بلوچستان:ٹاپ ٹوئنٹی مجرموں کی فہرست جاری

آخری وقت اشاعت:  منگل 26 فروری 2013 ,‭ 16:46 GMT 21:46 PST
ہزارہ ٹاؤن

اشتہاری مجرمان کا تعلق مختلف کالعدم جماعتوں سے بتایا جاتا ہے

بلوچستان پولیس نے اُیسے اشتہاری مجرموں کی فہرست جاری کی ہے جو پولیس حکام کے بقول صوبے میں ہونے والی شدت پسندی اور ٹارگٹ کلنگ کے واقعات میں ملوث ہیں۔ ان افراد کے سروں پر کروڑوں روپے کا انعام بھی رکھا گیا ہے۔

جن اشتہاری مجرمان کی فہرست جاری کی گئی ہے اُس میں عثمان سیف اللہ سر فہرست ہیں اور پولیس کے بقول دس جنوری اور سولہ فروری کو ہزارہ برادری کے خلاف ہونے والے خودکش اور بم حملے کے ماسٹر مائنڈ ہیں اور ان کا تعلق کالعدم تنظیم لشکر جھنگوی سے ہے۔

پولیس نے پہلے عثمان سیف اللہ کے سر کی قیمت پچیس لاکھ روپے مقرر کی تھی جو اب بڑھا کر پچاس لاکھ روپے کردی گئی ہے۔ عثمان سیف اللہ سنہ دو ہزار آٹھ میں کوئٹہ جیل سے فرار ہوئے تھے۔

پولیس نے ہزارہ ٹاؤن واقعہ میں ملوث افراد کی اطلاع دینے والے کے لیے ایک کروڑ روپے کا انعام رکھا ہے۔

اس کے علاوہ اس فہرست میں محمد عارف، حسن، جہانگیر، خلیل احمد، زاہد عرف امو، تکاری محمد اسلم، عابد علی، نصیر، حافظ وزیر احمد، دلشاد، ضیاء الحق، لیاقت بُگٹی، حاجی سعید احمد، ولی محمداور داد محمد عرف دادا شامل ہیں۔ پولیس کا کہنا ہے کہ ان اشتہاری مجرمان کے سروں کی قمیت بیس لاکھ روپے فی کس مقرر کی گئی ہےاور ان افراد سے متعلق اطلاع دینے والوں کے نام بھی صیغہ راز میں رکھے جائیں گے۔

پولیس کے بقول اشتہاری قرار دیے جانے والے مجرمان میں سے سترہ کا تعلق مختلف کالعدم تنظیموں سے ہے جبکہ دو مجرمان قتل اور اغوا برائے تاوان کی وارداتوں میں ملوث ہیں۔

عثمان سیف اللہ سرِ فہرست

جن اشتہاری مجرمان کی فہرست جاری کی گئی ہے اُس میں عثمان سیف اللہ سر فہرست ہیں اور پولیس کے بقول دس جنوری اور سولہ فروری کو ہزارہ برادری کے خلاف ہونے والے خودکش اور بم حملے کے ماسٹر مائنڈ ہیں اور ان کا تعلق کالعدم تنظیم لشکر جھنگوی سے ہے۔

پولیس نے پہلے عثمان سیف اللہ کے سر کی قیمت پچیس لاکھ روپے مقرر کی تھی جو اب بڑھا کر پچاس لاکھ روپے کردی گئی ہے۔ عثمان سیف اللہ سنہ دو ہزار آٹھ میں کوئٹہ جیل سے فرار ہوئے تھے۔

مقامی پولیس اہلکار وزیر بلوچ نے بی بی سی کو بتایا کہ ہزارہ ٹاؤن واقعہ کے بعد پولیس کے ساتھ ایک مقابلے میں ہلاک ہونے والے چار افراد کے بارے میں اطلاعات ہیں کہ اُن کے اشتہاری مجرمان حافظ وزیر احمد اور عابد علی کے ساتھ قریبی تعلقات تھے۔

پولیس اہلکار کے بقول اگر یہ افراد زندہ گرفتار کر لیے جاتے تو پولیس کو ہزارہ ٹاؤن واقعہ کی تفتیش میں بڑی مدد مل سکتی تھی۔

دوسری جانب سپریم کورٹ نے چار افراد کی ہلاکت پر برہمی کا اظہار کرتے ہوئے صوبائی حکومت سے کہا ہے کہ کسی بھی قصور وار کو سزا دینے کا اختیار صرف قانون کو ہے۔ چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری کی سربراہی میں سپریم کورٹ کے تین رکنی بینچ نے ہزارہ ٹاؤن واقعہ سے متعلق از خود نوٹس کی سماعت کے دوران صوبائی حکومت کی طرف سے پیش کی گئی رپورٹ پر عدم اطمینان کا اظہار کیا۔

ایڈیشنل ایڈووکیٹ جنرل نے عدالت کو بتایاکہ ہزارہ ٹاؤن کی طرف جانے والے تمام راستوں کو بند کردیا گیا ہے جس پر چیف جسٹس کا کہنا تھا کہ اس طرح تو علاقہ نو گو ایریا بن جائے گا۔ اُنہوں نے صوبائی حکومت سے کہا کہ ایسے اقدامات نہ کریں جس سے ملک میں فرقہ وارانہ فسادات شروع ہونے کا خطرہ ہو۔

سپریم کورٹ نے اس واقعہ سے متعلق اب تک کی جانے والی تفتیش پر عدم اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ وہ اس واقعہ کی جڑ تک نہیں پہنچ سکی۔ عدالت نے آئندہ سماعت پر سیکرٹری داخلہ، آئی جی بلوچستان اور فرنٹئیر کور کے سربراہ سے تفصیلی رپورٹ طلب کر لی ہے۔

اسی بارے میں

متعلقہ عنوانات

BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔