کراچی میں ٹینس کی گیند والے بم کا استعمال

آخری وقت اشاعت:  جمعرات 14 مارچ 2013 ,‭ 14:00 GMT 19:00 PST

پاکستان میں ٹینس کی گیند پر ٹیپ چڑھا کر بچے اور نوجوان کھلاڑی گلیوں، محلوں، سڑکوں اور میدانوں میں کرکٹ کھیلتے ہوئے نظر آتے ہیں لیکن ملک کے سب سے بڑے شہر کراچی میں ٹینس کی گیند کا استعمال قدرے مختلف ہے، یہاں پر اس گیند کو چھوٹے بم یا کریکر کے طور پر بھی استعمال کیا جا رہا ہے۔

سی آئی ڈی کے ایس ایس پی راجہ عمر خطاب کا کہنا ہے کہ بھتے کے کیسوں میں ملزمان پہلے لفافے میں گولیاں رکھ کر بھیجتے تھے، فائرنگ کرتے تھے یا پھر روسی ساختہ دستی بم پھینکتے تھے اور ان کیسوں میں سموک گرینیڈ کا استعمال بھی دیکھنے میں آیا ہے جن کے پھٹنے سے زوردار آواز پیدا ہوتی ہے۔

پولیس ٹینس بم کا موجد طالبان کو قرار دیتی ہے، جس کا زیادہ تر استعمال شہر کے غربی علاقے میں کیا جا رہا ہے، اس بم کی ترسیل اور ساتھ لے کر چلنا آسان ہے۔

پولیس کا خیال ہے کہ گولیوں کی تڑ تڑاہٹ سے اب کراچی کے عوام کے کان مانوس ہو چکے ہیں اور جرائم پیشہ افراد لوگوں کو ہراساں کرنے کے لیے زیادہ آواز پیدا کرنا چاہتے ہیں جس کے لیے ٹینس کی گیند میں ایسا بارود استعمال کیا جاتا ہے جس سے زوردار آواز پیدا ہو۔

ایس ایس پی راجہ عمر خطاب کا کہنا ہے کہ جرائم پیشہ افراد نے ٹینس کی گیند کے ایسے بم بنائے ہیں جو چھوٹے بم یا کریکر کی طرح کا کام کرتے ہیں اور زوردار آواز سے پھٹتے ہیں۔

’اس میں دو دو ملی میٹر کے بال بیئرنگ یا کیلیں وغیرہ بھی ڈال دی جاتی ہیں جن سے لوگ زخمی ہو جاتے ہیں، یہ زور سے پھینکنے پر اپنے وزن کی وجہ سے دیوار یا زمین سے ٹکرا کر پھٹ جاتا ہے جس سے ایک زوردار دھماکہ ہوتا ہے اور دھواں بھی اٹھتا ہے‘۔

"جرائم پیشہ افراد نے ٹینس کی گیند کے ایسے بم بنائے ہیں جو چھوٹے بم یا کریکر کی طرح کا کام کرتے ہیں اور زوردار آواز سے پھٹتے ہیں۔ اس میں دو دو ملی میٹر کے بال بیئرنگ یا کیلیں وغیرہ بھی ڈال دی جاتی ہیں جن سے لوگ زخمی ہو جاتے ہیں، یہ زور سے پھینکنے پر اپنے وزن کی وجہ سے دیوار یا زمین سے ٹکرا کر پھٹ جاتا ہے جس سے ایک زوردار دھماکہ ہوتا ہے اور دھواں بھی اٹھتا ہے۔"

ایس ایس پی راجہ عمر خطاب

پولیس اور عوام کے درمیان رابطےکا کام کرنے والے ادارے سٹیزن پولیس لیاژاں کمیٹی (سی پی ایل سی) کے سربراہ احمد چنائے کا کہنا ہے حالیہ کچھ عرصے کے دوران ایسے متعدد واقعات ہوچکے ہیں جن میں ٹینس کی گیند کریکر کے طور پر استعمال کی گئی ہے۔

احمد چنائے کہتے ہیں کہ ان دھماکوں میں ملوث چند ملزمان کو گرفتار بھی کیا گیا ہے جن کا تفتیش کے دوران کہنا ہے کہ وہ ٹینس کی گیند بازار سے خریدتے ہیں، اس میں بارود اور شارپنیل ڈالتے ہیں اور پھر اس پر ٹیپ چڑھا دیتے ہیں۔

ان کے بقول یہ کریکر چونکہ دیسی ساختہ ہے اور اس کا بنانا بھی آسان ہے اسی لیے اس کے استعمال میں اضافہ دیکھا جا رہا ہے۔

ٹینس گیند کا استعمال بھتہ خوری کے لیے کیا جا رہا ہے۔ احمد چنائے نے بتایا کہ ٹینس کی گیند سے بنے کریکرز کو عموماً دیکھا گیا ہے کہ دکانوں یا فیکٹریوں سے بھتہ وصول کرنے کے لیے استعمال کیا گیا اور گھروں پر پھینکنے کا رجحان اب تک سامنے نہیں آیا ہے۔

اسی بارے میں

متعلقہ عنوانات

BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔