متحدہ ہندوستان اور شیعہ سنی کشمکش

آخری وقت اشاعت:  ہفتہ 23 فروری 2013 ,‭ 05:09 GMT 10:09 PST

برِصغیر میں شیعہ سنی تعلقات کا گراف اگر بنایا جائے تو وہ خطِ مستقیم کے بجائے خطِ منہنی کی طرح ٹیڑھا میڑھا بنے گا۔کبھی مثالی تعلقات ، کبھی برے تو کبھی نیم برے تو کبھی نیم اچھے۔۔۔

ہندوستان میں مسلمان افغانستان ، ایران اور بحرِ ہند کے راستے داخل ہوئے۔ ان میں عرب ، ترک ، ایرانی حملہ آور اور فاتحین بھی تھے اور جابر عربی و عجمی حکومتوں سے تنگ مفرور ملزم ، فن کار ، علما ، صوفی اور بہتر معاشی و سماجی مستقبل کے خواہاں عام مسلمان بھی۔

آنے والوں کو دو بنیادی چیلنج درپیش تھے۔ اول یہ کہ اقلیت ہونے کے سبب مقامی ہندو اکثریت کے درمیان اپنا تشخص اور دبدبہ کیسے قائم رکھیں دوم یہ کہ خود مسلم سماج کے اندر سماجی، سیاسی، نسلی اور فرقہ وارانہ تضادات کو کیسے قابو میں رکھیں۔

اس تناظر میں ہندوستان میں شیعہ سنی تعلقات کو تین ادوار میں تقسیم کیا جا سکتا ہے یعنی ابتدائی دور ، مغلیہ دور اور انگریزی دور۔

ابتدائی دور

محمد بن قاسم کے بعد سندھ میں لگ بھگ ڈھائی سو برس تک قائم رہنے والا سنی عرب اقتدار پہلے دمشق کی خلافتِ بنو امیہ اور پھر بغداد کی خلافتِ عباسیہ کی خوشنودی پر منحصر رہا۔

جب نویں اور دسویں صدی عیسوی میں ہندوستان میں مبلغین اور صوفیوں کی آمد کا سلسلہ بڑھنا شروع ہوا تب تک سنیوں کے چار فقہی مکاتیب ( حنفی ، حنبلی ، مالکی ، شافعی ) تشکیل پا چکے تھے اور اہلِ تشیع تین شاخوں ( زیدی ، اثنا عشری ، اسماعیلی ) میں بٹ چکے تھے۔

سنیوں میں امام ابو حنیفہ کے حنفی مکتبِ فکر کے پیروکاروں کی اکثریت تھی اور شیعوں میں چھٹے امام جعفر صادق کے مرتب کردہ فقہِ جعفریہ کے اثنا عشری پیروکار زیادہ تھے۔ چونکہ اس زمانے میں فقہی اختلافات زیادہ تر علمی مباحث کی حدود میں تھے لہذا تحصیلِ علم مشترکہ میراث تھی چنانچہ یہ کوئی انہونی بات نہیں تھی کہ دو سنی فقہا امام مالک اور امام ابوحنیفہ امام جعفر صادق سے بھی درس لیتے رہے۔

( اثنا عشری شیعہ جانشینی و امامت کے مسئلے پر امام جعفر صادق کے دو بیٹوں اسماعیل ابنِ جعفر اور موسی کاظم کے حامیوں میں تقسیم ہوگئے۔ اسماعیل ابنِ جعفر کے حامی اسماعیلی کہلائے۔ اسی شاخ نے دسویں صدی عیسوی میں مراکش تا سندھ فاطمی اسماعیلی سلطنت قائم کی جس کا دارلحکومت قاہرہ تھا۔ جب فاطمی سلطنت کمزور ہوئی تو اسماعیلی دو مزید گروہوں میں بٹ گئے ایک شاخ نزاری کہلائی اور دوسری مستعصلی۔(داؤدی بوہرہ مستعصلی گروہ کی ہی شاخ در شاخ ہے)۔

اسماعیلی مبلغین ملتان تک پھیل گئے چنانچہ دسویں صدی کے وسط میں وہاں اسماعیلی قرامطہ حکومت قائم ہوئی مگر گیارہویں صدی کے شروع میں محمود غزنوی کے دو حملوں میں ملتان سے سیہون تک پھیلی قرامطہ حکومت ختم ہوگئی۔ ان حملوں میں ملتان کی اسماعیلی آبادی کا قتلِ عام ہوا۔ قرامطہ حکمران ابوفتح داؤد کو قیدی بنایا گیا۔ ملتان کے شہریوں سے لگ بھگ دو کروڑ دینار تاوان وصول کیا گیا اور بچے کچھے اسماعیلی بالائی پنجاب اور زیریں سندھ کے مختلف علاقوں میں پناہ لینے پر مجبور ہوئے۔

محمود غزنوی کے بعد قرامطہ حکومت پھرمختصر عرصے کے لیے قائم ہوئی تاہم بارہویں صدی میں شہاب الدین غوری نے اس کا مستقل قلع قمع کر دیا اور بعد ازاں صوبہ ملتان دہلی سلطنت کا حصہ بن گیا۔

آج بھارت کے زیرِ انتظام کشمیر میں صرف کارگل اور پاکستان کے زیرِ انتظام کشمیر میں بلتستان اور گلگت ہی وہ علاقے ہیں جہاں شیعہ اکثریت ہے

اس دوران کشمیر میں ایک نئی پیش رفت شروع ہوگئی۔ کشمیر میں اسلام چودھویں صدی کے شروع میں ترکستان سے صوفی بلبل شاہ قلندر اور انکے ایک ہزار مریدوں کے ساتھ پہنچا۔ بودھ راجہ رنچن نے دینی افکار سے متاثر ہو کر بلبل شاہ کے ہاتھ پر بیعت کی ۔یوں راجہ رنچن سلطان صدر الدین کے نام سے کشمیر کا پہلا مسلمان حکمران بنا۔بعد ازاں ایک ایرانی صوفی سید علی ہمدانی سات سو مبلغوں ، ہنرمندوں اور فن کاروں کی جماعت لے کر کشمیر پہنچے اور اس ثقافت کا جنم ہوا جس نے جدید کشمیر کو شناخت مہیا کی۔

لگ بھگ اسی دور میں شمس الدین عراقی اور انکے پیروکاروں نے کشمیر میں قدم رکھا۔ انہوں نے چک خاندان کی مدد سے ہزاروں ہندوؤں کو شیعہ اسلام میں داخل کیا۔ ایک ترک جنگجو سردار مرزا حیدر دگلت نے پندرہ سو چالیس میں کشمیر پر حملہ کیا اور شیعہ فرقے کا قتلِ عام کیا۔ مرزا دگلت کی واپسی کے بعد چک خاندان کا اقتدار پھر سے بحال ہوگیا ۔ چک حکمرانوں کے تبلیغی جوش وخروش کے ردِ عمل میں سن سولہ سو بائیس سے سولہ سو پچاسی تک کشمیر میں چار بڑے شیعہ سنی بلوے ہوئے۔

ایک سرکردہ مقامی سنی عالم شیخ یعقوب سرفی نے مغلِ اعظم اکبر کو کشمیر پر فوج کشی کی دعوت دی ۔ یوں کشمیر کی آخری آزاد حکومت اپنی ہی فرقہ پرستی کا لقمہ بن گئی۔جب اٹھارویں صدی میں مغل سلطنت زوال پذیر ہونے لگی تو کشمیریوں نے احمد شاہ ابدالی کو مدعو کیا لیکن یہ دعوت بھی ایک مصیبت بن گئی۔

لوٹ مار کا ایک دور ختم ہوتا تو دوسرا شروع ہوجاتا۔پھر کشمیر رنجیت سنگھ کے تختِ لاہور کے زیرِ نگیں آگیا۔مگر انیسویں صدی کے وسط میں انگریز وں نے کشمیر رنجیت سنگھ کے ورثا سے لے کر ڈوگروں کے ہاتھ فروخت کردیا۔ ڈوگرہ دور میں کشمیری مسلمانوں کے فرقہ وارانہ اختلافات وقتی طور پر دب گئے اور تین سو برس بعد سری نگر میں عاشورے کا جلوس نکلا۔

آج بھارت کے زیرِ انتظام کشمیر میں صرف کارگل اور پاکستان کے زیرِ انتظام کشمیر میں بلتستان اور گلگت ہی وہ علاقے ہیں جہاں شیعہ اکثریت ہے۔

مغلیہ دور

جو بھی ہندوستان جیسے عظیم ملک پر طویل عرصہ حکومت کرنا چاہتا ہے اس پر لازم ہے کہ وہ تمام مذہبی طبقات و مذاہب سے کشادہ دلی برتے۔ جب تک مغلوں نے اس اصول پر عمل کیا ان کی سلطنت مستحکم رہی ۔تنگ نظری بڑھتی گئی تو سلطنت کی عمر گھٹتی گئی۔

چنانچہ ہم دیکھتے ہیں کہ بابر سے لے کر شاہ جہاں تک مغلوں کا طرزِ حکومت کم و بیش نرمی و گرمی کی مرکب سیکولر پالیسی کے محور پر رہا۔ جب اورنگ زیب نے اس پالیسی سے روگردانی کی تو نتیجہ شورش اور ٹوٹ پھوٹ کی شکل میں نکلا۔

جن دنوں بابر وسطی ایشیا میں فرغانہ کی کھوئی ہوئی سلطنت حاصل کرنے کی تگ و دو میں تھا تو مشکل وقت میں ایران کے صفوی بادشاہ اسماعیل نے قزلباش جنگجوؤں کو بابر کی مدد کے لیے بھیجا۔ بابر یہ بات نہیں بھولا اور جب اس نے ہندوستان میں مغلیہ اقتدار کی بنیاد رکھی تو اپنے ساتھ ایرانی مشاورت بھی لایا۔ اس نے ولی عہد ہمایوں کو وصیت کی کہ ایرانیوں سے تعلقات اچھے رکھنا۔خود کو فرقہ واریت اور مذہبی تعصبات سے بالا رکھتے ہوئے ہر طبقے کے ساتھ اس کی روایات کے مطابق انصاف کرنا۔

جس طرح بابر سے فرغانہ کی سلطنت چھنی اور اس نے ایران کے شاہ اسماعیل کی مدد سے اقتدار دوبارہ حاصل کیا۔اسی طرح ہمایوں سے بھی جب شیرشاہ سوری نے مغل سلطنت چھین لی تو شاہ اسماعیل کے بیٹے طہماسپ نے بھرپور مدد دی۔ ہمایوں نے عالمِ غربت میں لگ بھگ پندرہ برس ایران میں گذارے۔ بعض روایات کے مطابق ہمایوں نے بادلِ نخواستہ شاہ طہماسپ کے اصرار پر مصلحتاً وقتی شیعت اختیار کرلی ۔ شاہ طہماسپ نے بارہ ہزار ایرانی سپاہیوں کا لشکر ہمایوں کے سپرد کیا ۔یوں ہمایوں نے مغل سلطنت دوبارہ حاصل کی۔ہمایوں ایران سے اپنے ہمراہ فارسی ، درباری روایات ، فنونِ لطیفہ کے ماہرین اور انتظامی و فوجی انصرام کے طریقے لایا۔یوں ایرانی اثر و نفوز مغلیہ خاندان میں رچتا بستا چلا گیا۔

ہمایوں کے بیٹے اکبر کے زمانے میں مذہبی رواداری نے نیا رخ اختیار کیا۔اکبر نے صلحِ کل کی پالیسی کے تحت راجپوتوں سے سیاسی تقاضوں کے سبب رشتے ناطے کیے۔ اکبر کے رتنوں میں دو اہم رتن ابوالفضل فیضی اور عبدلرحیم خانِ خاناں شیعہ تھے۔ تاہم اکبر کی فراخدلانہ مذہبی پالیسی کے ردِ عمل میں درباری علما کے مابین عقائد کی سرد جنگ چھڑ گئی جو وقت کے ساتھ ساتھ نت نئی شکلیں اختیار کرتی گئی۔

اکبر کے وارث جہانگیر کی محبوب ایرانی نژاد ملکہ نور جہاں اور اس کے بھائی آصف خان کے اثرو نفوز نے دربارِ جہانگیری پر ایرانی رنگ اور چڑھا دیا۔چنانچہ ایک سرکردہ غیر درباری سنی عالم شیخ احمد سرہندی المعروف مجدد الف ثانی نے دربار پر بڑھتے ہوئے شیعہ اثرات کے ردِ عمل میں ردِ روافظ کے نام سے کتاب لکھی لیکن شیخ احمد سرہندی نے جب قیوم ہونے کا دعوی کیا تو جہانگیر نے زنداں میں ڈال دیا۔

مگریہ کہنا بھی درست نہ ہوگا کہ ابتدائی مغل بادشاہ مکمل طور سے ایرانی اثرات کے سحر میں تھے کیونکہ انہیں جب کوئی سیاسی و بقائی فیصلہ درپیش ہوتا تو وہ رواداریاں باآسانی لپیٹ بھی دیتے تھے۔

جیسے شروع شروع میں اکبر کا مذہبی رویہ خاصا سخت گیر رہا۔ اس نے بااثر سنی درباری عالم شیخ عبدالنبی کے مشورے پر حضرت امیر خسرو کے پہلو میں دفن ایک ایرانی شیعہ عالم میر مرتضی شیرازی کی قبر اکھڑوا دی۔ بعد ازاں یہی اکبر مذہبی و فرقہ وارانہ لحاظ سے غیر جانبدار ہوگیا۔

اسی دور میں ایک شیعہ عالم نور اللہ شستری ایران سے آگرہ آئے اور مختصر عرصے میں اپنی علمیت و فراست سے بادشاہ کا اعتماد حاصل کرلیا۔ اکبر نے انہیں قاضی القضاۃ کا درجہ دیا۔ جب کشمیر کی شیعہ چک سلطنت میں زیادتیوں کے شکار سنی علما دہائی دینے لگے تو اکبر نے حالات معلوم کرنے کے لئے نور اللہ شستری کو ہی بطور شاہی ایلچی کشمیر بھیجا۔

اکبر کی وفات کے بعد جہانگیر نے نور اللہ شستری کو چیف قاضی کے منصب پر برقرار رکھا۔ لیکن جب شیعہ عقائد پر سنی اعتراضات کے جوابات پر مبنی انکی کتاب احقاق الحقائق ( سچ کی توضیح ) سامنے آئی تو دربار کے سنی علما نے نور اللہ شستری پر شرک کا فتوی جاری کیا۔یوں ستر سالہ شستری شاہی غضب کا نشانہ بنے اور کوڑوں کی تاب نہ لاتے ہوئے انتقال کرگئے۔ اہلِ تشیع انہیں بطور شہیدِ ثالث یاد کرتے ہیں۔

شاہجہاں کی فرقہ وارانہ پالیسی بھی کم و بیش اپنے پیشروؤں کی طرح ہی رہی۔ شاہجہاں کی محبوب بیوی اور ملکہ نور جہاں کی بھتیجی ممتاز محل تاج محل میں محوِ آرام ہے۔دورِ شاہجہانی کا ایک ایسا واقعہ ملتا ہے جب ایک اسماعیلی مبلغ سیدنا شجاع الدین کے عقائد ناپسند کرتے ہوئے لاہور کے شاہی اصطبل میں ڈال دیا گیا۔

روایت ہے کہ اصطبل کے اردگرد آتشزدگی ہوئی لیکن اصطبل محفوظ رہا۔۔چنانچہ شاہجہاں نے سیدنا شجاع الدین کو رہا کر کے عزت و احترام سے صوبہ گجرات روانہ کردیا گیا۔

تاہم اسی شاہ جہاں کا بیٹا اورنگ زیب جب گجرات کا گورنر بنا تو اس نے ایک اور اسماعیلی مبلغ سیدنا قطب الدین کو شرک کے فتوی پر سزائے موت دے ڈالی۔ تینتیس جلدوں پر مشتمل جو فتاویِ عالمگیری مرتب کیا گیا اس میں شیعہ عقیدے کو مشرکانہ بتایا گیا ۔اورنگ زیب کے دور میں تعزیے اور ماتمی جلوس کی ممانعت ہوئی ۔وہ چوبیس برس جنوبی ہندوستان کی ترکمان شیعہ قطب شاہی حکومت سے برسرِ پیکار رہا اور اس ڈیڑھ سو سالہ سلطنت کا خاتمہ کرکے ہی دم لیا۔

خود قطب شاہی دور بھی جنوبی ہندوستان کی پہلی تاجک شیعہ بہمنی سلطنت کے پونے دو سو سالہ اقتدار کے کھنڈرات پر قائم ہوا تھا۔لیکن اورنگ زیب کے ہاتھوں سولہ سو ستاسی میں قطب شاہیوں کے خاتمے کا ایک بڑا نقصان یہ ہوا کہ جنوبی ہندوستان سے ایک مضبوط مسلمان بادشاہت ہٹنے کے بعد ہندو مرہٹے اور مغل آمنے سامنے ہو گئے۔

رفتہ رفتہ اس چپقلش نےمغل حکومت کے استحکام کو ہی کھوکھلا کردیا اور اورنگ زیب کی وفات کے بعد مغلیہ اختیار تیزی سے مٹتا چلا گیا۔ جس تخت پر بااختیار بادشاہ بیٹھتے تھے اس پر بادشاہ نما کٹھ پتلیاں بٹھائی اٹھائی جانے لگیں۔

اٹھارویں صدی میں دو سگے بھائی مغل جرنیلوں نے بادشاہ گر کی شہرت پائی۔ تاریخ انہیں سید برادران کے نام سے جانتی ہے۔ سید حسن علی خاں اور حسین علی خاں ایرانی ساداتِ بارہہ میں سے تھے۔ اورنگ زیب کے بعد جب طوائف الملوکی پھیلی تو اصل اقتدار سید برادران کے ہاتھ آگیا۔ انہوں نے پندرہ برس میں چھ بادشاہوں ( بہادر شاہ ، جہاندار شاہ ، فرخ سیر ، رفیع الدرجات ، رفیع الدولہ ، محمد شاہ ) کو تخت پر بٹھایا ۔ان میں سے ایک کو قتل ، دوسرے کو نابینا اور تین کو معزول کیا۔بالاخر چھٹے بادشاہ محمد شاہ ( رنگیلا ) نے سید برادران کا کام اتار ڈالا۔

سلطنتِ اودھ

جس دور میں مغل بادشاہ محمد شاہ نے بادشاہ گر سید برادران کو ٹھکانے لگایا ۔انہی برسوں میں اودھ کے مغل گورنر برہان الملک سعادت علی خاں نیشا پوری نے کمزور تختِ دہلی سے زبانی وفاداری نبھاتے ہوئے فیض آباد سے خاندانِ اودھ کی حکمرانی کا آغاز کیا۔اودھ کی شیعہ سلطنت دراصل اس علاقے میں لگ بھگ تین سو برس پہلے قائم جون پور کی شرقی شیعہ سلطنت کے کھنڈرات پر قائم ہونے والی ایک بڑی شیعہ حکومت تھی جو سترہ سو بائیس سے اٹھارہ سو اٹھاون تک ایک سو چھتیس برس قائم رہی ۔ دس نوابین نے اودھ پر حکمرانی کی ۔ان میں سے نواب آصف الدولہ ، غازی الدین حیدر اور واجد علی شاہ نے بالخصوص سلطنتِ اودھ کے سیاسی ، سماجی و ثقافتی عروج و زوال میں اہم کردار ادا کیا۔

آصف الدولہ کے زمانے میں ایران سے اصولی شیعہ علما کی آمد شروع ہوئی جنہوں نے اخباری شیعہ رواج کے برعکس اس پر زور دیا کہ فقہی حوالے سے کسی ایک مرجع ( وہ عالم جس سے فقہی رہنمائی لی جا سکے ) کی تقلید ضروری ہے۔ آصف الدولہ کے وزیرِ اعظم حسن رضا خان نے شیعہ مبلغین کی نا صرف خصوصی سرپرستی کی بلکہ عراق میں نجف اور کربلا کی دیکھ بھال کے لئے بھی اودھی خزانے سے لگ بھگ دس لاکھ روپے سالانہ بجھوائے جانے لگے جبکہ پانچ لاکھ کے صرفے سے دریائے فرات سے نہرِ ہندی نکلوائی گئی جس نے نجف تا کربلا کا علاقہ سرسبز کردیا۔خانہ بدوش عرب قبائل نے یہاں سکونت اختیار کرنے لگے اور شیعت فروغ پانے لگی۔

ایران کے اصولی شیعہ علما کی آمد سے قبل اودھ بالخصوص فیض آباد میں سنی اور شیعہ مقامی ہندووں کے ساتھ مل کے عاشورہ کا انتظام و انصرام کرتے اور رسومات میں شریک ہوتے تھے ۔مگر کٹر علما کی آمد سے کٹرپن اور مذہبی فاصلہ بھی بڑھتا گیا۔ اودھ بالخصوص لکھنئو میں فرقہ ورانہ کشیدگی اسی دور کا تحفہ ہے۔ اٹھارہ سو ستاون کی جنگِ آزادی میں اودھ میں انگریزوں کے خلاف مزاحمت کے غیر موثر ہونے کا ایک اہم سبب بڑھتی ہوئی فرقہ وارانہ خلیج بھی تھی۔

تاہم سترہ سو چوہتر میں فیض اللہ خان نے رام پور میں جو چھوٹی سی شیعہ ریاست قائم کی اس میں فرقہ وارانہ ہم آہنگی مقابلتاً بہتر رہی۔جبکہ سب سے بڑی مسلمان ریاست حیدرآباد میں بھی فرقہ وارانہ ہم آہنگی زہر آلود نہیں ہوئی۔

انگریز کا دور

اودھ کی ریاست بعد از زوال اترپردیش کا حصہ ہو گئی اور فرقہ واریت بھی انیسویں سے بیسویں صدی میں داخل ہوگئی۔ مقامی شیعہ اور سنی عالموں کے بڑھتی مذہبی مخاصمت کے سبب انیس سو چار اور آٹھ کے درمیان یو پی بالخصوص لکھنئو اور گردونواح میں شیعہ سنی تصادم کی کئی دفعہ نوبت آئی۔چنانچہ انیس سو نو میں پورے صوبے میں عاشورہ اور چہلم کے جلوس ممنوع ہوگئے لیکن سن تیس کے عشرے میں تین بڑے فرقہ وارانہ تصادم ہوئے اور اس مسئلے نے آزادی کے بعد بھی جان نہیں چھوڑی۔

تاہم انگریزی دور میں یو پی کو چھوڑ ہندوستان کے دیگر علاقوں بالخصوص رجواڑوں میں شیعہ سنی کشیدگی زیادہ تر زبانی حد تک ہی رہی ۔دونوں فرقوں سے تعلق رکھنے والے مغربی تعلیم یافتہ سیاسی رہنماؤں نے اس مسئلے کو اپنی سیاست اور انا کا محور بنانے سے گریز کیا ۔اس دور میں کانگریس اور مسلم لیگ کے پلیٹ فارم سے سیاستدانوں ، عام لوگوں اور بیشتر علما کی زیادہ توجہ انگریزی اقتدار کے خلاف بڑی لڑائی پر ہی مرکوز رہی۔

شیعہ، بریلوی، دیوبندی اور وہابی

انیس سو سینتالیس میں جن علاقوں میں پاکستان بنا وہاں صوبہ سرحد کو چھوڑ کر ہر جگہ سنی بریلوی مکتبہِ فکر کے پیروکاروں کی اکثریت تھی ۔چونکہ بریلوی مسلک میں تصوف کو خاصی اہمیت حاصل ہے اور تصوف کا روحانی سلسلہ حضرت علی سے شروع ہوتا ہے ۔لہذا بریلویوں اور اہلِ تشیع کے درمیان کم و بیش مذہبی رواداری کی فضا ہی رہی۔البتہ دیگر مکاتیبِ فکر بمقابلہ شیعہ مکتبِ فکر ایسی صورتِ حال نہ تھی۔

شاہ ولی اللہ اور محمد بن عبدالوہاب

سترہ سو تین عیسوی ہیں جزیرہ نما عرب میں محمد بن عبدالوہاب اور ہندوستان میں شاہ ولی اللہ کی پیدائش ہوئی۔ دونوں نے اگلے تین سو برس میں مسلمان دنیا پر گہرے نقوش چھوڑے۔

شاہ ولی اللہ کی تعلیمات نے ان کی وفات کے سو برس بعد دیوبند مکتبِ فکر کی صورت اختیار کی اور محمد بن عبدالوہاب کی دین کو تمام علتوں سے پاک کرنے کی تحریک و تشریح نے ایک طرف خاندانِ سعود کی فکری تعمیر کی اور دوسری طرف خالص پن کے نظریے نے شدت اختیار کرتے کرتے سلفی رخ لے لیا جس نے آگے چل کر تکفیری فلسفے کی شکل میں القاعدہ کو جنم دیا اور پھر اس دھارے میں دیگر شیعہ مخالف دھارے بھی ملتے چلے گئے۔

شاہ ولی اللہ دہلوی شاہ عبدالرحیم کے صاحبزادے تھے اور شاہ عبدالرحیم اورنگ زیب عالمگیر کے فتاویِ عالمگیری کے مرتبین میں شامل تھے۔جب شاہ ولی اللہ نے آنکھ کھولی تو ہندوستان میں مغل سورج ڈوب رہا تھا۔ شاہ ولی اللہ نے لگ بھگ دس برس کا عرصہ عرب میں گذارا۔ اگرچہ انکی محمد بن عبدالوہاب سے براہِ راست ملاقات نہیں ہوئی تاہم دونوں کے کچھ اساتذہ مشترک ضرور رہے۔

شاہ ولی اللہ ہندوستان میں مسلمانوں کے سیاسی و حکومتی زوال پر خاصے مضطرب تھے ۔انہوں نے اہلِ سنت کے چاروں مکاتیب میں فکری و فقہی ہم آہنگی کی پرزور وکالت کی تاہم فقہِ جعفریہ اس ہم آہنگی سے خارج رکھا گیا۔ انہوں نے مختلف مذہبی موضوعات و مسائل پر اکیاون تصنیفات رقم کیں۔ ایک کتاب قرت العینین میں اہلِ تشیع کو کمزور عقیدے کا فرقہ ثابت کیا گیا۔

شاہ ولی اللہ نے احمد شاہ ابدالی کو ہندوستان پر حملہ آور ہونے کی جو دعوت دی اس کا مدعا و مقصد نہ صرف بڑھتی ہوئی مرہٹہ طاقت کا زور توڑنا بلکہ دہلی سے رافضی اثرات ختم کرنا بھی تھا۔چنانچہ جب ابدالی حملہ آور ہوا تو اس نے دہلی میں اہلِ تشیع کو بطورِ خاص نشانہ بنایا۔ شاہ ولی اللہ کے صاحبزادے شاہ عبدالعزیز محدث دہلوی بھی بلند پایہ عالم تھے لیکن اثنا عشری عقائد کے بارے میں انکے خیالات اپنے والد کی نسبت زیادہ سخت تھے ۔اس کا اندازہ انکی تصنیف تحفہِ اثنا عشریہ پڑھ کے بھی ہوسکتا ہے۔

جہاں تک ہندوستان میں وہابی عقائد کی ترویج کا معاملہ ہے تو ان کی اشاعت بہت بعد میں شروع ہوئی اور پہلا اہم مرکز ریاست بھوپال بنا جب محمد بن عبدالوہاب کے افکار سے متاثر ایک سرکردہ عالم صدیق علی خان کی انیسویں صدی کی آخری چوتھائی میں بھوپال کی حکمراں شاہجہاں بیگم سے شادی ہوئی اور وہابی فکر کو ریاستی سرپرستی میسر آگئی تاہم بریلوی اور دیوبندی مکتبِ فکر کو ہندوستان کی سرزمین جتنی راس آئی ویسی مقبولیت وہابی نظریات کو حاصل نا ہوسکی۔

البتہ آزادی کے بعد شیعہ سنی تعلقات کے تناظر میں وہابی مکتبِ فکر نے عمومی زہن پر مخصوص اثرات مرتب کیے وقت گذرنے کے ساتھ ساتھ آج تک وہ اثرات کس کس شکل میں ظاہر ہوئے ہیں۔یہ کوئی راز نہیں ہے۔

BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔