پہلے تفتیش کریں، پھر الزام لگائیں: پاکستان

آخری وقت اشاعت:  بدھ 13 مارچ 2013 ,‭ 16:15 GMT 21:15 PST

پاکستان نے بھارت کے سیکرٹری داخلہ آر کے سنگھ کے الزامات کو سختی سے مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ بھارتی حکومت کے سینئیر ارکان کی جانب سے دیے جانے والے غیر ذمہ دارانہ بیانات سے دونوں ممالک کے تعلقات کو بہتر کرنے کی کوششوں کو نقصان پہنچے گا۔

پاکستان کے دفترِ خارجہ کی جانب سے بدھ کو جاری ہونے والے ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ پاکستان خود بھی دہشت گردی کا شکار رہا ہے اور اس نے اس لعنت کو ختم کرنے کے لیے بے پناہ قربانیاں دی ہیں۔

دفترِ خارجہ کے بیان کے مطابق پاکستان ہر قسم کی دہشت گردی کی مذمت کرتا ہے اور بھارتی حکومت سے درخواست کرتا ہے کہ وہ پاکستان کو اس واقعہ کا ذمہ دار قرار دینے سے پہلے اس کی مکمل تفتیش کرے۔

خیال رہے کہ بھارت کے زیرِانتظام کشمیر کے دارالحکومت سری نگر کے مضافات میں قانون نافذ کرنے والے ادارے کے کیمپ پر حملے میں پانچ سکیورٹی اہلکاروں سمیت سات افراد ہلاک ہوئے تھے۔

بھارت کے سیکرٹری داخلہ آر کے سنگھ نے اس حملے کے لیے پاکستان کو ذمہ دار ٹھہراتے ہوئے کہا تھا کہ اس حملے کی پشت پر پاکستان ہے کیونکہ بظاہر شواہد اسی جانب اشارہ کرتے ہیں۔

انھوں نے کہا ’بادی النظر میں یہ شدت پسند سرحد پار سے آئے تھے۔ شاید وہ پاکستان سے آئے تھے۔ ہمیں یہ اطلاعات تھیں کہ چار شدت پسند داخل ہوئے۔ ان میں سے دو کو ہلاک کر دیا گیا‘۔

انھوں نے کہا ’جو دو شدت پسند فرار ہونے میں کامیاب ہوئے وہ بھی مبینہ طور پر پاکستان سے آئے تھے۔ ان چاروں کے بارے میں کہا جا رہا ہے کہ ان کا تعلق لشکر طیبہ سے ہے‘۔

اسی بارے میں

متعلقہ عنوانات

BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔