پشاور جرگہ ایک اور جرگے کے اعلان پر ختم

آخری وقت اشاعت:  ہفتہ 2 مارچ 2013 ,‭ 03:50 GMT 08:50 PST

اس جرگے کا انعقاد پشاور میں گورنر خیبر پختونخوا کے ساتھ گورنر ہاؤس میں کیا گیا

پاکستان کےصوبہ خیبر پختونخوا کے دارالحکومت پشاور میں گورنر ہاؤس میں منعقد ہونے والا ایک جرگہ بغیر کسی نتیجے کے اس اعلان پر اختتام پذیر ہو گیا ہے کہ جلد ہی ایک اور جرگے کا انعقاد کیا جائے گا۔

اس جرگے کا اعلان مولانا فضل الرحمان نے گزشتہ دنوں اسلام آباد میں اپنی جماعت جمعیت علمائے اسلام کے تحت کُل جماعتی کانفرنس میں کیا تھا اور اس جرگے میں بڑی تعداد میں انہی کی جماعت کے افراد شامل تھے جبکہ گورنر خیبر پختونخوا انجینئر شوکت اللہ نے بھی اس میں شرکت کی۔

اس جرگے میں مولانا فضل الرحمان کے ساتھ ستر رکنی ایک وفد تھا اور اس جرگے کے اختتام پر اعلان کیا گیا کہ ایک اور جرگہ جلد بلایا جائے گا مگر نہ ہی اس سلسلے میں کوئی کمیٹی تشکیل دی گئی اور نہ ہی کسی تاریخ کا اعلان کیا گیا۔

گورنر خیبر پختونخوا نے اعلان کیا کہ یہ جرگہ جس کا انعقاد جلد کیا جائے گا اس میں تمام قبائلی عمائدین اور علماء کی شرکت کو یقینی بنایا جائے گا اور اس میں ایک خودمختار کمیٹی تشکیل دی جائے گی اور یہ جرگہ بھی گورنر ہاؤس پشاور میں منعقد کیا جائے گا۔

مولانا فضل الرحمان کی جماعت کے علاوہ اس میں قبائلی علاقوں سے بھی کچھ افراد شریک تھے مگر زیادہ افراد نیم قبائلی علاقوں شیرانی اور ڈومیل سے شریک ہوئے۔

اس سے قبل اسلام آباد میں جمعیت علمائے اسلام فضل الرحمان کے زیر انتظام کل جماعتی کانفرنس کے اختتام پر جماعت کے قائد مولانا فضل الرحمان نے میڈیا سے بات کرتے ہوئے پانچ نکاتی اعلامیے کا اعلان کیا تھا۔

اس اعلامیے میں قبائلی علاقے اور صوبہ خیبر پختونخوا میں امن کے لیے گرینڈ جرگے کی حمایت کی گئی اور اعلامیے میں تجویز دی گئی کہ موجودہ گرینڈ جرگے کو وسعت دی جائے اور تمام مکتبہ فکر کی جماعتوں کو اس میں نمائندگی دی جائے۔

اعلامیے میں مطالبہ کیا گیا کہ ملک میں بدامنی کے خاتمے کے لیے عملی اقدامات اٹھائے جائیں۔ ’ہم ہر اس اقدام کی حمایت کرتے ہیں جس سے ملک میں آئین اور قانون کی بالادستی قائم ہو‘۔

جمعیت علمائے اسلام کے تحت کل جماعتی کانفرنس کےاعلامیے میں ’شہداء ٹرسٹ‘ کے قیام کا بھی مطالبہ کیا گیا تھا۔

اعلامیے نے حکومت، آنے والی نگران حکومت، انتخابات کے بعد وجود میں آنے والی حکومت اور حزبِ اختلاف کو اس بات کا پابند کیا ہے کہ وہ اعلامیے میں تجویز کردہ اقدامات پر عمل کرنے کی پابند ہوں گی۔

یاد رہے کہ اس سے قبل کُل جماعتی کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے مسلم لیگ نواز کے قائد میاں نواز شریف نے کہا تھا کہ امن کی خاطر طالبان کی جانب سے مذاکرات کی دعوت کو سنجیدگی سے لینا چاہیے۔

انہوں نے طالبان کے ساتھ مذاکرات کی حمایت کرتے ہوئے حکومت سے مطالبہ کیا کہ وہ اس دعوت کا مثبت جواب دیں۔

پاکستان تحریکِ انصاف نے اس کُل جماعتی کانفرنس میں حصہ نہ لینے کا فیصلہ کیا تھا۔

اس سے قبل اے این پی کی کل جماعتی کانفرنس میں ملک کی دو اہم جماعتوں جماعت اسلامی اور تحریک انصاف نے شرکت نہیں کی تھی۔ انہوں نے کہا تھا کہ حکومت ختم ہونے سے صرف چند دن قبل اس کانفرنس کا مقصد اے این پی کا سیاسی فائدہ حاصل کرنا ہے۔

واضح رہے کہ اعلامیے سے اعلان سے قبل تجویز کردہ اعلامیے میں ’بدامنی‘ کی جگہ ’دہشت گردی‘ کا لفظ استعمال کیا گیا ہے جس کو حتمی اعلامیے میں تبدیل کردیا گیا۔

اسی بارے میں

BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔