ق لیگ کو ایک اور دھچکا

آخری وقت اشاعت:  جمعرات 14 مارچ 2013 ,‭ 11:23 GMT 16:23 PST

شیخ وقاص اکرم وزیرِ مملکت برائے محنت اور افرادی قوت کے وزیر ہیں

نئے انتخابات میں صرف چند مہینے باقی رہ گئے ہیں۔ اس دوران سیاسی جوڑ توڑ کا سلسلہ بھی جاری ہے اور متوقع امیدوار تیزی سے پارٹیاں تبدیل کر رہے ہیں۔ اسی سلسلے میں وفاقی وزیر اور مسلم لیگ ق کے رہنما شیخ وقاص اکرم حزب مخالف کی بڑی جماعت مسلم لیگ ن میں شامل ہوگئے ہیں۔

انہوں نے اس بات کا اعلان وزیر اعلیْ شہباز شریف سے ملاقات کے بعد ان کے ساتھ پریس کانفرنس میں کیا۔

شیخ وقاص اکرم مسلم لیگ ن سے اختلافات کی وجہ ان پر کڑی نکتہ چینی کرتے رہے ہیں، تاہم اب ان کا کہنا ہے کہ مسلم لیگ ن اور ان کے درمیان جو غلط فہمیاں تھیں، وہ اب ختم ہوگئی ہیں۔

وزیر اعلیْ پنجاب شہباز شریف نے وفاقی وزیر شیخ وقاص اکرم کی مسلم لیگ ن میں شمولیت کا خیرمقدم کیا اور کہا کہ شیخ وقاص اکرم کی مسلم لیگ ن میں شمولیت سے ان کو خوش ہوئی ہے۔

شیخ وقاص اکرم نے کچھ عرصہ پہلے ہی مسلم لیگ ق سے علیحدگی کا عندیہ دے دیا تھا تاہم انہوں نے مسلم لیگ ن میں شمولیت ایک ایسے وقت اختیار کی ہے جب موجود قومی اسمبلی تحلیل ہونے میں صرف دو دن باقی ہیں۔

شہباز شریف نے کہا کہ وقاص اکرم ان لوگوں سے ایک ہیں جو کرپشن سے پاک ہیں۔ وقاص اکرم نے کہا کہ انہوں نے حکومت کی کرپشن پر بھی آواز اٹھائی اور جو باتیں وہ منظر عام پر لائے اس پر مسلم لیگ ن نے عدالتوں میں قانونی چارہ جوئی کے لیے بھی رجوع کیا۔

"مسلم لیگ ن کے سربراہ نواز شریف کی قیادت پر اعتماد اس بات کا ثبوت ہے کہ نظریاتی مسلم لیگی مسلم لیگ سے باہر نہیں رہ سکتا۔"

شیخ وقاص اکرم

ان کے بقول مسلم لیگ ن کے سربراہ نواز شریف کی قیادت پر اعتماد اس بات کا ثبوت ہے کہ نظریاتی مسلم لیگی مسلم لیگ سے باہر نہیں رہ سکتا۔

شیخ وقاص اکرم 2008 کے انتخابات میں وسطی پنجاب کے علاقے جھنگ سے رکن قومی اسمبلی منتخب ہوئے تھے اور انہوں نے اپنے مدِمقابل کالعدم تنظیم سپاہ صحابہ کے رہنما محمد احمد لدھیانوی کو شکست دی تھی۔

اس حلقے سے مسلم لیگ ن کا امیدوار تیسرے نمبر پر رہا تھا۔

مسلم لیگ ن میں شامل ہونے والے شیخ وقاص اکرم کالعدم تنظیم سپاہِ صحابہ کے رہنما اعظم طارق کے قتل کی وجہ سے خالی ہونے والی قومی اسمبلی کی نشست جھنگ این اے 89 پر رکن اسمبلی منتخب ہوئے تھے۔

شیخ وقاص اکرم کے خلاف لاہور ہائی کورٹ کے روبرو بی اے کی جعلی ڈگری کے الزام میں نااہلی کی خلاف درخواست زیرِ سماعت ہے۔

اسی بارے میں

متعلقہ عنوانات

BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔