’گرینڈ جرگہ فریقین کے ساتھ مذاکرات شروع کرے‘

آخری وقت اشاعت:  جمعرات 28 فروری 2013 ,‭ 15:11 GMT 20:11 PST

پاکستان کے دارالحکومت اسلام آباد میں جمعیت علمائے اسلام کے تحت کُل جماعتی کانفرنس میں اعلان کیا گیا ہے کہ تمام سیاسی اور مذہبی جماعتوں کے قائدین کی رہنمائی میں گرینڈ جرگہ فریقین کے ساتھ مذاکرات شروع کرے۔

کانفرنس کے اختتام پر جمعیت علمائے اسلام کے قائد مولانا فضل الرحمان نے میڈیا سے بات کرتے ہوئے پانچ نکاتی اعلامیے کا اعلان کیا۔

اس اعلامیے میں قبائلی علاقے اور صوبہ خیبر پختونخوا میں امن کے لیے گرینڈ جرگے کی حمایت کی۔ اعلامیے میں تجویز دی گئی کہ موجودہ گرینڈ جرگے کو وسعت دی جائے اور تمام مکتبہ فکر کی جماعتوں کو اس میں نمائندگی دی جائے۔

اعلامیے میں مطالبہ کیا گیا کہ ملک میں بدامنی کے خاتمے کے لیے عملی اقدامات اٹھائے جائیں۔ ’ہم ہر اس اقدام کی حمایت کرتے ہیں جس سے ملک میں آئین اور قانون کی بالادستی قائم ہو‘۔

جمعیت علمائے اسلام کے تحت کل جماعتی کانفرنس کےاعلامیے میں ’شہداء ٹرسٹ‘ کے قیام کا بھی مطالبہ کیا گیا۔

اعلامیے نے حکومت، آنے والی نگران حکومت، انتخابات کے بعد وجود میں آنے والی حکومت اور حزبِ اختلاف کو اس بات کا پابند کیا ہے کہ وہ اعلامیے میں تجویز کردہ اقدامات پر عمل کرنے کی پابند ہوں گی۔

واضح رہے کہ اعلامیے سے اعلان سے قبل تجویز کردہ اعلامیے میں ’بدامنی‘ کی جگہ ’دہشت گردی‘ کا لفظ استعمال کیا گیا ہے جس کو حتمی اعلامیے میں تبدیل کردیا گیا۔

جمعیت علمائے اسلام کے قائد مولانا فضل الرحمان نے میڈیا سے بات کرتے ہوئے کہا کہ اس کانفرنس کا مقصد تھا کہ قبائلی عمائدین پر مشتمل قبائلی جرگے کو اور امن کے قیام کے لیے ان کے ایجنڈے کو سیاسی جماعتوں کی حمایت حاصل ہے۔

انہوں نے مذید کہا کہ قبائلی جرگے نے قومی قائدین کی آراء کو اپنے ایجنڈے کا حصہ بنانے کے لیے وہ کل شام پشاور میں جرگہ کریں گے تاکہ حتمی فیصلہ کیا جائے کہ کسی طرح ان آراء کو ایجنڈے کا حصہ بنایا جاسکے۔

اس سے قبل کُل جماعتی کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے مسلم لیگ نواز کے قائد میاں نواز شریف نے کہا کہ امن کی خاطر طالبان کی جانب سے مذاکرات کی دعوت کو سنجیدگی سے لینا چاہیے۔

انہوں نے طالبان کے ساتھ مذاکرات کی حمایت کرتے ہوئے حکومت سے مطالبہ کیا کہ وہ اس دعوت کا مثبت جواب دیں۔

پاکستان تحریکِ انصاف نے اس کُل جماعتی کانفرنس میں حصہ نہ لینے کا فیصلہ کیا تھا۔

اس سے قبل اے این پی کی کل جماعتی کانفرنس میں ملک کی دو اہم جماعتوں جماعت اسلامی اور تحریک انصاف نے شرکت نہیں کی تھی۔ انہوں نے کہا تھا کہ حکومت ختم ہونے سے صرف چند دن قبل اس کانفرنس کا مقصد اے این پی کا سیاسی فائدہ حاصل کرنا ہے۔

اسی بارے میں

متعلقہ عنوانات

BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔