نواز لیگ کا فنکشنل لیگ سے بھی انتخابی اتحاد

آخری وقت اشاعت:  منگل 26 فروری 2013 ,‭ 15:15 GMT 20:15 PST

پاکستان مسلم لیگ نواز، نیشنل پیپلز پارٹی اور پاکستان مسلم لیگ فنکشنل نے ملک میں ہونے والے آئندہ انتخابات میں ایک دوسرے کے خلاف امیدوار نہ کھڑے کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔

اس بات کا فیصلہ منگل کو کراچی میں نواز شریف اور پیر پگاڑا کے درمیان ہونے والی ملاقات کے بعد کیا گیا۔

ملاقات کے بعد مشترکہ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے پاکستان مسلم لیگ فنکشنل کے سربراہ پیر پگارا، نیشنل پیپلز پارٹی کے سربراہ غلام مرتضی جتوئی اور پاکستان مسلم لیگ نواز کے سربراہ نواز شریف کا کہنا تھا کہ وہ حزب اختلاف کی دیگر سیاسی جماعتوں کو، جن میں جماعتِ اسلامی بھی شامل ہے، بھی اس انتخابی اتحاد میں شامل کرنے کی بھرپور کوشش کریں گے۔

اس موقع پر نواز شریف نے کہا ہم نے نیشنل پیپلز پارٹی اور پاکستان مسلم لیگ فنکشنل کے ساتھ انتخابی اتحاد کا فیصلہ کیا ہے اور تینوں جماعتیں مل کر آئندہ انتخابات میں حصہ لیں گی۔

مسلم لیگ کے سربراہ کا کہنا تھا کہ گٹھ جوڑ اور ملی بھگت سے سندھ کے عوام کو دھوکا دیا جا رہا ہے، رشتہ وہی قائم رہتا ہے جس میں لالچ نہ ہو۔

انہوں نے کہا کہ سندھ کے عوام کو ’تاریخ کے بدعنوان اور نااہل ترین‘ حکومتی اتحاد سے نجات دلانے کے لیے ہر سیٹ پر متفقہ امیدوار لانے کی کوشش کی جائے تا کہ سندھ کے طول و عرض میں حکمران اتحاد اور اپوزیشن اتحاد میں ون ٹو ون مقابلہ ہو سکے۔

"سندھ کے عوام کو تاریخ کے بد عنوان اور نا اہل ترین حکومتی اتحاد سے نجات دلانے کے لیے ہر سیٹ پر متتفہ امید اور لانے کی کوشش کی جائے تاہم سندھ کے طول و عرض میں حکمران اتحاد اور اپوزیشن اتحاد میں ون ٹو ون مقابلہ ہو سکے۔"

نواز شریف

نواز شریف کے مطابق اجلاس میں اس بات پر تشویش کا اظہار کیا گیا کہ چار سال اور گیارہ ماہ حکومت کا حصہ رہنے کے بعد حکمران اتحاد کا ایک حصہ حکومت سے علیحدہ ہو کر اپوزیشن کے مینڈیٹ اور نگران حکومت کے حوالے سے آئینی کردار پر ڈاکہ ڈالنا چاہتا ہے۔

اس موقع پر پیر پگاڑا نے کہا کہ میں جو کچھ کر رہا ہوں اپنے والد کی خواہش پر کر رہا ہوں۔ انہوں نے کہا کہ پیپلز پارٹی نے پانچ سال میں عوام کو رسوا کیا ہے، خیبر پختونخوا اور بلوچستان میں پیپلز پارٹی کا صفایا ہوگیا ہے۔

اس سے پہلے قومی اسمبلی میں قائد حزب اختلاف چوہدری نثار علی خان اور پنجاب کے وزیر اعلی میاں شہباز شریف نے کنگری ہاؤس کراچی میں پاکستان مسلم لیگ فنکشنل کے وفد سے ملاقات کی۔

اس ملاقات میں دونوں جماعتوں کے وفد نے ایک دوسرے کے ساتھ مکمل تعاون کرنے کا بھی اعلان کیا۔

دریں اثناء پاکستان مسلم لیگ نواز کے سربراہ نواز شریف حال ہی میں جماعت اسلامی کے انتقال کرنے والے رہنما پروفیسر غفور احمد کے گھر گئے اور ان کی وفات پر تعزیت کی۔

"پیپلز پارٹی نے پانچ سال میں عوام کو رسوا کیا ہے، خیبر پختنوا اور بلوچستان میں پیپلز پارٹی کا صفایا ہو گیا ہے اگر ہمیں لالچ ہوتا تو ہم پیپلز پارٹی سے اتحاد ختم نہ کرتے، حکومت انتخابات میں دھاندلی کی منصوبہ بندی کر رہی ہے، ہماری کوشش ہے کہ ون ٹو ون انتخاب ہو۔"

پیر پگارا

اس موقع پر میڈیا سے بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ کراچی کو یرغمال بنا لیا گیا ہے۔

نواز شریف نے چیف الیکشن کمشنر جسٹس (ریٹائرڈ) فخر الدین جی ابراہیم سے استدعا کی کہ وہ کراچی کی صورت حال پر نظر رکھیں۔ انہوں نے کہا اگر ملک میں شفاف انتخابات کا انعقاد نہ ہوا تو اس صورت میں انتخابی نتائج تسلیم نہیں کیے جائیں گے۔

خیال رہے کہ پچیس فروری کو مسلم لیگ نون کے سربراہ نواز شریف اور جمعیت علمائے اسلام فضل الرحمان نے بھی ایک دوسرے سے انتخابی تعاون کا معاہدہ کیا تھا۔

اس موقع پر دونوں رہنماؤں نے پریس کانفرس سے خطاب کرتے ہوئے کہا تھا کہ انتخابی تعاون کے لیے دونوں جماعتیں اپنی اپنی کمیٹیاں تشکیل دی جائیں گی اور ایک دوسرے سے مذاکرات کے بعد ممکنہ انتخابی تعاون کا طریقۂ کار طے کیا جائے گا۔

اسی بارے میں

متعلقہ عنوانات

BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔