’کوہ پیماؤں کے زندہ بچنے کے امکانات معدوم‘

آخری وقت اشاعت:  جمعرات 7 مارچ 2013 ,‭ 18:02 GMT 23:02 PST

حکام کے مطابق لاپتہ ہونے والے دو کوہ پیما کے ساتھ بدھ کی صبح سے کوئی رابطہ نہیں ہو سکا

حکام کے مطابق پاکستان کی ’براڈ پیک‘ کو سر کر کے واپس آنے والے پولینڈ کے دو کوہ پیماؤں کے زندہ بچنے کے امکانات اب معدوم ہوتے جا رہے ہیں۔

خیال رہے کہ پولینڈ سے تعلق رکھنے والے دو کوہ پیما پاکستان کی چھبیس ہزار فِٹ ’براڈ پیک‘ کو سر کرنے کے بعد منگل سے لاپتہ ہیں۔

حکام کے مطابق منگل کو پولینڈ کے چار کوہ پیماؤں نے پاکستان کی ’براڈ پیک‘ کو سر کیا تھا۔

حکام کا کہنا ہے کہ پولینڈ کے چار میں سے دو کوہ پیما اس چوٹی کو سر کرنے کے بعد واپس آ رہے تھے کہ لاپتہ ہو گئے۔

حکام کے مطابق لاپتہ ہونے والے ان دو کوہ پیماوں کے ساتھ بدھ کی صبح سے کوئی رابطہ نہیں ہو سکا ہے۔

دریں اثناء اس چوٹی ’براڈ پیک‘ کو کامیابی کے ساتھ سر کر کے واپس آنے والے پولینڈ کے دو کوہ پیماؤں اٹھاون سالہ ماسیج بربیکا اور ستائیس سالہ توماز کاوالسکی نے صحافیوں کو بتایا کہ وہ ’براڈ پیک‘ کو سر کرتے ہوئے بہت زیادہ تھک گئے تھے کیونکہ اس وقت وہاں شدید برفانی طوفان جاری تھا جس کی وجہ سے درجۂ حرارت منفی پینتیس ڈگری سینٹی گریڈ تھا۔

پاکستان کی ’براڈ پیک‘ دنیا کی بلند چوٹیوں میں بارھویں نمبر پر ہے۔ یہ قراقرم کے پہاڑی سلسلہ میں واقع ہے اور خراب موسم کی وجہ سے مشہور ہے۔

پولینڈ کی ٹیم کو شدید سردی اور تیز ہواؤں کی وجہ سے ’براڈ پیک‘ کا سفر شروع کرنے سے پہلے ایک ماہ تک پہاڑ پر رُکنا پڑا تھا۔

پاکستانی میڈیا نے پاکستان کے الپائین کلب کے قرار حیدری کے حوالے سے بتایا کہ کوہ پیماؤں کو چوٹی سر کرنے کے بعد واپسی پر دگنی رفتار سے اترنا پڑتا ہے اور اس میں آدھے گھنٹے کی تاخیر زندگی اور موت کا مسئلہ ہوتا ہے۔

دوسری جانب پولینڈ کی کوہ پیما ٹیم کے سربراہ ارتھر ہاجزر کا کہنا ہے کہ ان کے باقی دو ساتھیوں کے زندہ بچنے کے امکانات معدوم ہوتے جا رہے ہیں۔

انہوں نے پولینڈ کے نیوز چینل کو بتایا کہ کوہ پیماؤں کی دیگر ٹیموں کی جانب سے لاپتہ ہونے والے دو کوہ پیماؤں کو تلاش کرنے کی کوششوں کے باوجود ان کے زندہ بچنے کے امکانات کم ہوتے جا رہے ہیں۔

اسی بارے میں

متعلقہ عنوانات

BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔