ایران پاکستان گیس پائپ لائن یا پائپ ڈریم

آخری وقت اشاعت:  پير 25 فروری 2013 ,‭ 22:28 GMT 03:28 PST

امریکہ کا اصرار ہے کہ پاکستان ایران کی بجائے ترکمانستان اور قطر سےگیس خریدے۔

توانائی کے بحران میں گھرے پاکستان کے صدر آصف علی زرداری آئندہ چند دنوں میں ایران کے دورے پر جا رہے ہیں اور ان کے اس اہم پڑوسی ملک کے دورے کو دونوں حکومتیں بہت اہمیت دے رہی ہیں-

ایک طرف امریکہ ایران کو عالمی برادری سے کاٹنے اور تنہا کرنے پر تُلا ہوا ہے، ایران پر اقتصادی پابندیاں عائد کی گئیں جنہیں بتدریج سخت کیا جا رہا ہے تو دوسری طرف پاکستان امریکی اتحادی ہونے کے باوجود ایران سے نہ صرف اچھے تعلقات کے لیے کوشاں ہے بلکہ اقتصادی تعاون کو فروغ دینے کی طرف بڑھ رہا ہے۔

صدر زرداری کا یہ مجوزہ دورۂ ایران پاکستان کی توانائی کی ضروریات پوری کرنے میں ایرانی کردار متعین کرنے میں اہم کردار ادا کرےگا-

پاکستان کے مشیر پٹرولیم ڈاکٹر عاصم حسین کے مطابق صدر زرداری ستائیس فروری کو گیس پائپ لائن منصوبے پر دستخط کریں گے اور صرف یہی نہیں، پاکستان ایران سے مائع پٹرولیم گیس (ایل - پی - جی) کی درآمد اور ایران کے تعاون سے گوادر میں تیل صاف کرنے کے کارخانے کے قیام پر بھی مذاکرات کرےگا۔

ایران نے ابتدائی طور پر دس ہزار ٹن یومیہ ایل پی جی فراہم کرنے کا اشارہ دیا ہے جس میں آنے والے برسوں میں اضافہ کیا جائےگا۔

یہ پیش رفت ایسے وقت میں ہو رہی ہے جب امریکہ ایران پاکستان گیس پائپ لائن پر اپنے تحفظات اور ممکنہ سخت ردِعمل کا بار بار اعادہ کر رہا ہے۔ پڑوسی بھارت امریکی دباؤ کی وجہ سے گیس پائپ لائن منصوبے سے پہلے ہی الگ ہو چکا ہے مگر ایسا لگتا ہے کہ پاکستان کے پاس توانائی کے بحران کا کم وقت میں جزوی حل ایران کی مدد ہی ہے۔

پاکستان کا توانائی کا منظرنامہ نہ صرف پاکستانیوں کے لیے مشکلات اور پریشانی کا سبب ہے بلکہ امریکہ سمیت بہت سے ملکوں اور عالمی اداروں کی تشویش کی وجہ بھی مگر بحران کے حل کے لیے امریکی نسخے وقت طلب اور مہنگے ہیں۔

"بحران اتنا شدید ہے کہ پاکستان کو جہاں سے ملے اپنی تونائی کی ضرورت پوری کرنی چاہیے اور اس وقت یہ (ایران پاکستان گیس پائپ لائن) سب سے بہتر اور قابل عمل منصوبہ ہے۔"

ڈاکٹر اشفاق حسن

امریکہ کا اصرار ہے کہ پاکستان ایران کی بجائے ترکمانستان اور قطر سےگیس خریدے۔ ساتھ ہی اس کا کہنا ہے کہ پاکستان ملک میں ٹائٹ اور شیِل گیس نکالے۔ امریکا پن بجلی کے منصوبوں میں خود بھی پاکستان کی مدد کر رہا ہے مگر ان منصوبوں سے بجلی حاصل ہونے میں کئی سال لگیں گے-

تجزیہ کار کہتے ہیں یہ ساری تجاویز وقت طلب اور مہنگی ہیں اور پاکستان کی ضرورت فوری-

سابق حکومت کے اقتصادی مشیر ڈاکٹر اشفاق حسن کہتے ہیں کہ توانائی کے بحران کی وجہ سے ملک کی اقتصادی شرح نمو پر منفی اثر پڑ رہا ہے جو تین تا چار فیصد کم رہتی ہے۔ تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ شرح نمو نہ بڑھنے کا نتیجہ بیروزگاری اور غربت میں اضافے کی صورت میں نکلا ہے، سرمایہ کاری رک گئی ہے، صنعتیں یا تو بند ہو رہی ہیں یا گنجائش سے کم پر چل رہی ہیں اور ملک بھر میں توانائی کو لے کر ہنگامے معمول بن گئے ہیں۔

اس وقت ملک میں گیس کی کمی دو ارب کیوبک فٹ یومیہ کو چھو رہی ہے اور ایران سے منصوبے کے تحت سات سو پچاس تا ایک ارب کیوبک فٹ یومیہ گیس حاصل ہو گی جو بجلی پیدا کرنے کے لیے استعمال کی جائےگی یعنی چار تا پانچ ہزار میگاواٹ بجلی یومیہ اور جب تک یہ منصوبہ مکمل ہو گا طلب و رسد کا فرق بڑھ چکا ہوگا۔

ڈاکٹر اشفاق حسن کہتے ہیں بحران اتنا شدید ہے کہ پاکستان کو جہاں سے ملے اپنی تونائی کی ضرورت پوری کرنی چاہیے اور اس وقت یہ سب سے بہتر اور قابل عمل منصوبہ ہے۔ جب ان سے پوچھا گیا کہ کیا پاکستان امریکی دباؤ برداشت کر پائےگا تو انھوں نے کہا کہ پاکستان کو اپنا مقدمہ موثر انداز سے لڑنا ہوگا-

عالمی میڈیا کی رپورٹس کے مطابق امریکا کا کہنا ہے کہ اگر پاکستان ایران سے گیس کی خریداری میں پیش رفت کرتا ہے تو اسے اقتصادی پابندیوں کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے-

ممتاز تجزیہ کار ڈاکٹر جعفر احمد کہتے ہیں کہ یہ ایک پیچیدہ مسئلہ ہے اور پاکستان کی تاریخ قومی مفاد میں جراتمندانہ، بروقت اور صحیح فیصلے کرنے کے حوالے سے مثالی نہیں مگر یہ ایک موقع بھی ہے کہ پاکستان خطًے کے بارے میں پالیسی کو اپنے مفادات کے مطابق بنائے اور اس پر عمل بھی کرے-

ان کا کہنا تھا کہ پاکستان اب تک اپنے کارڈ اچھی طرح نہیں کھیلا اور دوسرے اس سے فائدہ اٹھاتے رہے لیکن یہ موقع ہے کہ پاکستان اپنے مفاد کے مطابق فیصلہ کر سکتا ہے اور امریکی دباؤ سے بھی نکل اور نمٹ سکتا ہے مگر اس کے لیے اہل اور دانا قیادت کی ضرورت ہے اور یہ اندازہ نہیں کہ پاکستان کے پاس اس وقت ایسی قیادت ہے یا نہیں۔

بقول ان کے ’پاکستان اس وقت وجودی بحران سے گذر رہا ہے۔ اسے پتا نہیں وہ کیا ہے، کیا کرنا چاہتا ہے، کیا کر سکتا ہے اور اسے کیا کرنا چاہیے‘-

ڈاکٹر جعفر احمد کا کہنا تھا کہ کیا ضروری ہے کہ صرف امریکہ ہی پاکستان سے فائدہ اٹھائے خود پاکستان اور خطًے کے دوسرے ملک خاص طور پر چین اور وسط ایشیائی ممالک بھی کیوں نہیں؟

تجزیہ کاروں کا خیال ہے کہ خطًے کے حالات، امریکی مفادات اور دوسرے بڑے کھلاڑیوں خاص طور پر چین کی موجودگی امریکا کو انتہائی قدم نہیں اٹھانے دے گی- اگر امریکا نے عاقبت نا اندیشی کا مظاہرہ کیا تو بھاری قیمت بھی چکانا پڑ سکتی ہے۔

اسی بارے میں

متعلقہ عنوانات

BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔