تعلیمی اداروں کی نگرانی کا قانون منظور

آخری وقت اشاعت:  منگل 26 فروری 2013 ,‭ 14:29 GMT 19:29 PST

اتھارٹی خلاف ورزی کے مرتب اداروں پر یومیہ پانچ ہزار روپے جرمانہ عائد کرسکے گی

پاکستانی پارلیمان کے ایوان بالا، سینیٹ نے اسلام آباد میں چلنے والے نجی تعلیمی اداروں کی رجسٹریشن اور ریگولیشن کے لیے بل منظور کیا ہے جس کے تحت قواعد کی خلاف ورزی کرنے والوں کو ایک سال تک قید کی سزا دی جاسکے گی۔

اس قانون کا اطلاق انٹر میڈیٹ یا ہائرسیکنڈری تک تعلیم دینے والے نجی تعلیمی اداروں بشمول ٹیوشن سینٹروں پر ہوگا۔

کیپیٹل ایڈمنسٹریشن اینڈ ڈویلپمنٹ کے وفاقی وزیر نذرمحمد گوندل کے مطابق اسلام آباد میں قائم نجی تعلیمی اداروں میں معیاری تعلیم کو یقینی بنانے اور شکایات کے ازالے کے لیے یہ قانون ضروری تھا۔

انہوں نے کہا کہ تعلیم کا شعبہ صوبوں کو منتقل ہوچکا ہے اور تمام صوبوں نے نجی تعلیمی اداروں کے لیے قانون سازی کرلی ہے اور اسلام آباد میں ساڑھے چھ سو نجی تعلیمی اداروں کے اندراج اور ریگولیشن کے لیے یہ قانون بنایا جا رہا ہے۔

سینیٹ کے منظور کردہ بل میں تجویز کیا گیا ہے کہ تین رکنی اتھارٹی قائم ہوگی، جس کے سربراہ چیئرمین ہوں گے اور انہیں حکومت تعینات کرے گی۔ یہ اتھارٹی قوائد و ضوابط بنائے گی اور اس پر عملدرآمد کرائے گی۔

وفاقی وزیر نے بتایا ہے کہ اسلام آباد میں سنہ دو ہزار چھ تک نجی تعلیمی ادارے بغیر کسی قانون کے چل رہے تھے۔ سنہ دو ہزار چھ میں آرڈیننس جاری کیا گیا جس کے تحت ایک اتھارٹی قائم کی گئی تھی۔ اب اس ادارے کو مستقل قانونی حیثیت دینے کے لیے یہ قانون بنایا جا رہا ہے۔

نجی تعلیمی اداروں کو ضابطے میں لانے کے لیے اتھارٹی کو اختیار ہوگا کہ کسی ادارے کا رجسٹریشن سرٹیفکیٹ معطل یا منسوخ کرسکے گی۔ اتھارٹی خلاف ورزی کے مرتب اداروں پر یومیہ پانچ ہزار روپے جرمانہ عائد کرسکے گی۔

اتھارٹی کے فیصلوں کے خلاف اپیل کیپیٹل ایڈمنسٹریشن کی وزارت کے سیکرٹری کے پاس دائر کی جاسکے گی۔ اتھارٹی کسی فریق کو سنے بنا فیصلہ نہیں کرے گی اور اپنے فیصلوں کی وجوہات تحریر کرے گی۔

نجی تعلیمی اداروں میں فیس زیادہ وصول کرنے، اساتذہ کو معاوضہ کم دینے یا نصابی اور غیر نصابی سرگرمیاں معیار کے مطابق نہ ہونے پر بھی کارروائی کرسکے گی۔ یہ اتھارٹی تعلیمی درجوں کے اعتبار سے فیس مقرر کرنے کی بھی مجاز ہوگی۔

اس بل میں کہا گیا ہے کہ اس قانون کے اطلاق کے نوے روز کے اندر جو نجی تعلیمی ادارے اندراج نہیں کرائے گا اس کے خلاف کارروائی ہوگی۔

نجی تعلیمی اداروں کو ضابطے میں لانے کے لیے قائم ہونے والی اتھارٹی مالی طور پر خود انحصاری کے لیے اخراجات، رجسٹریشن، جرمانے اور دیگر فیس سے حاصل ہونے والی رقم سے پورا کرے گی۔

اسی بارے میں

متعلقہ عنوانات

BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔