جہاں بچیاں ’بوجھ‘ ہیں

آخری وقت اشاعت:  جمعـء 8 مارچ 2013 ,‭ 07:19 GMT 12:19 PST

عابدہ کی وٹے سٹے کی شادی 12 سال کی عمر میں ہو گئی تھی

عابدہ جب اپنی کہانی سناتی ہیں، تو نظریں نیچی کر لیتی ہیں اور اپنی قمیض کے دامن سے کھیلنے لگتی ہیں۔ اس شرم کی وجہ ان کی کم عمری لگتی ہے، یا پھر ان پر ہونے والے ظلم کا نفسیاتی اثر۔

عابدہ کی شادی اس کے بھائی کی شادی کے بدلے وٹہ سٹہ کے رواج کے تحت ہوئی اور اس وقت ان کی عمر 12 سال تھی۔

عابدہ نے بتایا کہ وہ قرآن شریف پڑھ رہی تھیں، ’لیکن مجھے کھیل کود میں زیادہ دلچسپی تھی۔‘ شادی کے ساتھ ہی ذمے داریاں سنبھالنی پڑیں۔ سسرال میں گھر کا سارا کام انھی کے کندھوں پر تھا۔ ’مجھے یہ نہیں پتہ چلتا تھا کہ دن کب شروع ہوا اور رات کب آئی۔ صبح اٹھ کر پھر کام شروع ہو جاتا تھا۔‘

عابدہ کے بقول، ان کے سسرال والے ان کے خاندان سے زیادہ طاقت ور تھے اور وہ اس سے لڑنے کے علاوہ ڈنڈے سے بھی مارتے تھے۔ شادی کے دو سال بعد عابدہ امید سے ہو گئیں، مگر ذہنی اور جسمانی تشدد کا سلسلہ جاری رہا۔

بالآخر جب وہ اپنے سسرال کو چھوڑ کر واپس اپنے میکے آنے لگیں تو سسرالیوں نے جہیز کا سامان بھی پھینک دیا۔ عابدہ نے افسوس سے بتایا کے کہ ’چمچ، رضائی، کمبل، انہوں نے ہر چیز اٹھا کر برباد کر دی۔‘

عابدہ کا تعلق کوٹ ادو کی انہتائی پسماندہ یونین کونسل پتل سے ہے، جہاں دو ڈھائی روپے کی چقیں بنا کر بیچی جاتی ہیں۔ خواتین کے حقوق کے لیے کام کرنے والی مقامی غیر سرکاری تنظیم ’ترے مساں‘ کی کارکن رضوانہ کئی سالوں سے اس علاقوں میں خواتین میں آگاہی پھیلانے کا کام کر رہی ہیں۔

ان کا کہنا ہے کہ یہاں بچیوں کو بوجھ سمجھا جاتا ہے، اس علاقے میں ’ایک ڈولی آئی تو ایک ڈولی گئی‘ کی کہاوت مشہور ہے، یعنی جب گاؤں میں ایک ڈولی آتی ہے، تو ایک جانا لازمی ہے۔

رضوانہ نے مزید بتایا کہ دس ماہ قبل عابدہ گھر پر اپنی بچی پیدا نہیں سکتی تھیں اسی لیے انھیں ہسپتال لے جانا پڑا۔ عابدہ کا چھوٹا آپریشن ہوا تھا کیونکہ وہ قدرتی طور پر زچگی کے عمل سے نہیں گزر سکتی تھیں۔

عابدہ کوٹ ادو میں دو ڈھائی روپے کی چقیں بنا کر گزر بسر کرتی ہیں

اس کے علاوہ ڈاکٹر نے بتایا تھا کہ ان کی ہڈیوں کی نشو و نما نہیں ہوئی تھی جو کسی 18 سالہ لڑکی کی ہونی چاہیے۔ دورانِ زچگی کی ایک اور وجہ عابدہ نے خود بتائی: ’سسرال میں مجھے کچھ نہیں کھلایا کرتے تھے، نہ دودھ، نہ گھی۔ صرف روٹی ملتی تھی۔‘

عابدہ کی کہانی اتنی بار دہرائی جا چکی ہے کہ وہ ان ہزاروں یا لاکھوں بچیوں میں شامل ہے جن کا بچپن ان سے چھن جاتا ہے۔ کم عمری کی شادیوں کے بارے میں ابھی تک کوئی جامع تحقیق تو نہیں ہے لیکن 2008 کے گھریلو معلومات سے متعلق سرکاری سروے کے مطابق، 15 سے 18 سال کے درمیان 50 فیصد بچیاں یا تو امید سے ہیں، یا ماں ہیں۔

واضح رہے کہ اعدادوشمار جمع کرنے میں ایک یہ بھی رکاوٹ ہے کہ گاؤں اور دیہاتوں میں بچوں کے پیدائشی سرٹیفکیٹ نہیں بنوائے جاتے، اور شادی کے وقت لڑکی کی عمر کی تصدیق نہیں کی جاتی۔

پاکستان میں کم عمری کی شادیوں کو روکنے کے لیے قانون 1933 کا ہے، جو انڈیا ایکٹ میں شامل تھا۔ قانون کے مطابق، بچی کی شادی 16 برس کی عمر میں ہو سکتی ہے اور لڑکے کی شادی 18 سال میں۔

پاکستان کے بہت سے علاقوں میں بچیوں کو بوجھ سمجھا جاتا ہے

لیکن بہت سے لوگوں کو علم ہی نہیں ہے کہ 16 برس سے چھوٹی عمر کی بچی کی شادی قانوناً جرم ہے۔

رکنِ پارلیمان ڈاکٹر عطیہ عنایت اللہ سوال اٹھاتی ہیں، ’اگر 18 سال ووٹ کی عمر ہے اور اسی عمر میں قومی شناختی کارڈ ملتا ہے، تو شادی 16 برس کی عمر میں کیوں؟‘

انھوں نے بتایا کہ خواتین رکنِ پارلیمان نے قانون میں ڈھائی سال قبل ترمیم لانے کی کوشش کی کہ لڑکی کی شادی کی عمر 16 سے بڑھا کر 18 سال کر دی جائے۔ تاہم یہ پارلیمانی کمیٹیوں کی دلدل میں دھنس کر رہ گئی۔

’رکنِِ پارلیمان نے مجھ سے کہا کہ قانون تبھی منظور ہو گا جب آپ اس میں شامل کریں گی کہ قرآن و سنت کے مطابق لڑکی کی شادی بلوغت کے وقت ہو سکتی ہے۔ دیگر سیاسی جماعتوں نے بھی یہ کہتے ہوئے ساتھ نہ دیا کہ پاکستان میں اور بھی مسائل ہیں، خواہ مخواہ شور مچ جائے گا۔‘

ادھر عابدہ کو اپنے بچپن میں ہی اپنی بیٹی کے مستقبل کے بارے میں فکر ہے۔ اب وہ شادی کے نام پر کانوں کو ہاتھ لگاتی ہیں: ’ہماری شادی چھوٹی عمر میں ہوتی ہے تو ہم پر زیادہ ظلم ہوتا ہے۔ میں پریشانیوں کے بارے میں سوچ سوچ کر برباد ہوگئی ہوں۔ کنوارے لوگ بہتر ہوتے ہیں، میری طرح شادی کے بعد ٹھیک نہیں رہتے۔‘

اسی بارے میں

متعلقہ عنوانات

BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔