ماضی کے نگراں

آخری وقت اشاعت:  اتوار 24 مارچ 2013 ,‭ 11:50 GMT 16:50 PST

پاکستان کی چھیاسٹھ سالہ تاریخ میں یہ پہلی بار ہے کہ ایک جمہوری حکومت کی آئینی مدت ختم ہونے کے بعد نگراں وزیر اعظم کو سیاسی جماعتوں کی مشاورت کے بعد تقرر کیا گیا ہو۔ جسٹس ریٹائرڈ میر ہزار خان کھوسو پاکستان کے چھٹے نگراں وزیر اعظم ہیں۔ ان سے پہلے اس عہدے پر رہنے والوں کے مختصر خاکے:

1990۔غلام مصطفی جتوئی

پیپلز پارٹی کے بانی رکن سے نگراں وزیر اعظم

غلام مصطفی جتوئی

غلام مصطفی جتوئی سابق وزیرِ اعظم ذوالفقار علی بھٹو کے ساتھیوں میں سے ایک تھے

غلام مصطفیٰ جتوئی نے نگراں وزیر اعظم کا عہدہ چھ اگست 1990 میں بینظیر بھٹو کی حکومت کی اچانک برطرفی کے بعد سنبھالا۔

پیپلز پارٹی کی حکومت کو صدر غلام اسحاق خان نے چھ اگست سنہ 1990 میں جنرل ضیاء الحق کے آئین میں متعارف کردہ شق ’اٹھاون ٹو بی‘ کے تحت برطرف کیا۔ انہوں نے حکومت پر ’نا اہلی اور بدعنوانی‘ کے الزامات لگا کر نئے انتخابات کے انعقاد کے لیے نگراں وزیراعظم مقرر کیا جو کہ ذوالفقار علی بھٹو کے ایک سابق ساتھی اور پیپلز پارٹی کے سابق رہنما غلام مصطفی جتوئی تھے۔

غلام مصطفیٰ جتوئی اپنی جماعت نیشنل پیپلز پارٹی کے رہنما تھے اور اس جماعت نے ان کے دور حکومت میں ہونے والے انتخابات میں حصہ بھی لیا۔ ان کا تعلق سندھ کے علاقے نوشیرو فیروز سے تھا۔

غلام مصطفیٰ جتوئی نے اپنا سیاسی کیریئر 1956 میں صوبائی اسمبلی کے رکن منتخب ہو کر کیا۔ وہ سابق وزیراعظم ذوالفقار علی بھٹو کی سیاسی جماعت پیپلز پارٹی کے بانی رہنماؤں میں شامل تھے اور ذوالفقار علی بھٹو کے دور اقتدار میں سپورٹس اینڈ شپنگ سمیت مختلف محکموں کے وزیر رہے۔ وہ 1973 سے 1977 تک سندھ کے وزیراعلیٰ رہے۔

وہ جنرل ضیاءالحق کے دورِ میں بحالی جمہوریت کی تحریک ایم آر ڈی میں شریک رہے اور اس دوران دو بار گرفتار بھی ہوئے۔

سنہ انیس سو چھیاسی میں بینظیر بھٹو کے وطن آنے کے کچھ عرصے بعد غلام مصطفیٰ جتوئی نے پیپلز پارٹی سندھ کے چیئرمین کے حثثیت سے استعفیٰ دے دیا۔ کچھ ماہرین کے مطابق ان سے استعفیٰ لیا گیا تھا۔

اس کے بعد انہوں نے اپنی سیاسی جماعت این پی پی بنائی اور 1988 کے انتخابات میں اسلامی جمہوری اتحاد (آئی جے آئی) کے بینر تلے انہوں نے پیپلز پارٹی کے خلاف انتخابات میں حصہ لیا۔وہ 1989 میں قومی اسمبلی میں حزب اختلاف کی جماعتوں کی جانب قائد حزب اختلاف مقرر ہوئے۔

غلام مصطفیٰ جتوئی کے نگرانی میں ہونے والے انتخابات میں دھاندلی کے کئی الزامات لگائے گئے تھے۔ (اس کی کچھ تفصیل بہت سال بعد یعنی 2012 میں سامنے آئی جب آئی جے آئی کے سیاستدانوں میں رقوم کی تقسیم سے متعلق کیس کا فیصلہ سپریم کورٹ نے سنایا۔

ایئر مارشل ریٹائرڈ اصغر خان کے درج کردہ اس مقدمےکے مختصر فیصلے میں عدالت نے کہا تھا تھا کہ سنہ انیس سو نوّے کے انتخابات میں دھاندلی ہوئی تھی اور اس مقدمے کی سماعت کے دوران سابق بینکار یونس حبیب نے عدالت کو بتایا تھا کہ انہوں نے اعلیٰ سیاسی اور عسکری قیادت کے دباؤ پر 1990 کے انتخابات سے قبل سیاستدانوں میں تقریباً پینتیس کروڑ روپے تقسیم کیے تھے۔)

بعد میں خود غلام مصطفیٰ جتوئی نے اعتراف کیا تھا کہ انتخابات میں زبردست دھاندلیاں ہوئیں۔

اس کے علاوہ ان پر پیپلز پارٹی کے رہنماؤں کے خلاف انتقامی سیاست کرنے کے الزامات بھی لگے۔ ان کی حکومت میں سابق وزیراعظم بے نظیر بھٹو کے خلاف بدعنوانی کے ریفرنس دائر کیے گئے اور وہ ان کے سامنے پیش بھی ہوئیں۔ انہوں نے ایک بیان میں کہا تھا کہ بینظیر بھٹو کی نااہلی سے اتخابات کی ساکھ متاثر نہیں ہو گی۔

غلام مصطفیٰ کھر نے سنہ ستر سے احتساب کرنے کے اعلان کرنے کا اعلان کیا تھا لیکن ماہرین کے مطابق یہ پیپلزپارٹی کی بیس ماہ کی حکومت تک محدود رہا۔

نگراں دور کے غلام مصطفیٰ جتوئی 1993 کے انتخابات کے بعد پیپلز پارٹی کی حکومت میں اتحادی جماعت کے طور پر شامل ہو گئے۔ حالانکہ 1990 میں نگراں وزیراعظم کا عہدہ سنبھالنے سے دو ہی دن پہلے انہوں نے ایک بیان میں کہا تھا کہ’جب تک بینظیر بھٹو وزیراعظم ہیں اس وقت تک ملکی سالمیت خطرے میں رہے گی۔‘

غلام مصطفیٰ جتوئی نے 2002 میں جنرل مشرف کے دور اقتدار میں منعقدہ انتخابات میں نیشنل الائنس کے نام سے ایک اتحاد تشکیل کی اور اس اتحاد نے قومی اسمبلی کی سولہ، سندھ اسمبلی کی سولہ اور سینیٹ کی تین سیٹوں میں کامیابی حاصل کی۔

غلام مصطفیٰ جتوئی کا نومبر 2009 میں اٹھتہر سال کی عمر میں لندن میں انتقال ہوا۔

1993 ۔ بلخ شیر مزاری

ایک ماہ کے نگراں

بلخ شیر مزاری

بلخ شیر مزاری ساٹھ سال سے زائد عرصے سے سیاست میں ہیں

بلخ شیر مزاری نے اپریل 1993 میں نگراں وزیر اعظم کا عہدہ اس وقت سنبھالا جب صدر غلام اسحاق نے پہلی مرتبہ وزیر اعظم میاں نواز شریف کی حکومت بر طرف کی۔

صدر غلام اسحاق خان نے اٹھارہ اپریل کو نواز شریف کی حکومت کو برطرف تو کیا لیکن اس سے اگلے ہی روز اس اقدام کو سپریم کورٹ میں چیلنج کر دیا گیا اور چھبیس مئی کو سپریم کورٹ نے صدر کے اقدام کو غیر آئینی قرار دیتے ہوئے نواز شریف کی حکومت کو بحال کر دیا۔ یوں پنجاب اور بلخ شیر مزاری صرف ایک ماہ آٹھ دن تک ہی نگران وزیراعظم کے عہدے پر فائز رہے۔

بلخ شیر مزاری نے اپنی سیاسی زندگی کا آغاز سنہ 1950 میں مسلم لیگ سے کیا اور انیس سو باسٹھ میں قومی اسمبلی کے رکن منتخب ہوئے۔ بعد میں صدارتی انتخابات میں فاطمہ جناح کا ساتھ دیا لیکن انتخابی نتائج کے بعد فوجی صدر ایوب خان کی حمایتی کنونشن مسلم لیگ میں شامل ہو گئے۔

ذوالفقار علی بھٹو کی ایوب خان کے خلاف تحریک کے دوران کنونشن لیگ سے الگ ہو گئے اور سنہ اکہتر کے بعد پیپلز پارٹی میں شامل ہو گئے اور ستتر کے الیکشن میں پی پی کے ٹکٹ پر ایم این اے منتخب ہوئے تاہم بھٹو کے اقتدار کے خاتمے کے بعد پیپلز پارٹی سے الگ ہو گئے اور جنرل ضیاء الحق کی مرکزی شوریٰ کے رکن بن گئے اور ضیاء کے صدارتی ریفرنس میں پیش پیش رہے اور غیر جماعتی انتخابات میں ریکارڈ ووٹ لے کر کامیاب ہوئے۔

سنہ انیس سو نوے اور ترانوے کے انتحابات میں قومی اسمبلی کی نشست پر کامیاب ہوئے۔

اس وقت بھی ملک کی مرکزی سیاسی قیادت سے رابطوں میں رہتے ہیں۔

1993 ۔ معین قریشی

ورلڈ بینک سے وزرات عظمیٰ تک

معین قریشی

ناقدین انہیں ’امپورٹیڈ‘ وزیرِ اعظم بھی کہتے ہیں

معین قریشی نے نگراں وزیر اعظم کا عہدہ اس وقت سنبھالا جب میاں نواز شریف کی حکومت 18 جولائی 1993 میں ختم کی گئی۔

صدر غلام اسحاق خان اور میاں نواز شریف دونوں کو اس وقت کے فوج کے سربراہ جنرل عبدالوحید کاکڑ کے مشورے پر مستعفیٰ ہونا پڑا اور چیئرمین سینیٹ وسیم سجاد کو قائم مقام صدر مقرر کر دیاگیا۔

وسیم سجاد نے اٹھارہ جولائی کو نگراں وزیر اعظم کے عہدے کے لیے جس شخص کے نام کا اعلان کیا وہ زیادہ تر پاکستانی شہریوں کے لیے ایک اجنبی شخصیت تھی۔ معین الدین احمد قریش عالمی بینک کے سابق نائب صدر تھے اور امریکہ میں مقیم تھے۔

وہ معاشی امور کے ماہر تھے اور ان کو نگران وزیراعظم مقرر کر دیا گیا۔ اس وقت مخلتف حلقوں کی جانب سے انہیں ’امپورٹیڈ‘ وزیراعظم بھی کہا گیا۔ انہوں نے قوم سے اپنے پہلے خطاب میں کہا تھا کہ قرضے معاف کرانے والے اور نادہندگان انتخابات میں حصہ نہیں لے سکیں گے۔

معین قریشی 1930 میں لاہور میں پیدا ہوئے اور لاہور میں گورنمنٹ کالج اور پنجاب یونیورسٹی سے اکنامکس میں تعیلم حاصل کرنے کے بعد امریکہ کی انڈیانا یونیورسٹی سے اکنامکس میں پی ایچ ڈی کی ڈگری حاصل کی۔

انہوں نے اپنے کیرئیر کا زیادہ عرصہ عالمی بینک میں گزارا اور 1992 میں عالمی بینک سے ریٹائرمنٹ کے بعد امریکی گرین کارڈ ہولڈر کے طور پرامریکہ میں رہتے رہے۔

معین قریشی کی نگران کابینہ میں زیادہ تر ٹیکنو کریٹ اور کاروباری شخصیات کو شامل کیا گیا۔

معین قریشی نے بطور نگران وزیراعظم ملکی معیشت میں اصلاحات کے حوالے سے سخت اقدامات اٹھائے۔ ان اقدامات میں ملکی کرنسی کی قدر میں کمی اور مختلف شعبوں میں دی جانے والی سبسڈی میں کمی، ترقیاتی کاموں کے لیے وقف بجٹ میں کمی اور زرعی شعبے پر ٹیکس عائد کرنا شامل تھا۔

اس کے علاوہ انہوں نے ایسے سیاست دانوں کے خلاف اقدامات اٹھائے جہنوں نے بینکوں سے قرض حاصل کر رکھا تھا اور ان میں سے بعض کو انتخابات میں حصہ لینے کی اجازت نہیں دی گئی تھی لیکن اس کے ساتھ ان پر اپنے رشتہ داروں کو اعلیٰ عہدوں پر فائز کرنے کے الزامات بھی لگے۔

چھ اکتوبر 1993 میں ہونے والے عام انتخابات کے نتیجے میں پیپلز پارٹی کی حکومت قائم ہو گئی اور معین قریشی واپس امریکہ روانہ ہو گئے اور انہوں نے اپنے آخری خطاب میں کہا کہ نئی حکومت تلخیاں بھولا کر تعاون کا ماحول پیدا کرے۔ وہ آج کل امریکہ میں ہی وہیں مقیم ہیں۔

1996۔ ملک معراج خالد

لیفٹِسٹ دانشوار سے اسٹیبلِشمنٹ کے نگراں تک

ملک معراج خالد

ملک معراج کا سالوں تک پیپلز پارٹی سے تعلق رہا لیکن بعد میں ان کے بینظیر بھٹو کی قیادت سے کچھ اختلافات رہے

ملک معراج خالد بینظیر بھٹو کی دوسری حکومت کی برطرفی کے بعد نگراں وزیر اعظم بنے۔

پانچ نومبر 1996 میں حکمران جماعت پیپلز پارٹی کے ہی منتخب کردہ صدر مملکت فاروق لغاری نے آئین کے شق اٹھاون ٹی بی کے تحت پیپلز پارٹی کی حکومت برطرف کردی اور اس پر ’کرپشن اور ماورائے عدالت قتل‘ کے الزامات عائد کیے۔ انہوں نے اپنے دوست اور ذوالفقار علی بھٹو کے قریبی ساتھی ملک معراج خالد کو نگراں وزیر اعظم بنا دیا۔

ملک معراج کا سالوں تک پیپلز پارٹی سے تعلق رہا لیکن بعد میں ان کے بینظیر بھٹو کی قیادت سے کچھ اختلافات رہے۔ وہ پنجاب کے وزیر اعلی اور قومی اسمبلی کے سپیکر کے عہدوں پر بھی فائض رہ چکے تھے۔

ملک معراج خالد نے نگران وزیراعظم کا عہدہ سنبھالنے پر ملک میں عام انتخابات سے پہلے احتساب کا اعلان کیا اور اس دوران صدر مملکت کی جانب سے احتساب آرڈینس کے نام سے ایک نیا قانون معتارف کروایا۔ اسی قانون کے تحت سابق وزیراعظم بینظر بھٹو کے خلاف اسلامی سربراہی کانفرس کے لیے سینٹر کی تعمیر میں پینتیس کروڑ روپے کی کرپشن کرنے کا مقدمہ درج کیا گیا۔

اس کے علاوہ بینظیر بھٹو کے شوہر آصف علی زرداری کو بینظیر بھٹو کے بھائی میر مرتضیٰ بھٹو کے قتل کے الزام میں گرفتار کر لیا گیا۔

انتخابات سے ایک ماہ پہلے ہی نگراں وزیراعظم ملک معراج خالد نے ایک بیان میں کہا تھا کہ عوام سابق حکمرانوں کو انتخابات میں نہیں دیکھنا چاہتے۔

سابق وزیراعظم بینظیر بھٹو نے ملک معراج خالد کی نگراں انتظامیہ کے بارے میں اپنے تحفظات کا اظہار چیف آف آرمی سٹاف کو لکھے گئے خط میں کیا تھا جس میں انہوں نے کہا تھا کہ قومی اسمبلی کے پینسٹھ حلقوں میں دھاندلی کا خدشہ ہے۔

1997 کے انتخابات میں مسلم لیگ نے دو سو چار نشستوں میں ایک سو چونتیس جبکہ پیپلز پارٹی نے سترہ سیٹیوں میں کامیابی حاصل کی اور اسے پنجاب اسمبلی کی دو سو تیرہ سیٹوں میں سے صرف ایک میں کامیابی حاصل ہوئی۔

سابق وزیراعظم بینظیر بھٹو نے انتخابی نتائج کو تسلیم کرنے سے انکار کر دیا تھا لیکن احتجاج نہ کرنے کا بھی اعلان کیا تھا۔

ملک معراج خالد نے 1997 میں سیاست چھوڑ دی اور سنہ دو ہزار تین میں ان کا لاہور میں انتقال ہوگیا۔

2007۔ محمد میاں سومرو

مشرف کے بینکر دوست

محمد میاں سومرو

محمد میاں سومرو کا جنرل پرویز مشرف سے قریبی تعلق تھا

محمد میاں سومرو فوجی حکمراں جنرل پرویز مشرف کے دور میں منتخب ہونے والی ایوان کی مدت پورے ہونے پر نگراں وزیر اعظم تقرر کیے گئے۔ وہ اس سے پہلے سینیٹ کے چیرمین اور سندھ کے گورنر رہ چکے تھے، ان کا تعلق مسلم لیگ قاف سے تھا اور وہ پیشے سے بینکر تھے۔

سنہ 2007 میں وکلاء تحریک اور احتجاج کے سلسلے کے بعد فوجی صدر مشرف نے ملک میں ایمرجنسی نافذ کر دی تھی ۔ تاہم مغربی ممالک اور اندرونی دباؤ کی وجہ سے انہیں عام انتخابات کے انعقاد کا اعلان کرنا پڑا اور سولہ نومبر سال دو ہزار سات کو چیئرمین سینیٹ محمد میاں سومرو کو نگران وزیراعظم مقرر کر دیا گیا۔

محمد میاں سومرو کے دورِ اقتدار میں وکلاء تحریک عروج پر تھی اور سپریم کورٹ کے چیف جسٹس معزول تھے اور گھر میں نظر بند تھے۔ ان کے ہی دور میں سابق وزیراعظم بینظر بھٹو ایک قاتلانہ حملے میں ہلاک ہو ئیں اور ملک میں پُرتشدد احتجاج ہوا۔

ان فسادات اور احتجاجی مظاہروں کے بعد انتخابات ملتوی ہوئے اور آٹھ جنوری 2008 میں منعقد ہونے والے عام انتخابات کو اٹھارہ فروری کو کروانے کا فیصلہ کیا گیا۔

محمد میاں سومرو نگراں وزیراعظم تھے لیکن فوجی قیادت سے ریٹائر ہونے والے جنرل مشرف صدر مملکت کے عہدے پر فائز تھے اور دونوں کے درمیان قریبی تعلق تھا جس کی وجہ سے مسلم لیگ نون اور پیپلز پارٹی کی جانب سے انتخابات میں ممکنہ دھاندلی کے منصوبوں کے بارے میں اکثر تذکرہ سننے کو ملتا تھا۔

پچیس مارچ 2008 کو محمد میاں سومرو وزارت اعظمی سید یوسف رضا گیلانی کے سپرد کرنے کے بعد دوبارہ چیئرمین سینیٹ کے عہدے پر فائز ہو گئے۔

پھر اٹھارہ اگست سال 2008 کو جنرل مشرف کے صدر مملکت کے عہدے سے مستعفی ٰ ہونے کے بعد اور نو ستمبر سال دو ہزار آٹھ کو پیپلز پارٹی کے شریک چیئرمین آصف علی زرداری کے حلف اٹھانے تک محمد میاں سومرو قائم مقام صدر کے طور پر کام کرتے رہے اور اس کے بعد مارچ سال دو ہزار نو میں وہ بطور چیئرمین سینیٹ ریٹائر ہوئے۔

میاں محمد سومرو پر بھی اپنے من پسند افراد کو اعلیٰ عہدوں پر فائز کرنے کے الزامات لگے۔ اس کے علاوہ انہوں نے بطور نگراں وزیراعظم سابق چیئرمین سینیٹ کی مراعات میں غیر معمولی اضافہ کیا۔

BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔