بلوچستان میں گورنر راج کی مدت ختم

آخری وقت اشاعت:  جمعرات 14 مارچ 2013 ,‭ 21:54 GMT 02:54 PST

چودہ جنوری کو صوبہ بلوچستان کے گورنر ذوالفقار مگسی صوبے کے چیف ایگزیکٹو بن گئے تھے

پاکستان کے صوبہ بلوچستان میں امن و امان کی خراب صورتحال کے بعد دو ماہ قبل نافذ کیے جانے والے گورنر راج کی مدت بدھ اور جمعرات کی درمیانی شب ختم ہو گئی ہے۔

بلوچستان کے سینیئر وزیر مولانا عبد الواسع نے کہا ہے کہ صوبے میں گورنر راج کے خاتمے کے بعد وزیراعلیٰ نواب اسلم رئیسانی کی حکومت بحال ہوگئی ہے تاہم ابھی تک حکومت کی جانب سے کوئی باضابطہ اعلان سامنے نہیں آیا۔

صوبہ بلوچستان کے دارالحکومت کوئٹہ کی علمدار روڑ پر ہونے والے بم دھماکے اور اس کے بعد شیعہ برادری کے احتجاج کے بعد چودہ جنوری کو صوبہ بلوچستان میں دو ماہ کے لیے گورنر راج نافذ کر دیا گیا تھا جس کے بعدگورنر بلوچستان ذوالفقار مگسی صوبے کے چیف ایگزیکٹو بن گئے تھے۔

آئینی اور قانونی ماہرین کا کہنا ہے کہ گورنر راج میں توسیع کے لیے پالیمان کے مشترکہ اجلاس میں منظوری ضروری ہے جوکہ نہیں لی گئی اور اس وجہ سے گورنر راج کی مدت بدھ اور جمرات کی درمیانی شب ختم ہو گئی ہے۔

کوئٹہ سے صحافی محمد کاظم کے مطابق بعض ذرائع کا یہ دعویٰ ہے کہ وفاقی حکومت اور پیپلزپارٹی کی مرکزی قیادت کے بعض لوگ گورنر راج کے خاتمے کے بعد بھی نواب اسلم رئیسانی کو وزیراعلیٰ نہیں دیکھنا چاہتے ہیں۔

ان ذرائع کا یہ کہنا ہے کہ وفاقی حکومت اور پیپلزپارٹی کی مرکزی قیادت کے میں شامل بعض لوگ یہ چاہتے تھے کہ نواب اسلم رئیسانی استعفیٰ دیں اور اسمبلیوں کے خاتمے سے قبل چند دن کے لیے بلوچستان اسمبلی کوئی اور قائد ایوان نامزد کرے۔

دریں اثناء بلوچستان اسمبلی میں جمیعت علماء اسلام کے پارلیمانی رہنماء مولانا عبدالواسع نے میڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ پارلیمنٹ سے گورنر راج کی منظوری حاصل نہیں کی گئی ہے اس لیے آج سے نواب اسلم رئیسانی بطور وزیراعلیٰ بحال ہونے کے علاوہ ان کی حکومت بھی بحال ہوگئی ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ اگر بلوچستان پر کوئی اور شب خون نہیں مارا گیا تو نگران سیٹ اپ کے قیام تک نواب اسلم رئیسانی کی حکومت بحال رہے گی۔

خیال رہے کہ گذشتہ ماہ وفاقی وزیر قانون فاروق ایچ نائیک نے کہا ہے کہ بلوچستان میں چودہ مارچ سے پہلے گورنر راج اٹھا لیا جائے گا۔

وفاقی وزیر کے مطابق بلوچستان اسمبلی کے سپیکر اسمبلی کا اجلاس بلانے کے لیے تاریخ کا اعلان کریں گے اور نئے وزیر اعلیٰ کا انتخاب صوبائی اسمبلی کرے گی۔

اسی بارے میں

متعلقہ عنوانات

BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔