مہمند ایجنسی، سکولوں کی تباہی کا سلسلہ جاری

آخری وقت اشاعت:  جمعرات 28 فروری 2013 ,‭ 07:30 GMT 12:30 PST

حملوں کی وجہ سے سکولوں کی عمارتیں اب قابل استعمال نہیں رہیں

پاکستان کے قبائلی علاقے مہمند ایجنسی میں حکام کا کہنا ہے کہ مسلح افراد نے ایک دن میں لڑکوں کے چار سکولوں کو دھماکہ خیز مواد سے تباہ کر دیا ہے۔

دریں اثناء قبائلی علاقے خیبر ایجنسی کی تحصیل جمرود میں ایک نوجوان کی لاش ملی ہے جنہیں فائرنگ کر کے ہلاک کیاگیا ہے۔

مقامی انتظامیہ کے مطابق یہ واقعات بدھ اور جمعرات کے درمیانی شب کو تحصیل صافی کے مختلف علاقوں میں پیش آئے ہیں۔

مقامی پولیٹکل انتظامیہ کے ایک اہلکار نے بی بی سی کو بتایا کہ درجنوں مسلح افراد نے مہمند ایجنسی کے صدر مقام غلنئی سے کوئی تیس کلومیٹر دور شمال کی جانب تحصیل صافی کے علاقے قنداروں، شرب خیل اور کمال خیل میں لڑکوں کے دو مڈل اور دو پرائمری سکول کو دھماکہ خیز مواد سے نشانہ بنایا جس سے چاروں سکولوں کی عمارتوں کو شدید نقصان پہنچا ہے۔

کلِک پانچ سو سکول تباہ، چھ ہزار اساتذہ مجبور

ان کا کہنا تھا کہ شدت پسندوں نے پہلے مڈل سکول کمال خیل میں دو دھماکے کیے جس سے پانچ کمرے اور سکول کا برآمدہ تباہ ہوگیا ہے۔

اہلکار کے مطابق کچھ دیر بعد کمال خیل سے متصل ایک دوسرے گاؤں شرب خیل میں لڑکوں کے ایک پرائمری سکول کو نشانہ بنایا جس میں سکول کے تین کمرے اور پرنسپل کا دفتر مکمل طورپر تباہ ہوگیا۔

ایک سو سترہ سکول تباہ

حکام کے اعداد و شمار کے مطابق مہمند ایجنسی میں تباہ کیے جانے والے سکولوں کی تعداد ایک سو سترہ تک پہنچ گئی ہے۔جن میں چالیس سے زیادہ لڑکوں کے بتائے جاتے ہیں۔

انہوں نے مزید بتایا کہ اس دوران تحصیل صافی ہی کے علاقے قنداروں میں مُسلح افراد نے لڑکوں کے ایک مڈل اور ایک پرائمری سکول کو تباہ کر دیا۔

اہلکار کے مطابق رات کی تاریکی میں کئی زوردار دھماکوں سے دونوں سکولوں کی عمارتیں مکمل طور پر تباہ ہوگئیں ہیں۔

انہوں نے بتایا کہ حملوں کی وجہ سے یہ عمارتیں اب قابلِ استعمال نہیں رہیں۔

خیال رہے کہ یہ واقعات ایسے وقت پیش آئے ہیں کہ جب حکام نے دعویٰ کیا ہے کہ مہمند ایجنسی کے اکثر علاقوں کو شدت پسندوں سے صاف کرا لیا گیا ہے۔

حکام کے اعداد و شمار کے مطابق مہمند ایجنسی میں تباہ کیے جانے والے سکولوں کی تعداد ایک سو سترہ تک پہنچ گئی ہے۔جن میں چالیس سے زیادہ لڑکوں کے بتائے جاتے ہیں۔

اس کے علاوہ خیبر ایجنسی کی تحصیل جمرود میں ایک نوجوان کی لاش ملی ہے جنہیں فائرنگ کر کے ہلاک کیاگیا ہے۔

مقامی انتظامیہ کے ایک اہلکار نے بتایا کہ لاش کو سول ہسپتال جمرود منتقل کر دیاگیا ہے اور ان کے جیب سے قومی شناختی کارڈ مل گیا ہے جس کے مطابق مقتل کا نام سیف اللہ ہے جن کا تعلق لکی مروت سے بتایا جاتا ہے۔

انہوں نے بتایا کہ اس واقعہ سے ایک دن پہلے جمرود ہی میں دو لاشیں ملی تھیں جنہیں فائرنگ کر کے ہلاک کیاگیا تھا۔

دوسری جانب پشاور ہائی کورٹ نے بوری بند لاشوں کے خلاف ازخود نوٹس کیس میں ایڈیشنل آئی جی انویسٹی گیشن کو آئندہ سماعت پر طلب کیا ہے جبکہ سی سی پی او کو بوری بند لاشوں کی انکوائری کر کے اصل ملزمان گرفتار کرنے کی ہدایت کی ہے۔

اسی بارے میں

متعلقہ عنوانات

BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔