نواز لیگ کے نگران امیدوار کون؟

آخری وقت اشاعت:  جمعرات 7 مارچ 2013 ,‭ 18:35 GMT 23:35 PST

پاکستان میں حزب اختلاف کی سب سے بڑی جماعت مسلم لیگ نون کی جانب سے نگران وزیراعظم کے لیے تین نام تجویز کیے گئے ہیں۔

ان میں سپریم کورٹ کے دو سابق جج جسٹس ریٹائرڈ ناصراسلم زاہد، جسٹس ریٹائرڈ شاکراللہ جان اور سندھ کے قوم پرست رہنما رسول بخش پلیجو شامل ہیں۔

پاکستان تحریک انصاف اور جماعت اسلامی نے بھی مسلم لیگ نون کے تجویز کردہ نگران وزیراعظم جسٹس ریٹائرڈ ناصر اسلم زاہد پر رضامندی ظاہر کی ہے۔

جسٹس ریٹائرڈ ناصراسلم زاہد

پاکستان کے صوبہ سندھ سے تعلق رکھنے والے جسٹس ریٹائرڈ ناصراسلم زاہد سپریم کورٹ کے ان ججوں میں شامل ہیں جنہوں نے سنہ دو ہزار میں فوجی آمر جنرل (ریٹائرڈ) پرویز مشرف کی حکومت کے دوران پی سی او کے تحت حلف اٹھانے سے انکار کر دیا تھا۔

جسٹس ریٹائرڈ ناصر اسلم زاہد تئیس مئی سنہ انیس سو بانوے سے پندرہ اپریل سنہ انیس سو چورانوے تک سندھ ہائی کورٹ کے چیف جسٹس رہے۔

اس کے بعد وہ وفاقی شرعی عدالت اور پھر سپریم کورٹ کے جج بنے۔

جسٹس ریٹائرڈ ناصراسلم زاہد نے سپریم کورٹ پر مسلم لیگ نون کے مبینہ حملے کے کیس کی بھی سماعت کی۔

سابق وزیراعظم ذوالفقارعلی بھٹو کے صاحبزادے مرتضیٰ بھٹو کی کراچی میں ایک فائرنگ کے واقعے میں ہلاکت کی تحقیقات کے لیے قائم کردہ انکوائری ٹریبونل کی بھی سربراہی جسٹس ناصر اسلم زاہد نے کی تھی۔

ریٹائرمنٹ کے بعد وہ خواتین کے حقوق اور تعلیم کے فروغ کے لیے کام کر رہے ہیں۔

جسٹس ریٹائرڈ ناصر اسلم کے والد زاہد حسین سٹیٹ بنک پاکستان کے پہلے گورنرتھےـ

جسٹس ریٹائرڈ شاکراللہ جان

سپریم کورٹ کے سابق سینییر جج اور پشاور ہائی کورٹ کے سابق چیف جسٹس شاکراللہ جان نےگزشتہ سال چیف الیکشن کمیشن کا عہدہ خالی ہونے پر قائم مقام چیف الیکشن کمیشن کے طور پر کام کیا۔

اس کے علاوہ وہ سپریم کورٹ کے ان بینچوں میں شامل رہے جنہوں نے موجودہ حکومت کے خلاف مقدمات کی سماعت کی اور ان مقدمات کی وجہ سے حکومت دباؤ میں رہی اور سپریم کورٹ پر جانبداری کے الزامات بھی عائد کیے گئے۔

ان مقدمات میں حکومت کی جانب سے جسٹس میاں ثاقب نثار کو لاہور ہائی کورٹ کا چیف جسٹس بنانے کے علاوہ حکومت کی طرف سے ممکنہ طور پر ججوں کی بحالی کا نوٹیفیکیشن واپس لینے سے متعلق ازخود نوٹس پر کارروائی شامل ہے۔

سابق جج جسٹس شاکراللہ جان این آر او کو کالعدم قرار دینے والے بینچ میں بھی شامل رہے تاہم ان کے بارے سے سب سے اہم بات یہ رہی کہ جب سپریم کورٹ نے سابق وزیراعظم یوسف رضا گیلانی کو نا اہل قرار دیا تو اس وقت کے قائم قام چیف الیکشن کمشنر کے طور پر انہوں نے ان کو ڈی سیٹ کرنے کا فوری نوٹیفکیش جاری کیا۔

رسول بخش پلیجو

نگران وزیراعظم کے لیے سندھ میں قوم پرست جماعت عوامی تحریک کے بانی اور بزرگ سیاست دان رسول بخش پلیجوکا نام بھی شامل ہے۔

رسول بخش پلیجو سنہ انیس سو تیس میں صوبہ سندھ کے ضلع ٹھٹھہ منگرخان جنگ شاھی میں پیدا ہوئے۔

انہوں نے پندرہ سال کی عمر تک کراچی میں تعلیم حاصل کی۔

سنہ ستر اور اسی کی دہائی میں جب بہت کم سندھی قوم پرستوں کو صوبہ پنجاب کے دارالحکومت لاہورمیں آ کر بات کرنی نصیب ہوتی تھی تب بھی رسول بخش پلیجو یہاں سیمنارز اور پروگراموں میں خطاب کرتے تھے اور بہت کچھ کہہ جاتے تھے تب ہی ان کے مخالفین نے ان کے بارے میں کہنا شروع کیا کہ ان کے پاکستانی اسٹیبلشمنٹ سے تعلقات ہیں اس لیے انہیں کچھ کہا نہیں جاتا لیکن انہوں نے ہمیشہ ان الزامات کی تردید کی۔

بائیں بازو کی سوچ کے حامل رسول بخش پلیجو اپنی جماعت عوامی تحریک کو اپنے بیٹے کے سپرد کر کے کسی حد تک سیاست سے کنارہ کش ہو چکے ہیں۔

پارٹی قیادت بیٹے کے حوالے کرنے پر رسول بخش پلیجو پر مورثی سیاست کو فروغ دینے کا الزام لگا۔

انہوں نے کئی بار ٹھٹھہ سے انتخاب لڑنے کی کوشش کی لیکن انہیں کامیابی نہ ہو سکی۔

انہوں نے کئی کتابیں لکھیں اور کئی کے ترجمے بھی کیے۔ قوم پرست سیاست کے علاوہ لکھنے اور زبانیں سیکھنے کا شوق بھی ان کی بڑی پہچان بنا۔

ان کے دوست کہتے ہیں کہ صحت کی خرابی اور عمر دراز ہونے کی وجہ سے نہ صرف وہ بہت زیادہ متحرک زندگی نہیں گزار سکتے بلکہ انہیں جلد ہی غصہ بھی آ جاتا ہے۔

سنہ دو ہزار آٹھ کے انتخابات میں ان کی بھتیجی سسی پلیجو سندھ اسمبلی میں پیپلزپارٹی کی نشست کامیاب ہوئی تھیں۔

ان کی اہلیہ اورمعروف سندھی گلو کارہ زرینہ بلوچ کا سنہ دو ہزار چھ میں انتقال ہوا جو خود بھی انسانی حقوق کے لیے آواز اٹھانے کے علاوہ لکھتی بھی تھیں۔

اسی بارے میں

متعلقہ عنوانات

BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔