جسٹس طارق پرویز نگراں وزیر اعلیٰ کے لیے نامزد

آخری وقت اشاعت:  جمعـء 15 مارچ 2013 ,‭ 11:17 GMT 16:17 PST

پاکستان کے صوبہ خیبر پختونخوا کے وزیر اعلیٰ امیر حیدر خان ہوتی اور اپوزیشن رہنما اکرام دُرانی نے نگراں وزیر اعلیٰ کے عہدے کے لیے ریٹائرڈ جسٹس طارق پرویز کو نامزد کر دیا ہے۔

دونوں رہنماؤں نے اس بات کا اعلان اسلام آباد میں ایک پریس کانفرنس کے دوران کیا۔

نگران وزیر اعلیٰ جسٹس (ر) طارق پرویز پندرہ فروری اُنیس سو اڑتالیس کو پشاور کے علاقے سکندر ٹاؤن میں پیدا ہوئے۔ جسٹس طارق پرویز گزشتہ چار دہائیوں سے قانون کے پیشے سے منسلک ہیں۔ انہوں نے 1972 میں پشاور ڈسٹرکٹ کورٹ سے وکالت کا آغاز کیا تھا اور 1975 میں پشاور ہائی کورٹ کا لائسنس حاصل کیا۔

طارق پرویزگیارہ سال تک ہائی کورٹ کی وکالت کے بعد 1983 میں سُپریم کورٹ کے وکیل بنے۔

جسٹس طارق پرویز انیس سو ستانوے میں پشاور ہائی کورٹ کے جج بنے جبکہ اپریل دو ہزار پانچ میں انہیں ترقی دے کر پشاور ہائی کورٹ کا چیف جسٹس تعینات کیاگیا۔

انہوں نے تین نومبر دو ہزار سات کو جنرل پرویز مُشرف کی جانب سے مُلک میں ایمرجنسی کے نفاذ کے بعد پی سی او کے تحت حلف اُٹھانے سے انکار کر دیا تھا۔

جسٹس طارق پرویز پانچ ستمبر دو ہزار آٹھ کو پی سی او کے تحت حلف اٹھانے والے پاکستان کے چیف جسٹس عبدالحمید ڈوگر کے دور میں پشاور ہائی کورٹ کا دوبارہ چیف جسٹس تعینات کیا گیا اور بیس اکتوبر دو ہزار نو کو انہیں سُپریم کورٹ کا جج بنایاگیا۔

جسٹس طارق پرویز نے لاء کالج پشاور یونیورسٹی سے 1971 میں لاء کی ڈگری حاصل کی تھی اور 1975 میں پشاور یونیورسٹی سے ہی پولیٹکل سائنس کی ڈگری حاصل کی۔

گورنر خیبر پختونخوا علی محمد جان اورکزئی کے دور میں وہ دو بار قائم مقام گورنر بھی رہ چکے ہیں۔

جسٹس طارق پرویز اسی سال چودہ فروری کو پینسٹھ برس کی عمر میں ریٹائر ہو ئے۔ ان کی تین بٹیاں اور ایک بیٹا ہے۔

متعلقہ عنوانات

BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔