شمالی وزیرستان میں ڈرون حملہ، دو ہلاک

آخری وقت اشاعت:  اتوار 10 مارچ 2013 ,‭ 05:44 GMT 10:44 PST

پاکستان میں امریکی ڈرون حملوں میں سینکڑوں افراد مارے جا چکے ہیں

پاکستان کے قبائلی علاقے شمالی وزیرستان کی تحصیل دتہ خیل میں امریکی جاسوس طیارے کے حملے میں دو مبینہ شدت پسند ہلاک ہوگئے ہیں۔

مقامی انتظامیہ کے مطابق یہ حملہ اتوار کی صبح ایجنسی کے صدر مقام میران شاہ سے چالیس کلومیٹر دور ویگان کے مقام پر ہوا۔

انتظامیہ کے ایک اہلکار نے بی بی سی کو بتایا کہ ڈرون نے پاک افغان سرحد کے قریب ایک موٹر سائیکل پر سوار دو افراد کو نشانہ بنایا۔

اہلکار کا کہنا تھا کہ حملے میں دونوں مبینہ شدت پسند موقع پر ہی ہلاک ہوگئے۔

حملے میں مارے جانے والے افراد کی شناخت نہیں ہو سکی ہے تاہم مقامی آبادی کا کہنا ہے کہ ہلاک ہونے والوں کا تعلق اس علاقے سے نہیں اور وہ غیر ملکی ہو سکتے ہیں۔

خیال رہے کہ یہ پاکستانی علاقے میں ہونے والے امریکی ڈرون حملوں پر پیدا ہونے والے تازہ تنازع کے بعد ہونے والا پہلا حملہ ہے۔

حال ہی میں امریکی اخبار نیویارک ٹائمز نے امریکہ میں ڈرون پروگرام سے وابستہ اہلکاروں کے حوالے سے کہا تھا کہ امریکی حکام گزشتہ ماہ پاکستانی کے قبائلی علاقے میں ہونے والے دو ڈرون حملوں سے لاعلم ہیں۔

اخبار کے مطابق یہ حملے چھ اور آٹھ فروری 2013 کو بالترتیب شمالی اور جنوبی وزیرستان میں کیے گئے تھے لیکن امریکی اہلکاروں کا کہنا ہے کہ امریکہ نے حملے نہیں کیے۔

اخبار نے یہ بھی کہا تھا کہ امریکیوں کا اندازہ ہے کہ یہ حملے پاکستانی فوج کا کام ہیں اور انہیں پاکستانی عوام کے ردعمل سے بچنے کے لیے سی آئی اے کے سر منڈھ دیا گیا ہے۔

اس پر پاکستانی فوج نے ایک بیان میں اس خبر کو حقائق کو توڑ مروڑ کر پیش کرنے کی کوشش قرار دیا ہے اور کہا تھا کہ اس قسم کا الزام حقائق کو مسخ کرنے کے مترادف اور ڈرون حملوں پر پاکستانی موقف کو کمزور کرنے کی کوشش ہے۔

اسی بارے میں

متعلقہ عنوانات

BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔