اورکزئی میں جھڑپیں،’13 افراد ہلاک‘

آخری وقت اشاعت:  جمعرات 7 مارچ 2013 ,‭ 10:19 GMT 15:19 PST

پاکستان کے قبائلی علاقے اورکزئی ایجنسی میں ہونے والی جھڑپوں میں فوج کا ایک اہلکار ہلاک اور تین زخمی ہوگئے ہیں، جبکہ فوجی کارروائی میں 12 شدت پسندوں کے مارے جانے کی اطلاعات ہیں۔

ایک فوجی اہلکار نے بی بی سی کو بتایا کہ اورکزئی ایجنسی کے مختلف علاقوں میں ُمسلح شدت پسندوں اور سکیورٹی فورسز کے درمیان جھڑپیں ہوئی ہیں جس کے نتیجے میں ایک اہلکار ہلاک جبکہ ایک افسر سمیت تین اہلکار زخمی ہوگئے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ جھڑپوں کے دوران 12 شدت پسندوں کے ہلاک ہونے کی اطلاعات ملی ہیں تاہم آزاد ذرائع سے ان ہلاکتوں کی تصدیق نہیں ہوئی ہے۔

اہلکار نے کہا کہ شدت پسندوں کے خلاف کارروائی میں سکیورٹی فورسز کو گن شپ ہیلی کاپٹروں کے علاوہ توپ خانے کی مدد بھی حاصل تھی اور گولہ باری سے شدت پسندوں کے اہم ٹھکانے بھی تباہ ہوئے ہیں۔

اس واقعے سے چند دن پہلے اپر اورکزئی ایجنسی میں مشتبہ طالبان کے تین ٹھکانوں پر جیٹ طیاروں سے بمباری کی گئی تھی جس میں حکام کے مطابق کئی شدت پسند مارے گئے تھے۔

خیال رہے کہ پاکستان کے قبائلی علاقے کی مختلف ایجنسیوں میں شدت پسندوں کے خلاف غیر اعلانیہ کارروائیاں خاصے عرصے سے جاری ہیں۔

گزشتہ اگست میں اورکزئی ایجنسی میں ہی اپر اورکزئی کے علاقے ڈبوری میں فوج اور شدت پسندوں کے درمیان جھڑپ میں چھ شدت پسند ہلاک جبکہ دو سکیورٹی اہلکار زخمی ہوئے تھے۔

اسی بارے میں

متعلقہ عنوانات

BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔