انتخابات اور سیاسی جماعتوں کے وعدے

آخری وقت اشاعت:  اتوار 10 مارچ 2013 ,‭ 19:23 GMT 00:23 PST

عورت فاؤنڈیشن کی عہدیدار ممتاز مغل نے بی بی سی کو بتایا کہ خواتین کے حوالے سے پیپلز پارٹی کا منشور سب سے بہتر ہے

پاکستان میں انتخابات قریب آرہے ہیں اور سیاسی پارٹیوں نے ووٹ لینے کے لیے قوم کی تقدیر بدلنے کے دعوے شروع کردیے ہیں لیکن اب نہ تو تمام ووٹر سیاسی لیڈروں کے وعدوں پر آنکھیں بند کرکے یقین کرنے کو تیار ہیں اور نہ ہی خواتین تنظیمیں اب تک کے سیاسی اعلانات سے مطمئن ہیں۔

مسلم لیگ نون ان سیاسی جماعتوں میں شامل ہے جس نے اپنے منشور کا باضابطہ اعلان کیا جبکہ باقی پارٹیوں کے لیڈر بھی عوام سے وعدے وعید میں مصروف ہیں۔

تقریباتمام جماعتوں نے لوڈ شیڈنگ کے خاتمے،صحت تعلیم اورروزگار کی فراہمی اور شدت پسندی سے نمٹنے کے وعدے کیے ہیں۔مبصرین کا کہنا ہے کہ بیشتر سیاسی جماعتوں کے منشور ایک ہی جیسے ہیں لیکن سوال یہ ہے کہ عوام کس حد تک ان سیاسی وعدوں کو اہمیت دیتے ہیں۔لاہور کے کوپر روڈ پر چند شہریوں سے بات کی گئی تو ان میں سے بیشتر یہ ماننے کو تیار نہیں تھے کہ پارٹیوں نے جو اعلان کیا ہے وہ اس پر عملدرآمد بھی کریں گے۔

ایک شہری نے کہا کہ پیپلز پارٹی ذوالفقارعلی بھٹو کے دور سے مسلم لیگ نون میاں نواز شریف کے وقت سے وعدے کرتی آرہی ہے لیکن یہ وعدے وفا نہیں ہوسکے۔

بی بی سی نے چند شہریوں سے بات کی جن میں سے کسی کو یہ معلوم نہیں تھا کہ مرکزی پارٹیوں کے منشور میں ایک دوسرے سے کیا مختلف ہے؟سب کی رائے تھی کہ منشور تو ایک جیسے ہی لگتے ہیں۔

ایک جیسے منشور

بی بی سی نے چند شہریوں سے بات کی جن میں سے کسی کو یہ معلوم نہیں تھا کہ مرکزی پارٹیوں کے منشور میں ایک دوسرے سے کیا مختلف ہے؟سب کی رائے تھی کہ منشور تو ایک جیسے ہی لگتے ہیں۔

مبصرین کا کہنا ہے کہ منشور میں کچھ نہ کچھ فرق تو ہے ہی جیسے مرکزی سیاسی جماعتیں ایسے وعدے کررہی ہیں جس سے کسی طرح تمام طبقوں کی توجہ حاصل کی جائے جبکہ صوبائی اورعلاقائی پارٹیاں اپنے اپنے حلقوں کے عوام کی خواہشات کو مدِنظر رکھے ہوئے ہیں۔

ایک طرف تمام مرکزی سیاسی پارٹیاں اقلیتوں کے حقوق کی بات کرتی ہیں تو وہیں عورتوں کے فلاح و بہبود کی بات بھی کی جاتی ہے اور یہیں پارٹیوں کے درمیان کچھ نہ کچہ فرق بھی ہے۔

ایک غیر سرکاری تنظیم عورت فاؤنڈیشن کی عہدیدار ممتاز مغل نے بی بی سی کو بتایا کہ خواتین کے حوالے سے پیپلز پارٹی کا منشور سب سے بہتر ہے لیکن پھر بھی وہ مکمل مطمئن نہیں ہیں۔

ممتاز مغل کہتی ہیں کہ انہوں نے تمام پارٹیوں کے منشور کے ڈرافٹ دیکھے ہیں اور تحریک انصاف کا منشور اس لحاظ اچھا ہے کہ اس میں خواتین کی تعلیم پر خصوصی توجہ دی گئی ہے۔انہوں نے کہا کہ مسلم لیگ نون نے خواتین کے لیے بات تو کی ہے لیکن کوئی عملی شکل دیے جانے کا ذکر ان کے منشور میں نہیں ہے۔اسی طرح مسلم لیگ قاف کا منشور بھی خواتین کے لحاظ سے کچھ زیادہ متاثر کن نہیں ہے۔

مبصرین کا کہناہے کہ انتخابات میں پارٹیوں کو ووٹ ڈالنے کے رجحان میں جہاں آئندہ کے لیے وعدوں کی بہت اہمیت ہے وہیں پارٹیوں کی کارکردگی اور بہت سے مقامی عوامل ہیں جو ووٹروں پر اثرانداز ہو سکتے ہیں۔

اسی بارے میں

متعلقہ عنوانات

BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔