خیبر پختونخوا میں سیاسی سرگرمیاں محدود

آخری وقت اشاعت:  جمعـء 8 مارچ 2013 ,‭ 15:02 GMT 20:02 PST

پاکستان کے صوبےخیبر پختونخوا میں انتخابات سے پہلے ایک جانب نگران حکومت کے قیام کے حوالے سے سیاستدانوں کے رابطے جاری ہیں تو دوسری جانب سیاسی جماعتوں نے جلسوں کا آغاز کر دیا ہے۔

تاہم ملک کے دیگر علاقوں کے برعکس امن و امان کی نسبتاً مخدوش صورتحال کی وجہ سے صوبے میں انتخابی سرگرمیاں محدود ہیں۔

پاکستان میں حزب اختلاف کی بڑی جماعت مسلم لیگ نواز کے سربراہ نواز شریف نے جمعہ کو مردان میں جلسۂ عام سے خطاب کیا جبکہ اتوار کو پاکستان تحریکِ انصاف کے سربراہ عمران خان پشاور میں سیاسی قوت کا مظاہرہ کریں گے۔

نواز شریف نے جمعہ کو مردان میں ایک جلسۂ عام سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ اقتدار میں آنے کے بعد وہ پنجاب کی طرح دیگر صوبوں میں بھی ترقیاتی منصوبے شروع کریں گے۔

پاکستان تحریک انصاف کے سربراہ عمرن خان اتوار کو پشاور میں جلسۂ عام سے خطاب کریں گے جس کے لیے انھوں نے شہر میں اشتہاری مہم شروع کر رکھی ہے۔ پشاور میں بڑے بڑے بورڈز اور بینرز آویزاں ہیں جبکہ ریڈیو پر بھی اشتہارات دیے گئے ہیں۔

خیال رہے کہ پاکستان کے دارالحکومت اسلام آباد میں عوامی نینشل پارٹی اور جمعیت علماء اسلام کے زیر انتظام آل پارٹیز کانفرنس منعقد کرنے کے بعد صوبے میں سیاسی سرگرمیاں شروع ہوئی ہیں تاہم ان کے لیے بڑے حفاظتی انتظامات نظر نہیں آ رہے ہیں۔

دوسری جانب خیبر پختونخوا میں نگران حکومت کے قیام کے حوالے سے حکومت اور حزب اختلاف اب تک کسی ایسی شخصیت پر متفق نہیں ہو سکے جسے صوبے کا نگران وزیر اعلی مقرر کیا جا سکے۔

خیبر پختونخوا میں اس وقت ان افراد کے نام لیے جا رہے ہیں جو ماضی میں سول بیوروکریسی کا حصہ رہے ہیں ان میں سابق چیف سیکرٹریز اور سابق انسپکٹر جنرل پولیس کے عہدوں پر فائز شخصیات شامل ہیں۔

اے این پی شدت پسندوں کے نشانے پر

عوامی نیشنل پارٹی کے قائدین پر پانچ سالوں میں شدت پسندوں کی جانب سے متعدد حملے ہوئے جن میں جماعت کے اہم رہنما جیسے بشیر احمد بلور اور عالم زیب خان ہلاک ہو ئے ہیں اور وزیراعلیٰ سمیت جماعت کے سربراہ اسفندیار ولی خان قاتلانہ حملوں میں بال بال بچ گئے تھے۔

خیبر پختونخوا میں نگران سیٹ اپ کے حوالے سے وزیر اعلی امیر حیدر خان ہوتی نے چند روز پہلے قائد حزب اختلاف اکرم خان درانی سے ان کی رہائش گاہ پر ملاقات کی تھی جس میں نگران وزیر اعلی کے انتخاب کے لیے مختلف شخصیات کے ناموں پر غور کیا گیا۔

جمعیت علماء اسلام فضل الرحمان گروپ سے تعلق رکھنے والے اکرم خان درانی نے بی بی سی کو بتایا کہ وہ اتوار سے حزب اختلاف کی دیگر جماعتوں سے رابطے شروع کر رہے ہیں اور کسی ایک شخصیت پر اتفاق کے بعد وہ وزیر اعلی سے رابطہ کریں گے۔

اکرم خان درانی نے کہا کہ وہ اب تک کسی کا نام منظر عام پر نہیں لائے تاہم وہ ایسی شخصیت کا انتخاب کریں گے جو سب کے لیے قابل قبول ہو۔

اس وقت پاکستان پیپلز پارٹی، مسلم لیگ نواز، جماعت اسلامی، پاکستان تحریک انصاف اور دیگر سیاسی جماعتوں نے اپنے طور پر انتخابی سرگرمیاں شروع کر رکھی ہیں لیکن بڑے پیمانے پر کہیں کوئی بڑی سرگرمی دیکھنے میں نہیں آ رہی۔

صوبہ خیبر پختونخواہ میں امن و امان کی صورتحال کی وجہ سے یہ سرگرمیاں محدود ہیں۔

عوامی نیشنل پارٹی کے قائدین پر پانچ سالوں میں شدت پسندوں کی جانب سے متعدد حملے ہوئے جن میں جماعت کے اہم رہنما جیسے بشیر احمد بلور اور عالم زیب خان ہلاک ہو ئے ہیں اور وزیراعلیٰ سمیت جماعت کے سربراہ اسفندیار ولی خان قاتلانہ حملوں میں بال بال بچ گئے تھے۔

جمعیت علما اسلام (ف) نے بھرپور سیاسی سرگرمیوں کا آغاز کرتے ہوئے شمولیتی جلسوں کا انعقاد کیا تھا۔

خیبر پختونخواہ میں ڈیڑھ ماہ میں دہشت گردی اور شدت پسندی کے پچاس سے زیادہ واقعات پیش آ چکے ہیں جن میں ڈیڑھ سو افراد ہلاک ہوئے ہیں۔

پشاور سمیت صوبے کے دیگر اہم شہروں میں حالات کشیدہ ہیں اور لوگوں میں خوف پایا جاتا ہے اس لیے ایسے ماحول میں بڑے پیمانے پر انتخابی سرگرمیاں شروع کرنا سیاسی رہنماؤں کے لیے ایک مشکل کام ہے۔

اسی بارے میں

متعلقہ عنوانات

BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔