کرّم: جرگے کے حکم پر اہلکار سنگسار

آخری وقت اشاعت:  بدھ 13 مارچ 2013 ,‭ 08:39 GMT 13:39 PST

چھ مقامی قبائل کے ایک جرگے نے سنگسار کرنے کی سزا سُنائی

پاکستان کے قبائلی علاقے کُرم ایجنسی میں جرگے کے حکم پر ایک سکیورٹی اہلکار کو سنگسار کر دیا گیا ہے۔

اس شخص پر ایک مقامی لڑکی سے ’ناجائز‘ تعلقات رکھنے کا الزام تھا۔ یہ لڑکی ایک مقامی تنظیم تحریک حُسینیہ کی تحویل میں ہے اور اسے ابھی تک سزا نہیں دی گئی ہے۔

مقامی انتظامیہ کے ایک اہلکار نے بی بی سی کو بتایا کہ سنگساری کا یہ واقعہ منگل کی شام پانچ بجے کے قریب ایجنسی کے صدر مقام پاڑہ چنار میں واقع توری قبرستان میں پیش آیا۔

اہلکار کے مطابق ہلاک ہونے والے فوجی جوان کا نام انور الدین خٹک بتایا جاتا ہے اور اس کا تعلق پنجاب کے ضلع میانوالی سے تھا اور اس کی لاش مقامی لوگوں نے انتظامیہ کے حوالے کر دی ہے۔

اس سوال پر کہ انتظامیہ نے اس واقعے کو روکنے کے لیے اقدامات کیوں نہیں کیے، اہلکار کا کہنا تھا کہ یہ ایک قبائلی علاقہ ہے اور سزا قبائلی روایات کے تحت دی گئی ہے اور انتظامیہ اس سلسلے میں کچھ نہیں کر سکی۔

تحریک حُسینیہ کُرم ایجنسی کے صدر منیر حسین نے بی بی سی اردو کے دلاور خان وزیر کو بتایا کہ مقامی لوگوں نے سکیورٹی اہلکار اور لڑکی دونوں کو اس وقت توری قبرستان سے پکڑا تھا جب وہ علاقے سے بھاگنے کی کوشش کر رہے تھے۔

انہوں نے کہا کہ بعد میں مقامی لوگوں نے دونوں کو تحریک حُسینیہ کے حوالے کر دیا تھا۔

منیر حسین کے مطابق بعدازاں چھ مقامی قبائل کے ایک جرگے نے دونوں کو سنگسار کرنے کی سزا سُنائی اور جرگے کے سزا کے بعد مقامی لوگوں نے اہلکار کو پتھر مار مار کر سنگسار کر دیا ہے جبکہ تاحال لڑکی کی سزا پر عملدرآمد نہیں ہوا ہے۔

انہوں نے کہا کہ اس جوڑے کے علاوہ ایک اور ایف سی کے اہلکار نے بھی علاقے کی ایک اور لڑکی سے ناجائز تعلقات قائم کیے تھے اور یہ اہلکار کُرم ایجنسی میں سکاؤٹس کے کرنل کی حراست میں ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ ’دونوں لڑکیاں قبائلی جرگے کے پاس موجود ہیں اور اس وقت تک انہیں سزا نہیں دی جائے گی جب تک مذکورہ ایف سی کے اہلکار کو قبیلے کے حوالے نہیں کر دیا جاتا۔‘

مقامی لوگوں کے مطابق دونوں لڑکیاں غیر شادی شُدہ ہیں اور ان کا فوجی اہلکار سے ٹیلیفون پر رابطہ رہتا تھا۔

یاد رہے کہ اہلکار پاڑہ چنار کے علاقے بھٹی چوڑایا کی ایک چیک پوسٹ پر تعینات تھے جہاں مبینہ طور پر ان کے ان لڑکیوں سے تعلقات قائم ہوئے تھے۔

مقامی لوگوں کا یہ بھی کہنا ہے کہ سنگسار کیے جانے والے جوان کا تبادلہ کشمیر ہوگیا تھا اور وہ مبینہ طور پر لڑکی کو اپنے ساتھ لے جانے کے لیے پاڑہ چنار آیا تھا۔

اسی بارے میں

متعلقہ عنوانات

BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔