کراچی دھماکا:تفتیش میں پیشرفت نہ ہو سکی

آخری وقت اشاعت:  جمعرات 7 مارچ 2013 ,‭ 10:33 GMT 15:33 PST

کراچی میں ہونے والے اس دھماکے سے رہائشی عمارتوں کو شدید نقصان پہنچا تھا

کراچی میں عباس ٹاؤن کے قریب واقع اقرا سٹی نامی رہائشی کمپلیکس میں گذشتہ اتوار کو ہونے والے بم دھماکے کی تفتیش تاحال نتیجہ خیز ثابت نہیں ہو سکی ہے۔

تاہم پولیس نے اس سلسلے میں زیرِ حراست 200 افراد میں سے ایک شخص سے اہم معلومات کے حصول کی امید ظاہر کی ہے۔

اس بم دھماکے میں پولیس کے بقول 48 افراد ہلاک ہوئے تھے جب کہ دو رہائشی عمارتوں کو شدید نقصان پہنچا تھا اور 70 اپارٹمنٹس رہائش کے قابل نہیں رہے تھے۔

کراچی پولیس کا کہنا ہے کہ جائے وقوع سے حاصل کیے جانے والے ثبوت اور شواہد کی روشنی میں تفتیشی عمل آگے بڑھ رہا ہے۔

محکمۂ پولیس میں سی آئی ڈی کے سربراہ غلام شبیر شیخ نے بی بی سی کو بتایا کہ اقرا سٹی بم دھماکے کے سلسلے میں 200 مشتبہ افراد کو حراست میں لیا گیا ہے جن میں ایک اہم ملزم شامل ہے جس کا نام عبدالجمیل عرف ’ٹینشن‘ ہے۔

ان کے بقول عباس ٹاؤن میں محرم کے ماہ میں ہونے والے حملے میں عبدالجمیل عرف ٹینشن مبینہ طور پر ملوث تھا اور مفرور تھا تا ہم اب وہ گرفتار ہوچکا ہے اور زیرِ تفتیش ہے۔

انہوں نے امید ظاہر کی کہ اقرا سٹی بم دھماکے کے ملزمان جلد ہی گرفتار کر لیے جائیں گے۔

غلام شبیر شیخ اس وقت کراچی پولیس کے قائم مقام سربراہ بھی ہیں۔

"دھماکے کے مقام پر ایک گڑھا بن گیا تھا جس کی کھدائی کے نتیجے میں ایک گاڑی کی کمانیاں برآمد ہوئی ہیں اور اس سے اندازہ ہوتا ہے کہ دھماکے میں کوئی بڑی گاڑی استعمال کی گئی تھی۔"

غلام شبیر شیخ: کراچی پولیس کے قائم مقام سربراہ

ان کے بقول ’پہلے ایک سُوبرُو گاڑی کا انجن ملا تھا اور شبہ تھا کہ اسے استعمال کیا گیا ہو لیکن بعد میں تفتیش کار اس نتیجے پر پہنچے کہ جو گاڑی اتنے طاقتور دھماکے میں استعمال ہوئی ہو اس کا انجن نہیں مل سکتا اور بعد میں یہی ہوا کہ وہ اسی علاقے کے ایک پکوان والے کی گاڑی نکلی۔‘

انہوں نے کہا کہ دھماکے کے مقام پر ایک گڑھا بن گیا تھا جس کی کھدائی کے نتیجے میں ایک گاڑی کی کمانیاں برآمد ہوئی ہیں اور اس سے اندازہ ہوتا ہے کہ دھماکے میں کوئی بڑی گاڑی استعمال کی گئی تھی۔

واضح رہے کہ سی آئی ڈی کے ایس ایس پی فیاض خان نے کہا تھا کہ اس دھماکے میں 200 کلو گرام سے زیادہ بارودی مواد استعمال کیا گیا جس میں بال بیئرنگ بھی تھے اور یہی زیادہ ہلاکتوں کی وجہ بنے۔

اُدھر کراچی میں ہی میوہ شاہ قبرستان سے رینجرز کے دو اہلکاروں کی لاشیں برآمد ہوئی ہیں جنہیں پولیس کے بقول اغواء کر کے قتل کیا گیا اور ان کی لاشیں بعد میں قبرستان میں پھینک دی گئیں۔

سندھ رینجرز کے ترجمان میجر سبطین نے بی بی سی کو بتایا کہ ہلاک ہونے والے دونوں اہلکار منیر بلوچ اور اعجاز احمد رینجرز میں حوالدار تھے۔

یاد رہے کہ کراچی میں پولیس اور سیٹیزن پولیس لیاژان کمیٹی کے اعداد و شمار کے مطابق رواں برس کے پہلے دو ماہ کے دوران 450 سے زیادہ افراد کو ہلاک کیا جا چکا ہے، جب کہ آئی جی سندھ نے کراچی بدامنی کیس کی سماعت کے دوران کہا تھا کہ 2009 سے 2012 تک چار سال میں کراچی میں سات ہزار کے لگ بھگ افراد کو قتل کیا گیا۔

اسی بارے میں

متعلقہ عنوانات

BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔