’نگران وزیراعظم ایک سرپرائز ہوگا‘

آخری وقت اشاعت:  منگل 12 مارچ 2013 ,‭ 17:42 GMT 22:42 PST
قومی اسمبلی

قومی اسمبلی کی مُدت مکمل ہونے میں محض چار روز باقی ہیں

پاکستان کی قومی اسمبلی کی مُدت مکمل ہونے میں محض چار روز باقی ہیں لیکن تاحال حکومت اور حزب مخالف میں نگران وزیر اعظم کے نام پر اتفاق نہیں ہوسکا، جب کہ ادھر نامزدگی فارم میں ترمیم کے معاملے پر حکومت اور الیکشن کمیشن میں ایک نیا تنازع کھڑا ہوگیا ہے۔

اس صورتِ حال کی وجہ سے ایک بار پھر الیکشن ملتوی ہونے کی چہ مگوئیاں شروع ہوگئی ہیں۔ یہی خدشہ ظاہر کرتے ہوئے مسلم لیگ (ن) کے سینیٹر چوہدری جعفر اقبال نے منگل کو سینیٹ میں کہا کہ انہیں لگتا ہے کہ حکومت الیکشن کمیشن سے جھگڑا بڑھا کر الیکشن ملتوی کرانا چاہتی ہے۔

لیکن صدرِ پاکستان آصف علی زرداری کے ترجمان سینیٹر فرحت اللہ بابر نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ الیکشن ملتوی ہونے کا کوئی جواز نہیں ہے اور چار روز میں یہ خدشات دم توڑ جائیں گے۔

حکومتی حلقوں میں پہلے محمود خان اچکزئی اور عبد الحفیظ شیخ کے نام لیے جاتے رہے ہیں لیکن فرحت اللہ بابر نے کہا کہ اب نگران وزیراعظم کے لیے اور نام بھی ہیں، جس کی تفصیل انہوں نے نہیں بتائی لیکن وثوق سے کہا، ’ہم نگران وزیر اعظم کے لیے ایسے افراد کے نام پیش کریں گے جن پر کسی کو اعتراض نہیں ہوگا اور وہ ایک سرپرائز ہوگا‘۔

"آئین میں بتایا گیا ہے کہ اسمبلی ٹوٹنے تک حکومت اور حزب مخالف میں نگران وزیر اعظم کے نام پر اتفاق نہ ہو تو تین روز کے اندر سپیکر نے پارلیمان کی کمیٹی بنانی ہوگی۔ اس کمیٹی کو زیادہ سے زیادہ تین روز کے اندر کسی امیدوار پر اتفاق رائے کرنا ہوگا "

مسلم لیگ نون نے ویسے تو جسٹس (ریٹائرڈ) ناصر اسلم زاہد، جسٹس (ریٹائرڈ) میاں شاکراللہ جان اور رسول بخش پلیجو کے نام کلِک نگران وزیراعظم کے لیے تجویز کیے ہیں۔ لیکن میاں نواز شریف کا کہنا ہے کہ اگر حکومت نے کوئی معقول نام تجویز کیا تو وہ اُسے قبول کرسکتے ہیں۔

قومی اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر چوہدری نثار علی خان واضح طور پر کہہ چکے ہیں کہ صوبہ سندھ اور بلوچستان میں نگران وزرائے اعلیٰ کی تعیناتی میں بھی ان کی رائے شامل ہونی چاہیے۔ لیکن حکومت کہتی ہے کہ جس صوبائی اسمبلی میں مسلم لیگ (ن) کی نمائندگی ہی نہیں ہے تو وہاں ان کا تعلق نہیں ہے۔

بظاہر ایسا معلوم ہوتا ہے کہ تاحال نگران وزیر اعظم کے نام پر اتفاق نہ ہونے کی ایک بڑی وجہ سندھ اور بلوچستان میں نگران وزرائے اعلیٰ کی تعیناتی پر اختلافِ رائے ہے۔ لیکن بعض حکومتی شخصیات کا کہنا ہے کہ اس معاملے میں چوہدری نثار علی خان کا انداز کچھ جارحانہ ہوتا ہے لیکن پس پردہ اصل مشاورت اسحٰق ڈار سے ہوتی ہے اور میاں نواز شریف ’آن بورڈ‘ ہیں۔

آئین کے مطابق اگر سولہ مارچ کو خود بخود مدت مکمل ہوجاتی ہے تو قومی اسمبلی ٹوٹنے کے بعد بھی سپیکر اور وزیر اعظم اپنے جان نشین آنے تک کام کرتے رہیں گے۔ آئین میں بتایا گیا ہے کہ اسمبلی ٹوٹنے تک حکومت اور حزب مخالف میں نگران وزیر اعظم کے نام پر اتفاق نہ ہو تو تین روز کے اندر سپیکر کو پارلیمان کی کمیٹی بنانی ہوگی۔

"چوہدری نثار علی خان نے یہ بھی دھمکی دے رکھی ہے کہ اگر سندھ اور بلوچستان میں نگران وزراء اعلیٰ کی تعیناتی میں انہیں اعتماد میں نہیں لیا گیا تو وہ ایک ہی دن قومی اور صوبائی اسمبلیوں کا الیکشن نہیں ہونے دیں گے"

اس کمیٹی کو زیادہ سے زیادہ تین روز کے اندر کسی امیدوار پر اتفاقِ رائے کرنا ہوگا۔ اگر کمیٹی میں تین روز کے اندر اتفاق نہیں ہوسکا تو پھر معاملہ الیکشن کمیشن میں جائے گا اور نگران وزیر اعظم کا فیصلہ کمیشن کرے گا۔

اس اعتبار سے اگر دیکھیں تو حکومت اور حزبِ مخالف میں نااتفاقی کی صورت میں وزیرِاعظم کے عہدے پر راجہ پرویز اشرف سولہ مارچ کے بعد زیادہ سے زیادہ ایک ہفتہ اور رہ سکتے ہیں۔ لیکن سپیکر قومی اسمبلی نو منتخب اسمبلی کے سپیکر کو حلف دینے تک عہدے پر رہیں گی۔

چوہدری نثار علی خان نے یہ دھمکی بھی دے رکھی ہے کہ اگر سندھ اور بلوچستان میں نگران وزرائے اعلیٰ کی تعیناتی میں انہیں اعتماد میں نہیں لیا گیا تو وہ ایک ہی دن قومی اور صوبائی اسمبلیوں کا الیکشن نہیں ہونے دیں گے۔ کیونکہ پنجاب اسمبلی کی مدت سات اپریل کو پوری ہوگی اور وہ اسمبلی نہیں توڑیں گے۔

اس طرح سندھ اسمبلی کی مدت تین اپریل، بلوچستان کی چھ اپریل اور خیبر پختونخوا کی مدت ستائیس مارچ کو مکمل ہوگی۔

لیکن فرحت اللہ بابر کا کہنا ہے کہ اس کی نوبت نہیں آئے گی اور پورے ملک میں قومی اور صوبائی اسمبلیوں کا انتخاب ایک ہی روز ہوگا۔

اسی بارے میں

متعلقہ عنوانات

BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔