مظفرآباد میں ’کشمیر شال ڈے‘

آخری وقت اشاعت:  جمعـء 8 مارچ 2013 ,‭ 10:22 GMT 15:22 PST

پاکستان کے زیر انتظام کشمیر میں کئی لوگوں نے جمعرات کو گرم چادریں اوڑھ کر شال ڈے منایا، جس کا مقصد کشمیری تمدن کو فروغ دینا ہے۔

کشمیری شال، خاص طور پر پشمینہ شال اپنی خوبصورتی اور عمدگی کی وجہ سے دنیا بھر میں مشہور ہے۔

کشمیر کے دونوں حصوں میں یہ اس طرح کے دن منانے کا کبھی بھی رجحان نہیں رہا۔ خطے کی حالیہ تاریخ میں پہلی بار ہے کہ پاکستان کے زیر انتظام کشمیر کی وزارت برائے کھیل و ثقافت نے شال ڈے کا اہتمام کیا۔

مظفرآباد شہر میں جمعرات کو ہونے والی شال ڈے کی تقریب میں لوگوں کی بڑی تعداد نے شرکت کی۔ یہ تقریب شام کی شروع ہوئی اور رات گئے تک جاری رہی۔اس میں کشمیری اور پاکستانی فن کاروں نے اپنے فن کا مظاہرہ بھی کیا۔

وزیر برائے کھیل و ثقافت محمد سلیم بٹ نے اس تقریب میں آنے والے اہم شخصیات کو کشمیری شالوں کے تحفے بھی پیش کیے۔

محمد سلیم بٹ کا کہنا ہے کہ کشمیر شال ڈے منانے کا مقصد کشمیری تمدن اور پہنچان کو فروغ دینا ہے۔

’کشمیر کی پہچان شال ہے، جب کشمیر کا نام لیا جاتا ہے تو اس کے ساتھ شال کا نام بھی آتا ہے، یہ ہماری ثقافت کا اہم حصہ ہے اور ہم اس کو دنیا بھر میں فروغ دینا چاہتے ہیں، اس سے کشمیر کے تمدن اور شناخت کو بھی فروغ ملے گا۔‘

اس تقریب میں خواتین کی بڑی تعداد نے شرکت کی۔ منتظمین کے مطابق تقریب میں آنے والی کئی خواتین نے پشمینہ شالیں اوڑھی ہوئی تھیں جب کہ بہت سی خواتین نے مخصوص کشمیری لباس پہنا ہوا تھا۔

اس تقریب میں شرکت کرنے والی ایک کشمیری خاتون غروج کاظمی نے اس کوشش کو سراہتے ہوئے کہا، ’اگر ہم خود ہی اس (اپنی ثقافت) کو آگے نہیں بڑھائیں گے تو دوسری قومیں کب پہچانیں گی کہ ہم کون ہیں کیوں کہ ہماری پہچان تو ہماری ثقافت ہے۔‘

"اگر ہم خود ہی اپنی ثقافت کو آگے نہیں بڑھائیں گے تو دوسری قومیں کب پہچانیں گی کہ ہم کون ہیں؟"

کشمیری خاتون غروج کاظمی

مظفرآباد میں مقیم صحافی اور مصنف عارف بہار کہتے ہیں معدوم ہوتے ہوئے کشمیری ثقافت کو بڑھاوا دینے کے لیے اس طرح کے دن مناتے رہنا چاہیے۔

’اگر پر خلوص کوشش کی جاتی ہے تو یہاں اس کی بہت ضرورت ہے۔ یہاں کشمیری ثقافت معدوم ہوتی جا رہی ہے، لوگ اپنی ثقافت سے دور ہوتے جارہے ہیں، ایسے حالات میں یہ اچھی بات ہے کہ اگر اپنی ثقافت کو اجاگر کیا جائے، اس سے لوگوں میں احساس کمتری کم ہوتا ہے اور شعور اجاگر ہوتا ہے، اس لحاظ سے تو ٹھیک ہے، لیکن اس کے لیے تسلسل اور نیک نیتی کے ساتھ کوشش کی جانی چاہیے۔‘

یہ بات ہے اہم ہے کہ پاکستان کے زیر انتظام کشمیر میں کشمیری شال نہیں بنتی اور نہ ہی اس کے کاریگر وہاں موجود ہیں بلکہ یہ لائن آف کنٹرول کے دوسری جانب بھارت کے زیر انتظام کشمیر میں تیار کیے جاتے ہیں۔

پاکستان میں شدت پسندی اور دہشتگردی میں اضافے کی وجہ سے ثقافتی اور سماجی تقریبات میں کمی آئی ہے۔

پاکستان کے زیر انتظام کشمیر میں اس طرح کی تقریبات کا انعقاد ماضی میں کم ہی ہوتا تھا لیکن حالیہ مہینوں میں وہاں کھیل اور ثقافت کی سرگرمیاں آہستہ آہستہ فروغ پارہی ہیں۔

اسی بارے میں

متعلقہ عنوانات

BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔