’گوادر پورٹ کاروباری ہی نہیں سٹریٹیجک معاملہ بھی ہے‘

آخری وقت اشاعت:  بدھ 13 مارچ 2013 ,‭ 13:43 GMT 18:43 PST

وزیراعظم راجہ پرویز اشرف نے گوادر بندرگاہ کے معاملے کو زیرِ بحث لانے کے لیے مسلح افواج کی اعلیٰ قیادت کی جانب سے تجویز کردہ کابینہ کمیٹی برائے دفاع کا اجلاس بلانے کے بجائے انہیں وزارتی سطح پر یہ معاملہ اٹھانے کا حکم دیا ہے۔

ملکی فوجی قیادت چین کو گوادر کی بندرگاہ کا انتظام دیے جانے کے فیصلے کو کابینہ کی دفاعی کمیٹی (ڈی سی سی) میں زیر بحث لانا چاہتی تھی۔

تاہم مسلح افواج کے تعلقات عامہ کے شعبے کے ترجمان نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے اس خبر کی تردید کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ خبر بے بنیاد ہے۔

اس معاملے سے باخبر ایک سینئر فوجی افسر نے بی بی سی کو بتایا ہے کہ کابینہ کمیٹی میں یہ معاملہ زیربحث نہ آنے سے فوجی قیادت میں یہ تاثر پیدا ہوا ہے کہ حکومت اس اہم اور نازک معاملے پر فوجی قیادت کا اعتماد نہیں لینا چاہتی۔

"فوجی قیادت سمجھتی ہے کہ یہ دونوں (گوادر بندرگاہ اور ایران گیس پائپ لائن) ایسے منصوبے ہیں جن کے نا صرف پاکستان بلکہ خطے پر دور رس سیکیورٹی اثرات مرتب ہوں گے لہٰذا ان کے بارے میں دفاعی شعبے کے متعلقہ افسران سے مشورہ بھی بہت ضروری تھا۔"

ذرائع

فوجی ذرائع کا کہنا ہے کہ گوادر کی بندرگاہ کا انتظام سنگاپور کی کمپنی سے لے کر چین کے حوالے کرنے کے فیصلے پر فوجی قیادت کو اعتماد میں نہیں لیا گیا۔

حکومت کا کہنا ہے کہ گوادر کی بندرگاہ کو ایک کمپنی سے لے کر دوسری کے حوالے کرنا خالصتاً کاروباری معاملہ ہے۔

تاہم فوجی قیادت اس مؤقف سے اتفاق نہیں کرتی۔ فوجی ذرائع کے مطابق اعلیٰ فوجی قیادت سمجھتی ہے کہ گوادر کی بندرگاہ کاروباری کے علاوہ دفاعی حکمت عملی (سٹریٹیجک) کا معاملہ بھی ہے اور اتنی اہم نوعیت کا فیصلہ کرنے سے قبل فوجی قیادت کو اعتماد میں لینا ضروری تھا۔

اس کے علاوہ پاکستانی بحریہ گوادر کی بندرگار پر چھ برتھیں اپنے لیے مختص کروانے میں بھی دلچسپی رکھتی تھی لیکن وزیراعظم نے دفاعی کمیٹی کا اجلاس نہ بلا کر اس معاملے کو بھی سرد خانے کی نذر کر دیا ہے۔

اہم فوجی ذرائع کا کہنا ہے کہ فوجی قیادت کابینہ کمیٹی برائے دفاع کے اجلاس میں ایران کے ساتھ گیس پائپ لائن کے معاہدے پر بھی بات کرنے کی خواہاں تھی۔

فوجی ذرائع کے مطابق گوادر کی طرح حکومت نے ایران کے ساتھ گیس کے منصوبے پر بھی فوجی قیادت کو اعتماد میں نہیں لیا۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ فوجی قیادت سمجھتی ہے کہ یہ دونوں (گوادر بندرگاہ اور ایران گیس پائپ لائن) ایسے منصوبے ہیں جن کے نہ صرف پاکستان بلکہ خطے پر دور رس سیکیورٹی اثرات مرتب ہوں گے لہٰذا ان کے بارے میں دفاعی شعبے کے متعلقہ افسران سے مشورہ بھی بہت ضروری تھا۔

اسی بارے میں

متعلقہ عنوانات

BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔