کراچی میں دھماکا، کم از کم چالیس افراد ہلاک

آخری وقت اشاعت:  اتوار 3 مارچ 2013 ,‭ 17:53 GMT 22:53 PST

پاکستان کے سب سے بڑے شہر کراچی میں ہونے والے ایک دھماکے میں کم از کم چالیس افراد ہلاک ہوگئے ہیں۔

محکمۂ صحت سندھ کے سیکرٹری سریش کمار نے بی بی سی کو بتایا کہ اس دھماکے میں ہلاک ہونے والوں کی تعداد چالیس ہو گئی ہے جبکہ سو سے زائد افراد زخمی ہیں۔

یہ دھماکہ اتوار کی شام ابوالحسن اصفہانی روڈ پر واقع آبادی عباس ٹاؤن میں ہوا۔ اس علاقے میں شیعہ مسلک سے تعلق رکھنے والی آبادی کی اکثریت ہے۔

بی بی سی کے نامہ نگار ارمان صابر کے مطابق دھماکا اقراء سٹی نامی رہائشی کمپلیکس کے قریب ہوا اور یہ اس قدر شدید تھا کہ نہ صرف اس سے فلیٹوں کی کھڑکیوں کے شیشے ٹوٹ گئے بلکہ بالکونیوں کو بھی نقصان پہنچا۔

دھماکے کے بعد چار سے چھ منزلہ عمارتوں کے چند فلیٹوں میں آگ بھی لگ گئی جسے بجھانے کے لیے فائر بریگیڈ جائے وقوع پر پہنچی۔

دھماکے کے بعد جائے وقوع پر امدادی کارروائیاں شروع کر دی گئیں اور لاشوں اور زخمیوں کو جناح ہسپتال، پٹیل ہسپتال اور عباسی شہید ہسپتال منتقل کیا گیا۔

جناح ہسپتال کی ڈپٹی ڈائریکٹر سیمی جمالی نے بی بی سی اردو کو بتایا کہ ان کے ہسپتال میں دس لاشیں لائی گئیں۔ اس کے علاوہ پٹیل ہسپتال میں سات، آغا خان ہسپتال میں تین اور عباسی شہید ہسپتال میں بھی دو لاشیں لائی گئیں۔

گزشتہ برس اٹھارہ نومبر کو بھی عباس ٹاؤن میں ہی ایک دھماکا ہوا تھا

آغا خان ہسپتال کے پی آر او کے مطابق صرف ان کے پاس ستّر زخمیوں کو لایا گیا جبکہ شہر کے دیگر ہسپتالوں میں زخمیوں کی تعداد چالیس سے زائد بتائی گئی ہے۔

کراچی پولیس کے ایس ایس پی سی آئی ڈی فیاض خان نے بی بی سی اردو کو بتایا کہ دھماکا ایک گاڑی میں ہوا جس کا انجن مل گیا ہے تاہم یہ واضح نہیں کہ وہ گاڑی دھماکے کے مقام پر کھڑی کی گئی تھی یا اس میں خودکش حملہ آور بھی سوار تھا۔

فیاض خان نے کہا کہ اس دھماکے میں ڈیڑھ سو کلوگرام سے کہیں زیادہ دھماکا خیز مواد استعمال کیا گیا۔ انہوں نے بتایا کہ اس دھماکے کی نوعیت سول لائنز میں ہونے والے دھماکے سے ملتی جلتی ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ دھماکے میں بال بیئرنگ اور آگ پکڑنے والا دھماکا خیز مواد استعمال ہوا۔

تاحال کسی گروپ نے اس دھماکے کی ذمہ داری قبول نہیں کی ہے تاہم ایس ایس پی سی آئی ڈی نے کہا ہے کہ دھماکے میں جس قسم کا مواد اور طریقۂ کار استعمال ہوا ہے اس سے بظاہر اس میں لشکرِ جھنگوی اور تحریکِ طالبان کے ملوث ہونے کے امکانات ہیں۔

ابتدائی طور پر علاقے میں دو دھماکوں کی آوازیں سنی گئی تھیں تاہم پولیس کا کہنا ہے کہ دوسرا دھماکا سلنڈر پھٹنے سے ہوا تھا۔

صوبہ سندھ کے وزیراعلیٰ نے اس دھماکے پر صوبے بھر میں ایک روزہ سوگ کا اعلان کیا ہے جبکہ کراچی میں تاجر برادری اور ٹرانسپورٹرز کے مطابق پیر کو کاروبار اور ٹرانسپورٹ بھی بند رہے گی۔

خیال رہے کہ گزشتہ برس اٹھارہ نومبر کو محرم الحرام کے دوران بھی عباس ٹاؤن میں ہی ایک دھماکا ہوا تھا جس میں دو افراد ہلاک اور رینجرز اور پولیس اہلکاروں سمیت بیس افراد زخمی ہو گئے تھے۔ اس وقت دھماکہ خیز مواد کو ایک موٹر سائیکل سے باندھ کر ریموٹ کنٹرول کی مدد سے دھماکا کیا گیا تھا۔

اسی بارے میں

BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔