گوجر خان: راجوں کی تحصیل

آخری وقت اشاعت:  منگل 26 فروری 2013 ,‭ 21:58 GMT 02:58 PST

راجہ پرویز اشرف کے وزیرِاعظم بننے سےگوجر خان کے لوگوں کا خیال تھا کہ تحصیل کی قسمت چمک گئی ہے۔

گرینڈ ٹرنک روڈ یا جی ٹی روڈ پر واقع گوجر خان بظاہر صوبہ پنجاب کا ایک عام سا شہر لگتا ہے۔

جب میں یہاں کے گورنمنٹ شہید سرور کالج پہنچی تو وہاں فلسفے کے ایک استاد کالج میں ہونے والے تعمیراتی کام کا جائزہ لے رہے تھے۔

سطح مرتفع پوٹھوہار کی ناہموار زمین پر واقع اس کالج کی کبھی حد بندی نہیں ہو سکی اور پروفیسر صاحب کے بقول اکثر کالج کے گراؤنڈ میں مال مویشی پھرتے رہتے تھے۔

میں نے ان سے پوچھا کہ کالج کے طالبِ علم تعلیم مکمل کرنے کے بعد کیا کرنا چاہتے ہیں تو جواب کچھ یوں آیا۔

’یہاں کے لوگ سب انگلینڈیے ہیں‘۔

’وہ کیا ہوتے ہیں؟‘ میرے اس سوال پر پروفیسر صاحب بولے ’ان میں سے زیادہ تر کا کوئی نہ کوئی رشتہ دار برطانیہ میں مقیم ہے، کوئی ٹیکسی ڈرائیور ہے، کسی کا کاروبار ہے اور پڑھائی کے بعد سب ہی وہاں چھوٹا موٹا کام کرنے کی تیاری پکڑتے ہیں۔‘

گوجر خان پنجاب کے ان علاقوں کی پٹی میں شامل ہے جہاں کے لوگوں کی ایک بڑی تعداد بیرونِ ملک مقیم ہے۔ شہر میں اس رجحان کی علامات، سائن بورڈز کی شکل میں نظر آتی ہیں جن پر برطانیہ کے ویزے میں مدد کے اشتہار بیوٹی پارلرز کے اشتہارات کے ساتھ ساتھ نمایاں ہیں۔

تو گوجر خان میں ایسا کیا ہے، جس کی وجہ سے لوگ اسے چھوڑنا چاہتے ہیں؟

آبادی کے لحاظ سے ملک کے سب سے بڑے صوبے کی سب سے بڑی یہ تحصیل اگرچہ ملک کے موجودہ وزیراعظم کا انتخابی حلقہ ہے لیکن یہاں کے رہائشیوں کے بقول ان کا علاقہ نسبتاً پسماندگی کا شکار ہے۔

انتظامی طور پر یہ ضلع راولپنڈی میں شامل ہے اور اس کی آبادی تقریباً آٹھ لاکھ ہے۔ شاید اسی لیےگوجر خان کے لوگوں کا ایک بڑا مطالبہ یہ ہے کہ اسے الگ ضلع کا درجہ دیا جائے۔

گوجر خان کے رہائشیوں کے بقول ان کا علاقہ نسبتاً پسماندگی کا شکار ہے

گذشتہ اکتوبر میں گوجر خان میں ریلی سے خطاب کرتے ہوئے وزیرِاعظم راجہ پرویز اشرف نے تالیوں اور نعروں کی گونج میں گوجر خان کو ضلع بنانے کا اشارہ تو دیا مگر بات بنی نہیں۔

وزیراعظم راجہ پرویز اشرف دو بار گوجر خان سے منتخب ہوئے ہیں لیکن ایک عام رکنِ اسمبلی کے مقابلے میں اس بار ان کے وزیرِاعظم بننے سےگوجر خان کے لوگوں کا خیال تھا کہ تحصیل کی قسمت چمک گئی ہے۔

بطور وزیرِ پانی و بجلی اور وزیرِ اعظم، راجہ پرویز اشرف نے کئی ترقیاتی منصوبوں کا آغاز کیا، جن میں سے ایک متوا کا گیس جنکشن ہے جس سے گوجر خان کو گیس کی فراہمی باآسانی ہو گی۔

’انگلینڈیوں‘ کے شہر میں پاسپورٹ کا دفتر نہیں تھا اور وزیراعظم نے اپنے اہلِ حلقہ کو یہ سہولت بھی دلوائی۔

اس کے علاوہ وزیرِاعظم کا عہدہ سنبھالنے کے فوراً بعد، انہوں نے گوجر خان سے جانے والی مندرہ سے چکوال اور سوہاوہ سے چکوال تک کی سڑکوں کی منظوری دی۔

جب میں مندرہ سے چکوال جانے والی سڑک پر ہونے والے کام کا جائزہ لینے گئی، تو وہاں میری ملاقات ضلع راولپنڈی کے سابق کونسلر، راجہ حمید احمد سلیم سے ہوئی۔

ان کا کہنا تھا کہ ان بڑی سڑکوں سے صرف گوجر خان کو ہی فائدہ نہیں پہنچے گا۔ ’اس سڑک سے ان دیہاتیوں کو بہت فائدہ ہوگا جن کی ہسپتالوں اور فصل کی فروخت کرنے کے لیے بازاروں تک رسائی نہیں تھی۔‘

اگر آپ کے حلقے سے منتخب رکن وزیرِ اعظم بنے تو مسئلہ کیا ہے؟

آخر سابق وزیرِاعظم یوسف رضا گیلانی نے ملتان میں بڑے بڑے فلائی اوور بنوائے اور شہر کی شکل بدل دی۔ لاہور میں وزیرِاعلیٰ پنجاب شہباز شریف میٹرو بس کا نظام لائے۔ یہ ترقیاتی منصوبے سب پاکستان میں حلقے کی سیاست کا حصہ ہے۔ حساب آسان ہے، جتنے کام، اتنے ووٹ۔

تاہم پاکستان کے ذرائع ابلاغ میں اور الیکشن کمیشن آف پاکستان کی جانب سے ایسے ترقیاتی منصوبوں پر کھل کر تنقید ہوئی۔

ذرائع ابلاغ کے مطابق وزیرِاعظم نے گوجر خان میں ترقیاتی منصوبوں کے لیے ملک بھر کے ترقیاتی منصوبوں کے بجٹ سے پندرہ کروڑ روپے منتقل کیے ہیں۔ اس خبر کی تصدیق کے لیے وزیرِ اعظم کے دفتر سے رابطہ بھی کیا گیا، مگر کوئی جواب نہیں ملا۔

حلقے کی سیاست

اگر آپ کے حلقے سے منتخب رکن وزیرِ اعظم بنے تو مسئلہ کیا ہے؟ آخر سابق وزیرِاعظم یوسف رضا گیلانی نے ملتان میں بڑے بڑے فلائی اوور بنوائے اور شہر کی شکل بدل دی۔ لاہور میں وزیرِاعلیٰ پنجاب شہباز شریف میٹرو بس کا نظام لائے۔ یہ ترقیاتی منصوبے سب پاکستان میں حلقے کی سیاست کا حصہ ہے۔ حساب آسان ہے، جتنے کام، اتنے ووٹ۔

الیکشن کمیشن نے بھی اس خبر کا نوٹس لیا اور ترقیاتی فنڈز کی منتقلی کو پری پول رگنگ یعنی انتخابات سے قبل دھاندلی قرار دیتے ہوئے پابندی لگا دی۔

حکومت کا موقف ہے کہ جب تک انتخابات کی تاریخ کا اعلان نہیں ہوتا، الیکشن کمشن ایسی پابندیاں عائد نہیں کر سکتا۔

پیپلز پارٹی کے رہنما اور پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کے سربراہ ندیم افضل چن نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ’ہم چاہتے ہیں کہ الیکشن کمیشن آزاد ہو اور ہم نے ہی اسے تشکیل دیا ہے تاہم یہ الیکشن کمشن کے دائرۂ اختیار میں نہیں ہے۔‘

شاید اسی لیے الیکشن کمیشن کے احکامات کے باوجود گوجر خان میں ان دونوں سڑکوں کے لیے مزید فنڈز منظور کیے گئے ہیں۔ ادھر سرور شہید کالج کی دیوار، جس پر پرنسپل کے مطابق چھ کروڑ روپے کی لاگت آئی ہے تقریباً مکمل ہو گئی ہے۔

وزیرِاعظم نے کالج کو دو بسیں بھی دی ہیں، جو ڈرائیور نہ ہونے کی وجہ سے ابھی استعمال نہیں کی گئیں۔ پروفیسر صاحب نے بتایا کہ ڈرائیور کی تنخواہ حکومتِ پنجاب کی طرف سے آئے گی، اسی لیے تاخیر ہے۔

جس دن میں کالج گئی تو آدھا کالج خالی تھا۔ پتہ چلا کہ سب لوگ گوجر خان کی ورچوئل یونیورسٹی کی افتتاحی تقریب میں شرکت کے لیے اسلام آباد گئے ہیں اور اس تقریب کے مہمانِ خصوصی اور کوئی نہیں ان کے اپنے رکنِ قومی اسمبلی وزیرِاعظم راجہ پرویز اشرف ہیں۔

اب اگر ایک نسبتاً پسماندہ تحصیل میں جلد از جلد سڑکیں،گیس کے کنکشن اور کالج قائم کیے جا رہے ہیں تو حرج کیا ہے؟ آخر پاکستان میں انتخابات زیادہ دور نہیں۔

اسی بارے میں

متعلقہ عنوانات

BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔