بلوچستان: ضلعی الیکشن افسر ہلاک، دو لاشیں برآمد

آخری وقت اشاعت:  منگل 12 مارچ 2013 ,‭ 12:05 GMT 17:05 PST

پاکستان کے صوبہ بلوچستان کے ضلع کوئٹہ میں نامعلوم مسلح افراد نے فائرنگ کر کے ضلعی الیکشن کمشنر کو ہلاک کر دیا ہے۔

فائرنگ کا یہ واقعہ سیٹلائٹ ٹاؤن میں چاندنی چوک کے مقام پر پیش آیا۔

دوسری جانب بلوچستان کے علاقے بولان سے آج بھی دو افراد کی تشدد زدہ لاشیں ملی ہیں۔

مقامی پولیس کے مطابق موٹر سائیکل پر سوار نامعلوم مسلح افراد نے ضلعی الیکشن کمشنر ضیاء اللہ قاسمی کو اس وقت نشانہ بنایا جب وہ دفتر سے گھر جا رہے تھے۔

اس واقعے کے فوراً بعد امدادی اداروں نے ضیااللہ قاسمی اور ان کے ڈرائیور کو ہسپتال منتقل کیا جہاں ضیااللہ زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے چل بسے۔

فائرنگ کے بعد حملہ آور فرار ہونے میں کامیاب ہوگئے۔

الیکشن کمیشن نے واقعہ پر افسوس کا اظہار کیا ہے اور ملوث افراد کی گرفتاری کا مطالبہ کیا ہے۔

ادھر بلوچستان لبریشن آرمی کے ترجمان میرک بلوچ نے بی بی سی کو فون کر کے اس واقعہ کی ذمہ داری قبول کرتے ہوئے کہا ہے کہ ہم انتخابات نہیں ہونے دیں گے۔

درین اثناء پاکستان کے صوبے بلوچستان کے سابق وزیر اعلیٰ اختر مینگل نے کہا ہے کہ وہ بلوچستان کے حقوق کی بات کرتے آ رہے ہیں۔ انہوں نے کہا انہوں نے گذشتہ انتخابات میں بھی حصہ لینے کی کوشش کی تاہم حکمرانوں کے پیدا کردہ حالات نےانہیں انتخابات کے بائیکاٹ پر مجبور کیا۔

بی بی سی سے بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ان کے دوست ہمیں انتخابات میں حصہ لینے کا مشورہ دے رہے ہیں تاہم اس بات کا حتمی فیصلہ سینٹرل کمیٹی کرے گی۔

"وہ قوتیں جنہوں نے پورے ملک میں جمہوریت کو پھلنے پھولنے نہیں دیا تو وہ بلوچستان میں جمہوری انداز میں لوگوں کو اپنی آواز اٹھانے کی کب اجازت دیں گے۔"

اختر مینگل

اختر مینگل کا منگل کو کوئٹہ میں نامعلوم مسلح افراد کی فائرنگ سے ہلاک ہونے والے صوبائی الیکشن کمشنر ضیا اللہ قاسمی کے حوالے سے کہنا تھا ان واقعات میں روز بروز اضافہ ہوتا جا رہا ہے۔

’وہ قوتیں جنہوں نے پورے ملک میں جمہوریت کو پھلنے پھولنے نہیں دیا تو وہ بلوچستان میں جمہوری انداز میں لوگوں کو اپنی آواز اٹھانے کی کب اجازت دیں گے‘۔

ان کا کہنا تھا کہ موجود اور سابق حکمرانوں نے بلوچستان کے حالات کو اس نہج پر پہنچا دیا ہے جہاں پر وہاں کے مقامی افراد محفوظ نہیں رہے۔

دوسری جانب پولیس کے مطابق بلوچستان کے دارالحکومت کوئٹہ سے ساٹھ کلو میٹر دور بولان سے دو افراد کی لاشیں برآمد ہوئی ہیں۔

پولیس کا کہنا ہے کہ ہلاک ہونے والے افراد کے نام سکندر اور باز خان ہیں۔ پولیس کا کہنا ہے کہ ابھی تک اس واقعہ کی تفصیل معلوم نہیں ہو سکی۔

خیال رہے کہ بلوچستان اور کوئٹہ میں ٹارگٹ کلنگ کا سلسلہ کافی عرصے سے جاری ہے۔

صوبہ بلوچستان میں ٹارگٹ کلنگ کے واقعات میں تیزی سنہ 2003 میں آئی۔ اس سال ایک حملے میں 11 کیڈٹ ہلاک ہوگئے۔

بلوچستان میں ٹارگٹ کلنگ کی زد میں وکلاء کے ساتھ ساتھ ماتحت عدلیہ کے جج بھی آئے۔

کوئٹہ میں فروری میں ہونے والے بم دھماکے کے نتیجے میں 89 کے قریب افراد ہلاک جبکہ 180 سے زیادہ زخمی ہوگئے۔

اسی بارے میں

متعلقہ عنوانات

BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔