’ریپ کا نشانہ بننے والی لڑکی کو قتل کیا گیا‘

آخری وقت اشاعت:  بدھ 6 مارچ 2013 ,‭ 00:22 GMT 05:22 PST
کشمیر کا ایک خوبصورت منظر

یہ واقعے کمشیر کے ضلع باغ میں پیش آیا

پاکستان کے زیر انتظام کشمیر کے ایک گاؤں میں گزشتہ سال مبینہ ریپ (جنسی حملے) کا شکار ہونے والی لڑکی کی پُر اسرار موت کے بعد پولیس نے آج کہا کہ اسے تشدد کا نشانہ بنایا گیا تھا۔

انیس سال کی غیر شادی شدہ کشمیری لڑکی جس نے میبنہ ریپ کے بعد ایک مُردہ بچے کو جنم دیا آج سے کوئی پونے دو ماہ پہلے پُراسرار حالات میں مردہ پائی گئی تھی۔

ضلع باغ کے پولیس سربراہ ریاض عباسی نے کہا کہ پوسٹ مارٹم کی ابتدائی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ لڑکی کی موت تشدد کی وجہ سے ہوئی ہے۔

’رپورٹ کے مطابق لڑکی کے گردن پر ناخنوں کے زخم کے نشان تھے اور اس کے علاوہ جسم پر تشدد کے چھ اور نشان بھی تھے‘۔ رپورٹ میں یہ بھی لکھا ہے کہ ’اس (لڑکی) پر بری طرح سے تشدد کیا گیا ہے جس کے نشانات جسم پر موجود ہیں۔‘

پولیس افسر ریاض عباسی نے کہا کہ لڑکی کی لاش کے اجزا کیمائی تجزیے کے لیے بھیج دیے گئے ہیں جبکہ مُردہ بچے اور ملزم کے نمونے ڈی این اے ٹیسٹ کے لیے بھیجے جا رہے ہیں۔

پولیس افسر کا کہنا ہے کہ انھیں پوسٹ مارٹم کی ابتدائی رپورٹ پیر کو موصول ہوئی جس کے فوراً بعد قتل کا مقدمہ درج کیا گیا۔

ان کا کہنا ہے کہ اس مقدمے میں نامزد ملزم کو منگل کو گرفتار کیا گیا جس پر ورثاء نے لڑکی پر جنسی حملے کرنے کا الزام لگایا ہے۔

انھوں نے کہا کہ اب اس کی تحقیقات کی جائے گی آیا نامزد ملزم ہی لڑکی کے قتل میں ملوث ہے یا پھر کوئی اور ۔

پولیس افسر کا کہنا ہے کہ انھیں لڑکی کی موت کے بارے میں اُس وقت علم ہوا جب اکیس فروری کو لڑکی کے بھائی نے یہ درخواست دی تھی کہ ان کی بہن کا ریپ اور قتل ہوا ہے۔

پولیس افسر کا کہنا ہے کہ اسی درخواست کی روشنی میں گزشتہ جمعہ کو لڑکی اور بچے کی قبر کشائی کی گئی اور میڈیکل بورڈ نے موقع پر ہی دونوں کا پوسٹ مارٹم کیا۔

لیکن مُردہ بچے کی قبل از وقت پیدائش نے بھی شکوک و شہبات پیدا کیے ہیں۔

پولیس کے ضلعی سربراہ ریاض عباسی کا کہنا ہے کہ لڑکی کی موت سے دو دن پہلے انھیں ان کی بوڑھی والدہ اور ایک عزیز باغ شہر میں ایک اسپتال میں لائے تھے جس کی تصدیق لڑکی کے بھائی نے بھی کی۔

انھوں نے کہا کہ انھیں اپنی والدہ کے ذریعے معلوم ہوا کہ وہ اور ایک اور عزیز ان کی بہن کو ہسپتال لے گئے تھے۔

انھوں نے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ ممکن ہے کہ اسے ہسپتال میں کوئی ایسی دوائی دی گئی ہو جس کی وجہ سے قبل از وقت مردہ بچے کی پیدائش ہوئی اور اسی وجہ سے ماہ بھی مرگئی ہو۔ پولیس کا کہنا ہے کہ وہ اس پہلو کی بھی تحقیقات کر رہی ہے۔

مرنے والی لڑکی کے بھائی اسلام آباد میں سرکاری ادارے میں چوکیدار ہیں جبکہ ان کے والد اور والدہ دونوں ہی عمر رسیدہ ہیں۔

"اگر جرگے نے جرم چھپانے کی کوشش کی ہے تو ان کے خلاف قانونی کارروائی کی جائے گی"

ریاض عباسی، ضلعی پولیس سربراہ

انھوں نے کہا کہ وہ بارہ جنوری کو گھر پہنچے تو اگلی رات کو ان کی بہن نے ایک مردہ بچے کو جنم دیا اور ایک گھنٹے بعد وہ خود بھی مر گئیں۔ لڑکی کے بھائی کا اصرار ہے کہ ان کی بہن کو کسی نے تشدد کا نشانہ نہیں بنایا۔

ان کا کہنا ہے کہ اگلی صبح ان کے گھر پر گاؤں کے لوگ اکٹھے ہوئے اور وہاں ایک جرگہ بھی ہوا جس میں گاؤں کے سرکردہ لوگوں نے یہ فیصلہ کیا کہ جنسی حملے کا ملزم لڑکی والوں کو پانچ لاکھ روپے ادا کرے گا۔

ان کے مطابق اس جرگے کے فیصلے کے بعد ان کی بہن اور اس کے مردہ بچے کو دفنا دیا گیا۔

ان کا کہنا ہے کہ انھوں نے پریشانی اور ذہنی دباؤ میں جرگے کے فیصلے کو اس وقت قبول کر لیاتھا۔

باغ ضلع کے پولیس سربراہ ریاض عباسی کا کہنا ہے کہ جرگے کا انعقاد اور اس کے تمام فیصلےغیر قانونی ہیں۔ انھوں نے کہا کہ اگر جرگے نے جرم چھپانے کی کوشش کی ہے تو ان کے خلاف قانونی کارروائی کی جائے گی۔

اسی بارے میں

متعلقہ عنوانات

BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔