حوصلہ یا بے حسی

آخری وقت اشاعت:  اتوار 10 مارچ 2013 ,‭ 15:12 GMT 20:12 PST

اس سال پشاور میں دہشت گردی روزمرہ کا معمول بن گیا ہے

یہ حوصلہ ہے یا بے حسی؟ مسجد کے اندر دھماکا، امام مسجد سمیت پانچ افراد ہلاک اور دو درجن سے زیادہ زخمی ہوئے لیکن نہ تو کہیں احتجاج ہوا اور نہ ہی کوئی مظاہرہ، بس متاثرہ خاندان ماتم کرتے رہے اور شہری افسردہ ضرور نظر آئے۔

یہ ذکر ہے خیبر پختونخوا کے دارالحکومت پشاور کا جہاں ہر روز چھوٹا بڑا کوئی نہ کوئی سانحہ ضرور پیش آتا ہے۔ یہ سانحے ٹارگٹ کلنگ، بم دھماکوں اور اندھا دھند فائرنگ کے شکل میں پیش آتے رہتے ہیں۔ یہاں اب بوری بند لاشوں کا ملنا، اغوا اور گھروں میں گھس کر ہلاک کر دینے جیسے واقعات بھی معمول کا حصہ بن گئے ہیں۔

گزشتہ روز پشاور کے گنجان آباد علاقے کی ایک مسجد میں دھماکا کیا گیا جس میں پانچ افراد ہلاک اور 30 زخمی ہوئے ہیں۔

جس مقام پر واقعہ پیش آیا وہاں شہریوں نے اپنی جان کی پروا کیے بغیر خود ہی زخمیوں کو ہسپتال پہنچایا، امدادی سرگرمیاں خود ہی شروع کیں۔

سمجھ میں نہیں آتا کہ اسے حوصلہ کہا جائے ، بے بسی لکھا جائے اور یا کچھ اور الفاظ تلاش کیےجائیں۔ شہریوں کی حفاظت پر مامور ہماری حکومت، ریاست اور اس کے ادارے کہاں ہیں۔ خفیہ ایجنسیاں کیا کر رہی ہیں، سپریم کورٹ کے از خود نوٹس کہاں ہیں، یا خیبر پختونخوا اور پشاور کے لیے ان نوٹسوں پر پابندی عائد ہے۔

پشاور سمیت خیبر پختونخوا میں ہونے والے ان واقعات میں اس سال کے ابتدائی مہینوں میں اس قدر اضافہ دیکھا جا رہا ہے کہ ایک مرتبہ پھر شہریوں کے سروں پر خوف کے سائے منڈلا رہے ہیں۔

خیبر پختونخوا اور اس سے ملحق پاکستان کے قبائلی علاقے 2008 سے 2010 تک سب سے زیادہ خون آلود رہے۔ ان تین برسوں میں مختلف واقعات میں شہریوں کی سب سے زیادہ ہلاکتیں ہوئی ہیں۔

لیکن اب 2013 کے پہلے دو ماہ ہی تشدد کے واقعات سے بھرے پڑے ہیں۔ صرف خیبر پختونخِوا میں کل یعنی سنیچر تک تشدد کے لگ بھگ 60 واقعات پیش آچکے ہیں اوسطاً دیکھا جائے تو ہر روز ایک واقعہ پیش آتا رہا ہے۔ ان واقعات میں 130 سے زیادہ افراد ہلاک ہو چکے ہیں جب کہ 130 کے قریب زخمی ہوئے ہیں۔

"دہشت گردی کے واقعات کے خلاف سیاسی سطح پر کوئی جماعت یا کوئی ادارہ اور تنظیم سامنے نہیں آئی جس کی وجہ سے لوگ خوف محسوس کر رہے ہیں۔"

پروفیسر خادم حسین

عوامی رد عمل پر میں نے دہشت گردی کے امور پر تحقیق کرنے والے پروفیسر خادم حسین سے پوچھا تو ان کا کہنا تھا کہ خیبر پختونخوا میں مختلف عوامل کی وجہ سے صورتحال تشویشناک ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ایک تو خوف کی فضا پائی جاتی ہے اس کے علاوہ ابلاغ کی کمی ہے، اور سیاسی سطح پر لوگ تنہائی کا شکار ہیں۔ انھوں نے کہا کہ دہشت گردی کے واقعات کے خلاف سیاسی سطح پر کوئی جماعت یا کوئی ادارہ اور تنظیم سامنے نہیں آئی اور لوگ خوف محسوس کر رہے ہیں۔

پروفیسر خادم حسین نے کہا ریاستی ادارے بھی خیبر پختونخوا کے بارے میں کسی قسم کے اقدامات نہیں کر رہے جب کہ دوسری جانب تشدد میں ملوث افراد کے بارے میں ایسا تاثر پایا جاتا ہے جیسے ان واقعات کو ریاستی پشت پناہی حاصل ہے اس لیے یہاں لوگ اس طرح کا رد عمل سامنے نہیں لاتے جس طرح ملک کے دیگر علاقوں میں دیکھا جاتا ہے۔

مبصرین کا کہنا ہے کہ اس صوبے میں تشدد کے متعدد واقعات پیش آچکے ہیں جن سے لوگ ایک تو مانوس ہو چکے ہیں، اس کے علاوہ اس وقت نفسانفسی کا عالم ہے اس لیے احتجاج کون کرے گا۔ جہاں تک بات ہے حوصلے یا بے حسی کی تو یہ دونوں عوامل بھی اس وقت پائے جاتے ہیں۔

اسی بارے میں

متعلقہ عنوانات

BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔