ایک نامرد کالم

آخری وقت اشاعت:  اتوار 10 مارچ 2013 ,‭ 02:42 GMT 07:42 PST

اب اس پر کیا جی جلانا کہ ایک گھر جلا کہ ایک سو ساٹھ ، دو دوکانیں جلیں کہ اٹھارہ ، ایک گرجے کو آگ لگائی گئی کہ دو کو اور ان گرجوں کی قربان گاہوں پر کتنی مقدس انجیلیں اور نشانات دھرے تھے کہ نہیں دھرے تھے۔

اب اس کی کیا فکر کہ متاثرین کے ساتھ کیا ہوگا ؟ ظاہر ہے کہ جب صدرِ مملکت سے وزیرِ اعلیٰ تک سب معزز و منتخب و مقتدر عہدیداروں نے حملے کی مذمت کر ڈالی اور فی متاثر فرد یا فی متاثر کنبے کے لئے دو دو لاکھ روپے کا اعلان بھی کردیا تو اب حکمرانوں کو اس معاملے میں خامخواہ مزید گھسیٹنا مناسب نہیں۔اگر عیسائیوں نے بہت ہی زور ڈالا تو حکومت چرچ بھی دوبارہ بنوا دے گی ۔مگر انجیل کے نئے نسخے تو پھر بھی کرسچن کمیونٹی کو ہی بازار سے خریدنے پڑیں گے۔۔چلئے چرچ کی قربان گاہ پر رکھنے کے لئے آئینِ پاکستان کی کاپی میری طرف سے۔۔۔۔

ویسے جب سے بھارت میں گودھرہ اور پاکستان میں گوجرہ ہوا ، تب سے بھارتی مسلمان وغیرہ ہوں کہ پاکستانی عیسائی وغیرہ ، خطرے کی بو سونگھ کر خود بخود ہی اپنی عارضی جان بچانے کے لئے عارضی طور پر عارضی گھروں سے بھاگ نکلتے ہیں۔جیسے پرندے سونامی کے آثار سونگھتے ہی گھونسلے چھوڑے دیتے ہیں، جیسے رمشا مسیح پر الزام لگنے کے بعد اسلام آباد کے مضافاتی عیسائیوں نے گھر چھوڑ دئیے اور جیسے اب لاہور کی جوزف کالونی کے زہین پیٹروں اور مریموں نے کیا ہے ۔

کیونکہ اب یہ سب سمجھنے لگے ہیں کہ توہینِ مذہب کے لئے ہی سہی مگر زندہ رہنا تو پھر بھی ضروری ہے ۔جھوٹا سچا تو بعد میں ثابت ہوتا ہی رہے گا ۔۔۔اقلیتیں جہاں بھی رہیں انہیں اتنا ہی ہوشیار اور کایاں ہونا چاہئیے ورنہ روہنگیا بنتے دیر تھوڑا لگتی ہے۔۔۔۔

اب اگر آپ یہ سمجھ رہیں ہیں کہ میں بھی ظلم کی مذمت اور مظلومیت سے ہمدردی کے بہانے لاہور کی جوزف کالونی کے عیسائیوں پر لکھتے لکھتے اچانک پینترا بدل کر تبدیلیِ مذہب کے لئے بے تاب ہندو دوشیزاؤں یا پھر قادیانیوں ، شیعوں ، ہزاروں اور بلوچوں کی کتھا کو اپنے تذکرے میں شامل کرلوں گا اور پھر اس کی آڑ میں طالبان یا لشکرِ جھنگوی اور ایجنسیوں وغیرہ کو لتاڑوں گا تو یہ آپ کی گھٹیا سوچ ہے جس سے میرا دور دور تک کوئی لینا دینا نہیں۔

بلکہ میں تو اب اس خیال کا ہوچلا ہوں کہ مذمت اور ہمدردی دراصل تہذیب کے عطا کردہ دو نامرد تحفے ہیں۔نا ان سے کسی کا کچھ بگڑتا ہے نا سنورتا ہے۔اسی لئے جنگل کے میگنا کارٹا میں مذمت اور ہمدردی کو کبھی شامل کیا ہی نہیں گیا۔

شکر ہے کہ جانور انسانوں کی طرح اہلِ زبان نہیں ورنہ شیر اپنی شعلہ بیانی ، بندر اپنی لن ترانی ، لومڑی اپنی منافقت ، کوا اپنی سیاست اور گدھ اپنی سیان پتی سے جنگل کو کب کا تہذیبی لبادہ اوڑھا کر بھسم کرچکے ہوتے۔۔۔۔۔۔۔

جنگل میں تو ہنی بال ، یزید ، چنگیز خان ، ہٹلر ، ٹرومین ، رضا شاہ پہلوی ، پول پوٹ ، ضیا الحق اور نریندر مودی جیسے ہی سجتے اور کام دیتے ہیں۔۔۔۔

جنگل کو آخر کب انبیا ، اولیا ، مقدس کتابوں ، صحیفوں اور انکی تعلیمات کی ضرورت رہی ؟

حضرتِ اقبال کے بقول

کسے خبر تھی کہ لے کر چراغِ مصطفوی

جہاں میں آگ لگاتی پھرے گی بولہبی

اسی بارے میں

متعلقہ عنوانات

BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔