کثیر ملکی بحری مشق، بھارت کو دعوت نہیں دی گئی

آخری وقت اشاعت:  پير 4 مارچ 2013 ,‭ 10:20 GMT 15:20 PST

ریئرایڈمرل ہشام بن صدیق نے کہا کہ بھارت سے نمٹنے کےلیے پاکستان کی بحریہ ہروقت تیار ہے

پاکستان کی بحریہ کے زیرِ ہتمام کثیر القومی بحری مشق ’امن‘ آج سے بحیرۂ عرب میں شروع ہو رہی ہیں۔ ان مشقوں میں 34 ملکوں کی بحریہ حصہ لے رہی ہیں مگر بھارت کو اس میں شرکت کی دعوت نہیں دی گئی۔

پاکستان کی بحریہ کے کمانڈر فلیٹ ریئر ایڈمرل ہشام بن صدیق نے کراچی میں بی بی سی اردو سروس کو خصوصی انٹرویو میں بتایا کہ پاکستان اور بھارت کے درمیان اعتماد کی سطح برابر ہوئے بغیر دونوں کا ساتھ ہونا ممکن نہیں ہے۔

کمانڈر فلیٹ کے مطابق امن مشقیں ان ممالک کا اتحاد ہیں جن کے مشترکہ مفادات ہیں اور وہ متحد ہو کر کام کرنا چاہتے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ انھیں نہیں لگتا کہ جب تک بھارت کے ساتھ دیرینہ تنازعات حل نہ ہو جائیں تب تک پاکستان اور بھارت اس طرح کی کسی بھی بحری مشقوں میں ایک ساتھ حصہ لے سکتے ہیں۔

ریئرایڈمرل ہشام بن صدیق کے مطابق بھارت پاکستان کا روایتی حریف ہے اور بحر ہند میں اس سے براہِ راست خطرے کا سامنا ہمیشہ رہتا ہے، اسی لیے ملک کی دفاعی پالیسی بھارت کی طرف سے لاحق خطرے کو سامنا رکھتے ہوئے ترتیب دی گئی ہے۔

انھوں نے کہا کہ بھارت سے نمٹنے کےلیے پاکستان کی بحریہ ہروقت تیار ہے اور اپنی سمندری حدود میں اپنے مفادات کے تحفظ کی حکمت عملی کو موُثر بنانے کے لیے اس میں ضرورت کے مطابق تبدیلی کرتی رہتی ہے۔

دو سال پہلے ہونے والے ممبئی حملوں میں بھارت نے دہشت گردوں کی طرف سے پاکستان کی سمندری حدود استعمال کرنے کا الزام لگایا تھا۔ اس کے جواب میں ریئر ایڈمرل ہشام بن صدیق کا کہنا تھا کہ پاکستان نے سمندری روٹس کے تحفظ کو یقینی بنانے کے لیے نئے آلات نصب کیے ہیں جب کہ سراغرسانی کے خصوصی ہیلی کاپٹرز اور بحری جہاز بھی ہر وقت پاکستان کی سمندری حدود کی نگرانی کر رہے ہوتے ہیں۔

نائن الیون کے بعد بحرِ ہند میں پاکستان کے لیے روایتی کے ساتھ غیر روایتی خطرات میں بھی اضافہ ہوا ہے۔ فلیٹ کمانڈر نے بتایا کہ روایتی خطرات میں بھارت اور ایٹمی ہتھیاروں کا استعمال شامل ہیں جبکہ غیر روایتی خطرات میں بحری قزاقی، منشیات اور اسلحے کی اسمگلنگ اور انسانی اسمگلنگ سرِفہرست ہیں۔

اس کے علاوہ پاکستان کی بحریہ کو اندرونی طور پر بھی خطرات کا سامنا ہے جن میں بحریہ کی تنصیبات اور اہلکاروں پر دہشت گردوں کے حملے شامل ہیں۔ ہشام بن صدیق نے بتا یا کہ اندرونی خطرات کے چیلنج سے نمٹنے کے لیے بحریہ نے تین اقدامات پر مبنی حکمت عملی تیار کی ہے۔

اس سلسلے میں سب سے پہلے سکیورٹی کے نظام کو جدید خطوط پر استوار کیا گیا ہے جس کے تحت تمام اہم تنصیبات پر سراغرسانی کے جدید کیمرے نصب کیے گئے ہیں جبکہ الیکٹرونک ڈیٹیکشن کا نظام متعارف کیا گیا ہے۔پھر تمام اہم تنصیبات پر خصوصی تربیت یافتہ جوانوں کو تعینات کیا گیا ہے۔ اور تیسرا، سروسز کی انٹیلی جنس کے درمیان رابطوں کو مربوط کیا گیا ہے جبکہ اسپیشل فورسز کو مقامی اور بین الاقوامی خطرات سے نبرد آزما ہونے کے لیے خاص آپریشنز کی تربیت دی گئی ہے۔

جنوبی ایشیا کی ابھرتی ہوئی بحری صورتحال، سمندری جرائم اور دہشت گردی کی ہر لمحہ بدلتی غیر واضح شکل کے لیے وسائل کو ہر وقت بڑھانا پاکستان کی بحریہ کے لیے بڑا چیلنج ہے۔

اس بارے میں فلیٹ کمانڈر کا کہنا تھا کہ یہ ایک مسلسل عمل ہے جس کے تحت بڑھتے ہوئے خطرات کو کم کرنے کے لیے بحریہ کی صلاحیت میں اضافے کی ضرورت رہتی ہے، حکومت انہیں ہر ممکن وسائل فراہم کر رہی ہے مگر معیشت کی حالت اور دنیا بھر میں دفاعی سازوسامان کی بڑھتی ہوئی قیمتیں بھی مدنظر رکھنی ہوتی ہیں۔

متعلقہ عنوانات

BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔