’رینٹل پاور کیس میں جوڈیشل کمیشن بنائیں‘

آخری وقت اشاعت:  جمعـء 8 مارچ 2013 ,‭ 11:50 GMT 16:50 PST

پاکستان کے سرکاری ذرائع ابلاغ کے مطابق وزیر اعظم راجہ پرویز اشرف نے سپریم کورٹ کے چیف جسٹس کو خط لکھ کر کرائے کے بجلی گھروں کے منصوبوں کے متعلق مقدمے میں خود کو احتساب کے لیے پیش کیا ہے۔

پی ٹی وی کے مطابق وزیر اعظم نے چیف جسٹس سے درخواست کی ہے کہ وہ اس مقدمے کی تحقیقات کے لیے شعیب سڈل کی سربراہی میں عدالتی کمیشن قائم کریں۔

وزیراعظم نے کہا کہ کرائے کے بجلی گھروں کے مقدمے میں منفی پروپیگنڈے سے انہیں مایوسی اور ان کی دل آزاری ہوئی ہے۔

راجہ پرویز اشرف نے کہا کہ ان کی سیاست عوام کی فلاح و بہبود کے لیے ہے اور انہوں نے کبھی بھی نیب پر اثر انداز ہونے کی کوشش نہیں کی۔

انہوں نے کہا کہ کرائے کے بجلی گھروں کے مقدمے میں عدالتی کمیشن کی شفاف تحقیقات کے ذریعے حقائق کو منظرِ عام پر لایا جائے۔

خیال رہے کہ پاکستان کی سپریم کورٹ نے رواں برس پندرہ جنوری کو کرائے کے بجلی گھروں کے بارے میں ہونے والے معاہدوں کے مقدمے میں وزیراعظم پاکستان راجہ پرویز اشرف سمیت سولہ افراد کی گرفتاری کا حکم دے دیا تھا۔

عدالت نے اپنے حکم میں کہا تھا کہ اگر ان میں سے کوئی بھی شخص بیرون ملک فرار ہوا تو اُس کی تمام تر ذمہ داری قومی احتساب بیورو کے چیئرمین پر عائد ہوگی۔

عدالت کا کہنا تھا کہ اس مقدمے کے تفتیشی افسر محمد اصغر نے جب اس مقدمے کی تفتیش میں جب وزیراعظم راجہ پرویز اشرف کو بطور ملزم نامزد کیا تو اُس کا تبادلہ کردیا گیا اور اس ضمن میں سپریم کورٹ کا نام بھی استعمال کیا گیا کہ عدالت تفتیشی افسر کی کارکردگی سے مطمئن نہیں ہے۔

"کرائے کے بجلی گھروں کے مقدمے میں منفی پروپیگنڈے سے مجھے مایوسی اور میری دل آزاری ہوئی ہے۔ میری سیاست عوام کی فلاح و بہبود کے لیے ہے اور میں نے کبھی بھی نیب پر اثر انداز ہونے کی کوشش نہیں کی"

وزیر اعظم راجاا پرویز اشرف

اس سے پہلے سپریم کورٹ نے تیس مارچ سنہ دو ہزار بارہ کو کرائے کے بجلی گھروں کے مقدمے کے فیصلے میں تمام بجلی گھروں کے معاہدوں کو غیر قانونی قرار دیتے ہوئے ان معاہدوں فوری طور پر منسوخ کرنے کا حکم دیا تھا اور کہا تھا کہ معاہدے کرنے والے افراد کے خلاف قانون کے مطابق کارروائی کی جائے۔

فیصلے میں عدالت نے یہ بھی کہا تھا کہ سابق وزیر برائے پانی و بجلی راجہ پرویز اشرف اور سیکریڑی خزانہ سمیت تمام حکومتی اہلکاروں نے بادی النظر میں آئین کے تحت شفافیت کے اصول کی خلاف ورزی کی ہے لہٰذا ان افراد کی طرف سے بدعنوانی اور رشوت ستانی میں ملوث ہوکر مالی فائدہ حاصل کرنے کو خارج از امکان نہیں قرار دیا جا سکتا ہے۔

سپریم کورٹ نے کرائے کے بجلی گھروں کی تنصیب کے بارے میں از خود نوٹس لیا تھا۔ تاہم فیصل صالح حیات نے کرائے کے بجلی گھروں میں ہونے والی مبینہ بدعنوانی کے خلاف سپریم کورٹ میں درخواست بھی دائر کی تھی۔

فیصل صالح حیات نے اپنی درخواست میں نجی پاور کمپنیوں سے ہونے والے ان معاہدوں میں پانی و بجلی کے سابق وفاقی وزیر راجہ پرویز اشرف پر مبینہ طور پر کروڑوں روپے رشوت لینے کا الزام عائد کیا تھا۔

اسی بارے میں

متعلقہ عنوانات

BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔