رینٹل پاور:وزیراعظم کاخط درخواست میں تبدیل

آخری وقت اشاعت:  ہفتہ 9 مارچ 2013 ,‭ 17:49 GMT 22:49 PST

چیف جسٹس نے وزیر اعظم کے خط کو متفرق درخواست میں تبدیل کر کے عدالت کے سامنے پیش کرنے کا حکم دیا ہے: سپریم کورٹ ترجمان

سپریم کورٹ نے کہا ہے کہ کرائے کے بجلی گھروں کے منصوبے کی تحقیق کے لیے کمیشن کی تعیناتی کےحوالے سے وزیراعظم کا خط موصول ہو گیا ہے جسے چیف جسٹس نے ایک متفرق درخواست میں بدل کر 11 مارچ کو عدالت کے سامنے پیش کرنے کا حکم دیا ہے۔

عدالت نے وزیراعظم کو اصالتاً یا وکالتاً عدالت کے سامنے پیش ہو کر اپنا موقف بیان کرنے کا بھی حکم جاری کیا ہے۔

سپریم کورٹ کی جانب سے سنیچر کو جاری ہونے ایک پریس ریلیز میں کہا گیا ہے کہ چیف جسٹس افتخار محمد چودھری نے وزیر اعظم کے خط کا مطالعہ کرنے کے بعد اسے متفرق درخواست میں بدل دیا ہے اور اسے 11 مارچ کو عدالت کے سامنے لگانے کا حکم جاری کیا ہے۔

وزیر اعظم راجہ پرویز اشرف نے چیف جسٹس کے نام خط میں تجویز کیا ہے کہ کرائے کے بجلی گھروں کے منصوبےسے متعلق الزامات کی تحقیقات کے لیے سابق پولیس افسر شعیب سڈل کی سربراہی میں آزاد کمیشن تشکیل دیا جائے۔

سرکاری ذرائع ابلاغ کے مطابق وزیر اعظم نے اپنے خط میں کہا ہے کہ کرائے کے بجلی گھروں کے مقدمے میں منفی پروپیگنڈے سے انھیں مایوسی اور ان کی دل آزاری ہوئی ہے۔

راجہ پرویز اشرف نے کہا کہ انہوں نے کبھی بھی نیب پر اثر انداز ہونے کی کوشش نہیں کی۔

خیال رہے سپریم کورٹ نے کرائے کے بجلی گھروں کی تنصیب کے بارے میں از خود نوٹس لیا تھا۔ تاہم فیصل صالح حیات نے کرائے کے بجلی گھروں میں ہونے والی مبینہ بدعنوانی کے خلاف سپریم کورٹ میں درخواست بھی دائر کی تھی۔

فیصل صالح حیات نے اپنی درخواست میں نجی پاور کمپنیوں سے ہونے والے ان معاہدوں میں پانی و بجلی کے سابق وفاقی وزیر راجہ پرویز اشرف پر مبینہ طور پر کروڑوں روپے رشوت لینے کا الزام عائد کیا تھا۔

سپریم کورٹ نے رواں برس پندرہ جنوری کو کرائے کے بجلی گھروں کے بارے میں ہونے والے معاہدوں کے مقدمے میں وزیراعظم پاکستان راجہ پرویز اشرف سمیت 16 افراد کی گرفتاری کا حکم دے دیا تھا۔

اس سے پہلے سپریم کورٹ نے 30 مارچ سنہ 2012 کو کرائے کے بجلی گھروں کے مقدمے کے فیصلے میں تمام بجلی گھروں کے معاہدوں کو غیر قانونی قرار دیتے ہوئے ان معاہدوں فوری طور پر منسوخ کرنے کا حکم دیا تھا اور کہا تھا کہ معاہدے کرنے والے افراد کے خلاف قانون کے مطابق کارروائی کی جائے۔

فیصلے میں عدالت نے یہ بھی کہا تھا کہ سابق وزیر برائے پانی و بجلی راجہ پرویز اشرف اور سیکریڑی خزانہ سمیت تمام حکومتی اہلکاروں نے بادی النظر میں آئین کے تحت شفافیت کے اصول کی خلاف ورزی کی ہے لہٰذا ان افراد کی طرف سے بدعنوانی اور رشوت ستانی میں ملوث ہوکر مالی فائدہ حاصل کرنے کو خارج از امکان نہیں قرار دیا جا سکتا ہے۔

اسی بارے میں

متعلقہ عنوانات

BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔