مسیحی بستی کی تباہی کےخلاف مختلف شہروں میں احتجاج

آخری وقت اشاعت:  اتوار 10 مارچ 2013 ,‭ 09:45 GMT 14:45 PST
  • سنیچر کو لاہور کے علاقے بادامی باغ میں واقع عیسائی بستی جوزف کالونی پر اس وقت دھاوا بول دیا تھا جب وہاں کے ایک رہائشی ساون مسیح پر توہینِ رسالت کا الزام عائد کیا گیا تھا۔
  • مشتعل ہجوم نے متاثرہ علاقے میں واقع 180 مکانات کو آگ لگا کر مکمل طور پر تباہ کر دیا تھا
  • ان مکانات میں موجود املاک اور قیمتی سامان کو باہر نکال کر اسے بھی آگ لگا دی گئی
  • ان مکانات میں موجود مذہبی کتب بھی آگ سے متاثر ہوئیں
  • کچھ مکانات سے اتوار کی صبح بھی دھواں اٹھتا دیکھا جا سکتا تھا
  • جان کے خوف سے علاقہ چھوڑ کر جانے والے مکین اتوار کی صبح واپس لوٹے تو وہاں تباہ شدہ مکانات اور راکھ کے سوا کچھ نہ بچا تھا
  • جوزف کالونی کے غریب عیسائیوں کی عمر بھر کی جمع پونجی مشتعل ہجوم کے غیض و غضب کا نشانہ بن گئی
  • خاکروبوں کی اس بستی کا ہر مکان تباہی کی نئی داستان سنا رہا تھا
  • علاقے کے مکینوں کا کہنا ہے کہ وہ بےسروسامانی کی حالت میں پڑے ہیں اور انہیں امداد نہیں ملی ہے
  • مشتعل ہجوم سے اپنے مکان کو بچانے کے لیے اس کے رہائشی نے اپنے مسلمان ہونے کا اعلان اس کتبے پر تحریر کر کے مکان کے باہر لٹکا دیا
  • متاثرہ علاقے کے قریب آویزاں اس قسم کے بینر صورتحال کا اندازہ کرنے کے لیے کافی تھے
  • پولیس نے سنیچر کو ہنگامہ آرائی کرنے والے افراد کے خلاف مقدمہ درج کر کے چالیس سے زائد لوگوں کو گرفتار کیا ہے

لاہور میں ایک عیسائی شخص پر توہینِ رسالت کے الزام کے بعد مشتعل ہجوم کے ہاتھوں مسیحی بستی نذرِ آتش کیے جانے کے خلاف پاکستان کے مختلف شہروں میں احتجاجی مظاہرے ہوئے ہیں جبکہ متاثرہ بستی کے مکینوں نے امداد کی عدم فراہمی کی شکایات کی ہیں۔

ادھر پولیس نے اس واقعے کا مقدمہ درج کر کے دو درجن سے زائد افراد کو حراست میں لے لیا ہے جبکہ توہینِ رسالت کے مبینہ ملزم ساون مسیح کو بھی جوڈیشل ریمانڈ پر جیل بھیج دیا گیا ہے۔

کلِک جوزف کالونی میں تباہی: تصاویر میں

مشتعل ہجوم نے سنیچر کو لاہور کے علاقے بادامی باغ میں واقع عیسائی بستی جوزف کالونی پر اس وقت دھاوا بول دیا تھا جب وہاں کے ایک رہائشی ساون مسیح پر توہینِ رسالت کا الزام عائد کیا گیا تھا۔

جوزف کالونی غریب عیسائیوں کی بستی ہے اور یہاں زیادہ تر خاکروب مقیم تھے۔ مشتعل ہجوم نے متاثرہ علاقے میں واقع 180 مکانات اور ان میں موجود املاک کو آگ لگا کر مکمل طور پر تباہ کر دیا تھا جبکہ دو گرجا گھروں کو بھی جلایا گیا تھا۔

توہینِ رسالت کا الزام لگائے جانے کے بعد اس بستی کی آبادی جمعہ کی رات ہی علاقہ چھوڑ کر چلی گئی تھی اس لیے اس واقعے میں کوئی جانی نقصان نہیں ہوا تھا۔

بی بی سی اردو کے نامہ نگار عباد الحق کے مطابق اتوار کو لاہور کی مال روڈ پر پنجاب اسمبلی کے سامنے مسیحی برادری سے تعلق رکھنے والے دو سو سے زائد افراد نے احتجاج کیا۔

احتجاج کرنے والوں میں خواتین اور بچے بھی شامل تھے اور مظاہرین ملک میں مذہبی رواداری کے حق میں اور جوزف کالونی میں آگ لگانے والے افراد کے خلاف فوری کارروائی کا مطالبہ کر رہے تھے۔

جوزف کالونی

ملک میں اقلیتیں اپنے آپ کو غیر محفوظ محسوس کر رہی ہیں

مظاہرین نے بینر اور پلے کارڈ بھی اٹھا رکھے تھے جن پر ’پاکستان ہمارا ہے، ہمیں اس میں رہنے دو‘ جیسے نعرے درج تھے۔

لاہور کے علاوہ اسلام آباد میں بھی سول سوسائٹی نے پریس کلب کے سامنے متاثرین سے اظہارِ یکجہتی کے لیے مظاہرہ کیا۔ اس مظاہرے میں درجنوں افراد شریک ہوئے جو ملک میں سکیولرازم کے فروغ کے لیے نعرے بازی کر رہے تھے۔

پی ٹی وی کے مطابق صوبہ سندھ میں کراچی کے علاوہ اندورنِ سندھ میں بھی مسیحی برادری نے اس واقعے کے خلاف احتجاج کیا ہے۔

بادامی باغ کے واقعہ کے خلاف اتوار کو کراچی پریس کلب کے سامنے متحدہ قومی موومنٹ اور پاکستان پپلز پارٹی نے علٰیحدہ علٰیحدہ مظاہرے کیے جن میں مسیحی برادری کی بڑی تعداد نے شرکت کی۔

اس موقع پر مظاہرے کے مسیحی شرکاء نے بینرز اور پلے کارڈز بھی اٹھا رکھے تھے جن پر نعرے درج تھے کہ ’جینے کا حق دو‘، ’ملزمان کو گرفتار کرو‘ اور اقلیتوں کو تحفظ دو۔ شرکاء نے اپنے مطالبات کے حق میں شدید نعرے بازی بھی کی۔

"امداد کے وعدے کاغذی کارروائی ہی ثابت ہوئے ہیں اور ہماری مائیں بہنیں سڑک پر اس جگہ دریاں بچھائے بیٹھی ہیں جہاں ہم کوڑا ڈالتے تھے۔۔۔اگر پوری بستی کو یہاں سے منتقل کیا جاتا ہے تب تو ہم جانے کو تیار ہیں۔ لیکن سب ساتھ جائیں گے۔ اگر کسی کو یہاں چھوڑ گئے تو جو ہمارے ساتھ ہوا ہے وہ ان کے ساتھ بھی ہوگا۔"

وکرم، جوزف کالونی کا مکین

متحدہ قومی مومنٹ کے مظاہرے سے خطاب کرتے ہوئے ایم کیو ایم کے سینئر رہنماء ڈاکٹر فاروق ستار نے حکومتِ پنجاب کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا اور اس سے فوری مستعفی ہونے کا مطالبہ کیا۔

متحدہ قومی مومنٹ کے مظاہرے کے فوری بعد ہی پاکستان پپلزپارٹی کے کارکنوں نے کراچی پریس کلب کے سامنے مظاہرہ کیا اور اپنے مطالبات کے حق میں نعرے بازی کی۔

تاہم اس موقع پر کچھ لوگوں نے قریب ہی واقع زینب مارکیٹ میں دوکانیں بند کرانے کی کوشش کی اور پتھراؤ کیا جسے سے وہاں کھڑی گاڑیوں کے شیشے ٹوٹ گئے جبکہ دوکانوں کو بھی جزوی نقصان پہنچا۔

پولیس نے ان افراد کو منتشر کرنے کے لیے پولیس اور رینجرز نے شیلنگ اور ہوائی فائرنگ کی جس سے علاقے میں خوف ہراس پھیل گیا اور مارکیٹیں بند ہوگئیں۔ بعد ازاں پولیس اور رینجرز نے حالات پر قابو پا لیا۔

اس کے علاوہ مسیحی برادری نے عیسٰی نگری، ڈالمیا، اور شہر کے دیگر علاقوں میں بھی مظاہرے کیے۔

ادھر نذرِ آتش کی جانے والی بستی کے مکین اپنے علاقے میں واپس آنا شروع ہوگئے ہیں اور ان افراد نے امداد نہ ملنے کی شکایات کی ہیں۔

جائے وقوع سے ہمارے نامہ نگار نے بتایا کہ اتوار کو اہلِ علاقہ کی واپسی کے موقع پر بستی میں رقت آمیز مناظر دیکھنے کو ملے اور خواتین اپنے جلے ہوئے مکانات اور سامان کو دیکھ کر روتی دکھائی دیں۔

حکومتِ پنجاب نے اس واقعے کے بعد متاثرین کو دو، دو لاکھ روپے امداد دینے کے علاوہ ان کے لیے علاقے میں ایک کیمپ قائم کیا لیکن ناکافی سہولیات کے وجہ سے اس میں چند لوگ ہی رکے تھے اور زیادہ تر نے شہر میں اپنے عزیز و اقارب کے ہاں ٹھہرنے کو ترجیح دی تھی۔

اتوار کو اس کیمپ میں موجود وکرم نامی ایک شخص نے بی بی سی اردو کو بتایا کہ مقامی ایم این اے کے علاوہ کوئی اور حکومتی شخصیت ان کے پاس نہیں آئی اور وہ لوگ تاحال اپنی مدد آپ کے تحت کام کر رہے ہیں۔

وکرم کے مطابق ’امداد کے وعدے کاغذی کارروائی ہی ثابت ہوئے ہیں اور ہماری مائیں بہنیں سڑک پر اس جگہ دریاں بچھائے بیٹھی ہیں جہاں ہم کوڑا ڈالتے تھے۔‘

مشتعل افراد نے 180 مکانات اور دو گرجا گھر نذرِ آتش کر دیے تھے

ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ ’اگر پوری بستی کو یہاں سے منتقل کیا جاتا ہے تب تو ہم جانے کو تیار ہیں۔ لیکن سب ساتھ جائیں گے۔ اگر کسی کو یہاں چھوڑ گئے تو جو ہمارے ساتھ ہوا ہے وہ ان کے ساتھ بھی ہوگا۔‘

علاقے میں واپس آنے والے افراد کی حفاظت کے لیے پولیس کی بھاری نفری تعینات کی گئی ہے۔

مقامی پولیس نے تھانہ بادامی باغ کے ایس ایچ او کی مدعیت میں اس واقعے کا مقدمہ بھی انسدادِ دہشت گردی کی دفعہ سات سمیت دوسرے فوجداری دفعات کے تحت درج کر لیا ہے۔

پولیس ذرائع کے مطابق اب تک اس سلسلے میں چالیس سے زائد افراد کو حراست میں لیا گیا ہے اور بلوے میں ملوث افراد کی نشاندہی کے لیے ویڈیو فوٹیج اور تصاویر سے بھی مدد لی جا رہی ہے۔

توہینِ رسالت کے مبینہ ملزم ساون مسیح کو بھی سنیچر کو مقامی مجسٹریٹ کی عدالت میں پیش کیا گیا جنہوں نے اسے چودہ دن کے جوڈیشل ریمانڈ پر جیل بھیج دیا۔

پاکستان کے صدر آصف علی زرداری اور وزیراعظم راجہ پرویز اشرف نے بھی اس واقعےکا نوٹس لیتے ہوئے رپورٹ طلب کر لی ہے ۔

صدر کے ترجمان فرحت اللہ بابر نے بیان میں کہا ہے کہ صدر کا کہنا تھا کہ اقلیتوں کے خلاف لاقانونیت کے ایسے واقعات سے ملک کی بدنامی ہوتی ہے اور انہوں نے متعلقہ حکام کو شہریوں کے جان و مال کے تحفظ اور سلامتی کو یقینی بنانے کی ہدایت کی ہے۔

قومی ہم آہنگی کے بارے میں وزیراعظم پاکستان کے مشیر پال بھٹی نے اس واقعے کو حکومت پنجاب کی مکمل ناکامی قرار دیا ہے۔

اسی بارے میں

متعلقہ عنوانات

BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔