے ہیں لیکن اب تک کوئی ایسا طریقہ کار وضع نہیں کیا جا سکا جس سے مکمل طور پر اشاعت کو روکا جا سکے۔"

عامر رانا

ان کی تعداد کے بارے میں بتاتے ہوئے محمد عامر رانا نے کہا کہ اس قسم کے مواد کی فہرست بہت طویل ہے، اس میں مختلف مدارس کی جانب سے شائع ہونے والے مجلوں میں فرقہ وارانہ رسائل میں چھپنے والے مضامین دوبارہ شائع کیے جاتے ہیں، اس طرح سے کہا جائے تو یہ تعداد ہزاروں میں ہے۔‘

عامر رانا کے بقول اس قسم کے مواد کا ٹارگٹ مدرسے کا طالب علم اور مسجد کا امام ہے جس کی وجہ سے ان کا اثر بہت وسیع پیمانے پر ہوتا ہے، اس کے علاوہ آمدن کے لیے کاروباری طبقے کو ہدف بناتے ہیں جب کہ تیسرا ہدف عام طالب ہیں جو کالج، سکول اور یونیورسٹی کی سطح پر ہو سکتے ہیں۔

پپس کی جانب سے مرتب کی جانے والی ایک فہرست میں ایک مخصوص حلقے میں تقسیم ہونے والے تحریری مواد کی تعداد ہزاروں میں ہے جبکہ ایک سو کے قریب رسائل ایسے ہیں جن کی رینج اپنے ضلع سے باہر ہے یا یہ کئی شہروں میں پڑھے یا تقسیم کیے جاتے ہیں۔

پاکستان میں نائن الیون کے بعد مختلف جہادی اور عسکریت پسند مذہبی جمماعتوں کو پابندی کا سامنا کرنا پڑا تو کیا اس کے بعد ان تنظیموں کی جانب سے شائع ہونے والا مواد کم ہوا یا اس میں اضافہ ہوا۔

اس پر عامر رانا کا کہنا ہے کہ اب بھی بڑی تعداد میں فرقہ وارانہ مواد شائع ہو رہا ہے، فرق صرف اتنا پڑا کہ پہلے یہ مواد بک سٹالز پر نظر آ جایا کرتا تھا لیکن اب ایسا نہیں ہے۔ حکومت معروف پبلیکشنز پر پابندی لگاتی ہے تو وہ دوسرے نام سے دوبارہ شائع ہونا شروع ہو جاتے ہیں لیکن اب تک کوئی ایسا طریقہ کار وضع نہیں کیا جا سکا جس سے مکمل طور پر اشاعت کو روکی جا سکے۔

انٹرنیٹ کے دور میں کیا فرقہ وارانہ مواد کی اشاعت میں کمی ہوئی ہے، اس پر عامر رانا کے بقول مذہبی جماعتوں کا ہدف وہ لوگ ہیں جن کی انٹرنیٹ تک رسائی محدود ہے اور یہی وجہ ہے کہ پرنٹ میڈیا ان کا ایک موثر ہتھیار ہے اور اب بھی کثیر تعداد میں مواد شائع ہو رہا ہے اور منظم طریقے سے اس کی تقسیم جاری ہے۔

اسی بارے میں

متعلقہ عنوانات

BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔