منفی سیاست زور پکڑ رہی ہے

آخری وقت اشاعت:  پير 11 مارچ 2013 ,‭ 15:10 GMT 20:10 PST
عمران خان

عمران خان پاکستان پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ نون، دونوں جماعتوں پر سخت تنقید کرتے رہتے ہیں

پاکستان میں اسمبلیوں کی تحلیل میں بہت کم دن رہ گئے ہیں اور باقاعدہ انتخابی مہم ابھی شروع ہو گی لیکن سیاسی جماعتیں اپنی توانائیاں اپنی خوبیوں سے زیادہ دوسروں کی خامیوں کو اجاگر کرنے میں صرف کر رہی ہیں اور سیاسی رہنماؤں کی جانب سے ایک دوسرے پر کیچڑ اچھالنے میں تیزی نظر آ رہی ہے۔

پاکستان کی بڑی جماعتوں کو مختلف قسم کے الزامات کا سامنا ہے۔ پیپلز پارٹی پر بد عنوانی کا دھبہ لگا ہے تو مسلم لیگ ن کو شدت پسندوں سے روابط کے الزامات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔

معروف سیاسی تجزیہ نگار ڈاکٹر مہدی حسن کے بقول ایک دوسرے پر الزام تراشی پاکستانی سیاست کی روایت رہی ہے اور ہمیشہ ہی سیاسی جماعتوں نے حریف جماعتوں کے بارے میں منفی پراپیگنڈے کو اپنی انتخابی مہم کا اہم حصہ سمجھا ہے۔

ڈاکٹر مہدی حسن کے بقول ٹی وی پر چلنے والے تجزیاتی پروگراموں میں سیاسی رہنما یہ ثابت کرنے کی سر توڑ کوشش کر رہے ہیں کہ پاکستان پیپلز پارٹی نے علاوہ کرپشن کے کچھ نہیں کیا جبکہ ان کی کچھ مثبت باتیں بھی ہوں گی اور اسی طرح ن لیگ کے بارے میں یہ باور کرایا جا رہا ہےکہ وہ شدت پسندی کے خلاف نہیں ہیں اور بلواسطہ ان کے شدت پسندوں سے تعلقات ہیں۔

ڈاکٹر مہدی حسن کے مطابق انتخابی مہم شروع ہوتے ہیں اس منفی مہم میں تیزی آئے گی ۔

انتخابات میں ایک دوسرے پر الزامات کا اثر ووٹروں پر کتنا پڑتا ہے اس ضمن میں ڈاکٹر مہدی حسن کا کہنا ہے کہ پاکستان میں زیادہ تر ووٹروں نے یہ طے کر رکھا ہے کہ انہیں کس کو ووٹ دینا ہے ۔ جتنا بھی منفی پراپیگنڈا ہو جائے اور یہاں تک کہ وہ خود بھی اپنی پارٹیوں کی پالیسیوں پر تنقید کرتے ہوں لیکن انتخابات میں وہ اپنی پارٹی ہی کو ووٹ دیں گے۔

سینیئر صحافی سعید عاصی کے بقول اس وقت پاکستانی عوام کو بہت سے مسائل در پیش ہیں جن میں بد امنی اور شدت پسندی، لوڈ شیڈنگ، مہنگائی اور غربت نمایاں ہیں لیکن سیاسی جماعتیں ان ایشوز کو بھی منفی پراپیگنڈے کے طور پر استعمال کرتیں ہیں اور یہ حربہ اصل مسائل سے لوگوں کی توجہ ہٹانے کی ایک کوشش ہوتا ہے جس سے لوگ مخمصے کا شکار ہو جاتے ہیں۔

انتخابی مہم کے باقاعدہ اعلان سے پہلے ہی سیاسی رہنما اپنے اپنے علاقوں میں جلسے اور جلوسوں کا آغاز کر چکے ہیں۔ روزنامہ ایکسپریس کے مدیر ایاز خان کہتے ہیں کہ آج کل جلسے جلوسوں میں جس طرح کی زبان استعمال کی جا رہی ہے اس نے انیس سو اسی کی دہائی کی سیاست کی یاد تازہ کر دی ہے۔ انہوں نے کہا کہ جیسے جیسے انتخابات مزید قریب آئیں گے سیاست دان ایک دوسرے پر الزامات کی بھر مار کریں گے، ذاتیات کو ملوث کیا جائے گا اور کیچڑ اچھالا جائے گا۔

سیاست دانوں کی ایک دوسرے کی پگڑیاں اچھالنے کی کوششیں اپنی جگہ لیکن بقول ایاز خان کے اس کا کوئی خاطر خواہ فائدہ انہیں نہیں ہو گا کیونکہ اب لوگ منفی سیاست سے زیادہ یہ چاہتے ہیں کہ ایشوز کی سیاست کی جائے اور ان کے مسائل پر نا صرف بات کی جائے بلکہ انہیں بتایا جائے کہ ان مسائل کو ختم کرنے کے لیے سیاسی جماعتوں کے پاس کونسا جامع لائحۂ عمل ہے۔

اسی بارے میں

متعلقہ عنوانات

BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔