’ڈرون حملے پاکستان کی خود مختاری کی خلاف ورزی ہیں‘

آخری وقت اشاعت:  جمعـء 15 مارچ 2013 ,‭ 16:46 GMT 21:46 PST
ڈرون

ایک اندازے کے مطابق ڈرون حملوں میں اب تک چار سو کے قریب عام شہری مارے جا چکے ہیں

پاکستان میں ہونے والے امریکی ڈرون حملوں کے نقصان کے بارے میں تحقیقات کرنے والی اقوامِ متحدہ کی ٹیم کے سربراہ نے کہا ہے کہ حملوں نے پاکستان کی خود مختاری کی خلاف ورزی کی ہے۔

خبر رساں ادارے اے پی کے مطابق اقوامِ متحدہ کے انسانی حقوق اور انسدادِ دہشتگردی سے متعلق خصوصی نمائندے بین ایمرسن نے کہا کہ پاکستان حکومت نے انہیں واضح طور پر بتایا ہے کہ حملوں میں ان کی مرضی شامل نہیں ہے، جبکہ امریکی حکام اس بات سے انکار کرتے ہیں۔

اقوامِ متحدہ کے اعدادوشمار کے متعلق بین ایمرسن کی طرف سے جمعہ کو اے پی کو بھیجی جانے والی ایک ای میل میں کہا گیا ہے کہ پاکستانی حکومت نے اس بات کی تصدیق کی ہے کہ اس کی سرزمین پر ہونے والے ڈرون حملوں میں کم از کم 400 کے قریب عام شہری مارے جا چکے ہیں۔

بین ایمرسن کے پاکستان کے اس دورے کو اس وقت تک صیغۂ راز رکھا گیا جب تک وہ پاکستان سے نکل نہ گئے۔

اے پی کے مطابق اقوامِ متحدہ نے پاکستان اور دیگر ملکوں میں ڈرون حملوں کے نتیجے میں عام شہریوں کی ہلاکت اور ٹارگٹ کلنگ پر تحقیقات جنوری سے شروع کی تھیں اور توقع ہے کہ وہ اکتوبر تک مکمل ہو جائیں۔

امریکہ ان حملوں کے بارے میں عموماً بات نہیں کرتا لیکن حکام نجی طور پر کہتے ہیں کہ ان میں عام شہری بہت کم ہلاک ہوئے ہیں۔

2012 میں اے پی کی طرف سے حالیہ دس خطرناک ترین حملوں کے بارے میں کی جانے والی تحقیقات کے مطابق ہلاک ہونے والوں میں ایک بڑی تعداد شدت پسندوں کی تھی جبکہ عام شہری بھی مارے گئے تھے۔

پاکستانی حکام ان حملوں پر یہ کہہ کر تنقید کرتے رہے ہیں کہ یہ پاکستان کی خود مختاری کی خلاف ورزی ہیں اور ان سے شدت پسندی کو ہوا ملتی ہے۔ جبکہ امریکی حکام پرائیویٹ طور پر کہتے ہیں کہ پاکستانی اور امریکی حکام میں اس کے متعلق تعاون ختم نہیں ہوا۔

اے پی کے مطابق بین ایمرسن نے کہا کہ پاکستان کہتا ہے کہ وہ اسلامی شدت پسندی کے خلاف خود ہی جنگ کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔.

اسی بارے میں

متعلقہ عنوانات

BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔